تعلیم عمران خان کے دس نکاتی پلان کا ایک حصہ ہے ،اقتدار میں آکر تعلیم میں اصلاحات ..
تازہ ترین : 1

تعلیم عمران خان کے دس نکاتی پلان کا ایک حصہ ہے ،اقتدار میں آکر تعلیم میں اصلاحات لائیں گے، خرم شیر زمان

تعلیم عمران خان کے دس نکاتی پلان کا ایک حصہ ہے ،اقتدار میں آکر تعلیم ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) پاکستان تحریک انصاف کراچی کے جنرل سیکریٹری و سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے سابق پارلیمانی لیڈر خرم شیر زمان نے پارٹی سیکرٹریٹ ’’انصاف ہائوس‘‘ کراچی سے جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تعلیم پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے دس نکاتی پلان کا ایک حصہ ہے اور ہم اقتدار میں آکر صوبہ سندھ میں تعلیم میں ضرور اصلاحات لائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم پی ٹی آئی کے انسانی ترقی کے ایجنڈے کا اہم سنگ میل ہے۔ تحریک انصاف کا یقین محکم ہے کہ تعلیم مفلسوں کو غریبی اور بھوک سے بچاتی اور معاشرے کو اخلاقی طور پر بہتر بناتی ہے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ طویل مدتی ترقی کے لیے تعلیم ایک بہترین ہتھیار ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے PS-110 کے امیدوار خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ سرکاری تعلیمی نظام میں وسیع ترقی بنیادی ڈھانچے اور معیار دونوں میں ضروری ہے۔

اسکول جانے والے بچوں کے والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولز میں نہیں بھیج سکتے کیونکہ اسکولوں کی فیسیں اور ٹیوشن کے اخراجات ناقابل برداشت ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے سبکدوش ہونے والے وزیر اعلیٰ نے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی تھی لیکن بعد میں یہ ایک خسارہ ثابت ہوا جب حکومتی اسکولوں میں بجلی ہی دستیاب نہ تھی اور آج بھی ساٹھ لاکھ کے قریب بچے اسکول نہیں جاتے، جبکہ ہر سال تعلیم پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تازہ ترین ایس اے ٹی ٹیسٹ ظاہر کرتے ہیں کہ پورے صوبے میں تعلیم کی سطح انتہائی پست ہے۔ ریاضی اور سائنس میں بچے پرائمری اور مڈل کی سطح پر انتہائی کمزور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سندھ میں خیبر پختونخواہ کی طرز پر تعلیمی اصلاحات لائے گی بشمول بنیادی ڈھانچے یعنی بائونڈری وال، پینے کے پانی،، ٹوائلٹ، برقی سہولیات، فرنیچر اور کمپیوٹر لیب وغیرہ ۔

ٹیچنگ اسٹاف کی میرٹ پر بھرتیاں۔ اسکول اور ٹیچرز کی مشکلات کا حل تلاش کرنے کے لیے اسیسمنٹ۔ نو سے سولہ سال تک کے بچوں کے لیے شام کے اسکولوں میں اسپیڈ لٹریسی پروگرام ۔آزاد مانیٹری یونٹ اور مفت کتابیں وغیرہ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں سرکاری اسکول سسٹم کو ترقی دینا بہت اہم ہے تاکہ جو والدین پرائیویٹ اسکولوں کا خرچ نہیں اٹھا سکتے اپنے بچوں کو مفت یا انتہائی کم قیمت پر سرکاری اسکولوں میں بھیجیں اور معیاری تعلیم حاصل کریں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/06/2018 - 18:05:14

اس خبر پر آپ کی رائے‎