حقوق وفرائض کی ادائیگی میں عدم توازن انتشار اور بے چینی کی ایک بڑی وجہ ہے‘ڈاکٹر ..
تازہ ترین : 1

حقوق وفرائض کی ادائیگی میں عدم توازن انتشار اور بے چینی کی ایک بڑی وجہ ہے‘ڈاکٹر طاہر القادری

اسلام نے مرد کی بطور باپ،خاوند، بھائی،بیٹے کے کچھ ذمہ داریاں متعین کی ہیں، اسی طرح خواتین کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں جن کو ادا کر کے ہم ایک پرامن گھرانہ اور پرامن معاشرہ کی تشکیل کو یقینی بناسکتے ہیں‘سربراہ عوامی تحریک کاشہر اعتکاف میں خطاب

حقوق وفرائض کی ادائیگی میں عدم توازن انتشار اور بے چینی کی ایک بڑی وجہ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ حقوق و فرائض کی ادائیگی میں عدم توازن کی وجہ سے گھریلو اور خاندانی زندگی میں انتشار ہے اور اس انتشار کے منفی اثرات عائلی زندگی کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں اسلام نے ہر طبقہ کے حقوق و فرائض متعین کیے جن میں خواتین کے حقوق قابل ذکر ہیں، اسلام نے مرد کی بطور باپ،خاوند، بھائی،بیٹے کے کچھ ذمہ داریاں متعین کی ہیں، اسی طرح خواتین کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں جن کو ادا کر کے ہم ایک پرامن گھرانہ اور پرامن معاشرہ کی تشکیل کو یقینی بناسکتے ہیں۔

انہوں نے ہزاروں خواتین معتکفین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کیلئے بہتر ہو اور پھر آپ نے فرمایا اور میں اپنے گھر والوں کیلئے تم سب سے بہتر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام انسانیت،اخلاق، کردار اور حسن عمل کا درس دیتا ہے اورآج ہم نے اپنی عادات و اطوار اور اعمال کا محاسبہ کرنا چھوڑ دیا ہے اور ہمیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ روز مرہ کی زندگی میں ہم کتنے حقوق ایسے ہیں جن کی ادائیگی ہمارے ذمہ ہے مگر انھیں ادا نہیں کر رہے، حقوق العباد کی ادائیگی کے تقاضوں کی نفی بے چینی اور بد امنی کی ایک بڑی وجہ ہے ، اگر حقوق العباد نظر انداز ہوں گے تو حقوق اللہ کی ادائیگی بھی کوئی نفع نہیں دے سکے گی، انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اہل ایمان میں سے کامل تر مومن وہ ہے جو ان میں سے بہترین اخلاق کا مالک ہے اور تم میں سے بہترین وہ ہیں جو اپنی بیویوں کیلئے اخلاق اور برتاؤ میں بہترین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خاندانی زندگی کا بنیادی اصول بھی رحمت پر مبنی ہے، بیویوں اور اہل خانہ پر نرمی اور شفقت کرنے کے حوالے سے حضور نبی اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کر کے ہم اپنی خاندانی اور گھریلو زندگی کو بہترین بنا سکتے ہیں، حضور نبی اکرم ﷺ کا اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ سلوک،انصاف اور شفقت پر مبنی تھا۔اس کے برعکس آج ہم نے اپنی زندگیوں کو روکھا،پھیکا اور محدود بنا دیا ہے اور اس میں سے تفریح، شفقت،نرمی،خوش طبعی اور لطف اندوزی کے عنصر کو نکال کر اپنے اہل و عیال کیلئے گھر کو جیل خانہ بنا دیا ہے۔خاوند بھی اور بیویاں بھی اپنے حالات اور معاملات کو بہتر کرنے کیلئے سیرت النبی ﷺ کا دلجمی کے ساتھ مطالعہ کریں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/06/2018 - 16:06:22

اس خبر پر آپ کی رائے‎