کچھ صحافی اس لیےمجھ پر تنقید کر رہے ہیں کیونکہ۔۔۔؟ ذلفی بخاری نے انوکھی منطق پیش ..
تازہ ترین : 1

کچھ صحافی اس لیےمجھ پر تنقید کر رہے ہیں کیونکہ۔۔۔؟ ذلفی بخاری نے انوکھی منطق پیش کر دی

روف کلاسرا کو اس بات کا دکھ ہے کہ ہم ان کو اپنے ساتھ عمرے پر نہیں لے کر گئے، ذلفی بخاری کا ٹویٹ

کچھ صحافی اس لیےمجھ پر تنقید کر رہے ہیں کیونکہ۔۔۔؟ ذلفی بخاری نے انوکھی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 جون 2018ء) : پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان اہلیہ کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہوئے ، اس موقع پر ان کے ہمراہ ان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری ، عون چودھری ، علیم خان اور ان کی اہلیہ بھی موجود تھیں۔۔پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کے دوست زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں ہونے کی وجہ سے انہیں جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا تھا۔

تاہم بعد میں ان کو جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔جس کے بعد کچھ صحافیوں کی طرف سے ذلفی بخاری اور عمران خان پر شدید تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ عمران خان ویسے تو بہت اصولوں کی بات کرتے ہیں لیکن وہ ایک ایسے شخص کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں جو کہ نیب کو مطلوب ہے۔صحافیوں نے عمران خان پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ عمران خان نے اپنا اثرو رسوخ استعمال کر کے ذلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکلوایا۔

اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ ذلفی بخاری نے ایک ٹویٹ کیا ہے کہ رؤف کلاسرا اس لیے میرے خلاف پروگرام کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا دکھ ہے کہ ہم انہیں ساتھ عمرے پر نہیں لے کر گئے۔جب کہ ارشد شریف اس لیے ہمارے خلاف بول رہے ہیں کیونکہ ہم ان کو مالدیپ نہیں لے کر گئے۔
رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ مجھے دکھ ہے کہ عمران خان کے ارد گرد ایسے لوگ موجود ہیں۔

اور اس سے ہمیں اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کو آنے والے وقت میں جن لوگوں نے چلانا ہے وہ کتنے سیریس ہیں۔اور ہمیں کل کو کتنے سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ مجھے تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری اور عمران خان کے سیکرٹری عون چوہدری کا کئی بار فون آیا اور انہوں نے کہا کہ عمران خان آپ سے ملنا چاہتے ہیں لیکن میں نے ملنے سے انکار کر دیا۔رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ عمران خان الیکشن کے قریب کوئی ایسی غلطی ضرور کریں گے جس کی وجہ سے سب لوگ الیکشن چھوڑ کر ان کی طرف متوجہ ہو جائیں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

اس خبر نوں پنجابی وچ پڑھو
وقت اشاعت : 14/06/2018 - 15:43:57

اس خبر پر آپ کی رائے‎