جہا زسے فون جاتے ہی 26 منٹ کے اندر زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکال دیا گیا
تازہ ترین : 1

جہا زسے فون جاتے ہی 26 منٹ کے اندر زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکال دیا گیا

زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں ہونے اور نام نکلوانے کی پوری کہانی سامنے آ گئی

جہا زسے فون جاتے ہی 26 منٹ کے اندر زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکال ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 جون 2018ء) : پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان اہلیہ کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہوئے ، اس موقع پر ان کے ہمراہ ان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری ، عون چودھری ، علیم خان اور ان کی اہلیہ بھی موجود تھیں۔ پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کے دوست زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں ہونے کی وجہ سے انہیں جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا لیکن حیران کُن بات یہ ہے کہ جہاز سے فون آنے کے26 منٹ بعد ہی زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکال دیا گیا، ایسا کیسے ہوا اس کی تمام تر تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

نجی ٹی وی چینل پر رپورٹر نے بتایا کہ اس کیس کے بڑے اہم پہلو ہیں۔ عمران خان نے اپنی کمپنی کے ہمراہ دو گھنٹے جہاز میں گزارے، جب اچانک سے علم ہوا کہ زلفی بخاری کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے اور وہ باہر سفر نہیں کر سکتے تو اس دوران تین ٹیلی فون کالز کی گئی تھیں۔ رپورٹر نے بتایا کہ عون چودھری اور علیم خان کے فون سے یہ کالز کی گئی تھیں۔ ایک اہم کال وزارت داخلہ میں آئی تھی، جس کے بعد 26 منٹ میں تمام پراسیس مکمل ہوا۔

2014ء کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے ۔ نگران وزیر اعظم نے اپنے حکام کو بلایا اور ان سے دیافت کیا کہ کس طرح ان کو وقتی طور پر اجازت دی جا سکتی ہے۔ جس پر انہیں بریفنگ دی گئی کہ جو لوگ بلیک لسٹ میں شامل ہوتے ہیں انہیں وقتی طور پر بھی اجازت نہیں دی جا سکتی لہٰذا ایسا نہیں ہوسکتا۔جس کے بعد نگران وزیر داخلہ نے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کیے اور 26 منٹ میں زلفی بخاری کو او ٹی پی دیا گیا، او ٹی پی دینے کے بعد یہ اہم بات سامنے آئی کہ قانون کے مطابق آپ کو متعلقہ ادارے سے اجازت لینا ضروری ہوتی ہے، جس کی سفارش پر کسی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یا بلیک لسٹ سے خارج کیا جاتا ہے۔

نیب سے اس سلسلے میں کوئی رائے طلب نہیں کی گئی۔نیب کو اس معاملے میں کنسلٹ نہیں کیا گیا جس کے بعد میڈیا پر آنے والی رپورٹس کا نگران وزیر داخلہ نے نوٹس لیا اور 11 سے ساڑھے 12 کے مابین گذشتہ روز میٹنگ ہوئی، نگران وزیر داخلہ کو دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیکرٹری وزارت داخلہ کی سفارش پر زلفی بخاری کو او ٹی پی دیا گیا،اس کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ جہاں قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے اس پر کارروائی کی جائے۔

قانون کے مطابق اجازت کے لیے متعلقہ ادارے یا عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے جبکہ زلفی بخاری کے معاملے میں ایسا کچھ نہیں کیا گیا اور ٹیلی فونک رابطوں سے ہی زلفی بخاری کو اجازت دے دی گئی۔ اور جو کچھ بھی ہوا 26 منٹ میں ہوا جس میں وزارت داخلہ کے قوانین کو توڑا گیا۔ نیب نے چھ ہفتے قبل زلفی بخاری سمیت آف شور کمپنیاں رکھنے والے کئی دیگر شخصیات کے نام بلیک لسٹ میں ڈالنے کے لیے وزارت داخلہ کو ہدایت کی تھی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/06/2018 - 15:11:18

اس خبر پر آپ کی رائے‎