زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکلوانے پر عمران خان کو تنقید کا سامنا
تازہ ترین : 1

زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکلوانے پر عمران خان کو تنقید کا سامنا

پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان لائیو پروگرام میں سخت سوالات پر آگ بگولہ ہو گئے

زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکلوانے پر عمران خان کو تنقید کا سامنا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 جون 2018ء) : پی ٹی آئی نے عام انتخابات کے لیے اپنے اُمیدواروں میں ٹکٹس تقسیم کر دئے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کو سخت تنقید کا سامنا ہے ، پی ٹی آئی نے جن اُمیدواروں کو ٹکٹس جاری کیے ان پر عوام کو کئی تحفظات ہیں۔ حال ہی میں عمران خان نے مبینہ طور پر بلیک لسٹ میں شامل زلفی بخاری کا نام نکلوایا اور انہیں اپنے ساتھ سعودی عرب لے گئے۔

اس پر نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی ارشد شریف نے پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان سے سوال کیا کہ کیا آپ نے ہمیں اس دن کے لیے خواب دکھائے تھے؟ کیا آپ نے ہمیں یہ نیا پاکستان دینے کا وعدہ کیا تھا؟ جس پر علی محمد خان نے کہا کہ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ میرا یا میری ٹکٹ کا کسی سے کیا تعلق ہے ، میرے حلقے کا تاحال فیصلہ ہی نہیں ہوا، یہ بہت معمولی چیزیں ہیں ، عمران خان پر تو ایسی ہزاروں ٹکٹیں قربان ہیں۔

لہٰذا ان چیزوں کو میرے ٹکٹ سے نہ جوڑیں۔ علی محمد خان نے ارشد شریف سے کہا کہ اب آپ نے یک طرفہ پروگرام نہیں کرنا جس پر ارشد شریف نے کہا کہ آپ یہاں جلسے کی تقریر نہیں کرنے آئے، میں نے آپ سے سوال کیا ہے لہٰذا آپ اس کا جواب دیں۔ ارشد شریف کےاتنا کہنے پر علی محمد خان نے کہا کہ آپ نے مجھ پر اور میرے لیڈر پر تقریر ہی کی ہے۔ ارشد شریف نے کہا کہ آپ کو جو ہدایات دی گئی ہیں کہ پروگرام میں جاؤ اور جا کر بدتمیزی کرو اور تقریر کرو وہ تقریر میں آپ کو نہیں کرنے دوں گا۔

علی محمد خان نے کہا کہ میں آپ کے ہر پروگرام میں آ کر اپنے لیڈر کا دفاع کروں گا۔ آپ کو کوئی حق نہیں ہے کہ آپ میرے لیڈر پر تنقید کریں ، ان سے متعلق معاملات پر سنسنی پیدا کریں اور ان کو بالی وڈ کے لوگوں سے تشبیہہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان عمرے پر گئے ہیں وہ نہ تو قوم کے پیسے سے گئے ہیں نہ ہی پارٹی فنڈ کے پیسے سے، ان کے ہمراہ زلفی بخاری تھے، انہوں نے کہا کہ اگر زلفی بخاری پر کیسز ہیں تو نیب اس کو پکڑ لے لیکن ایک طرفہ پروگرام کر کے زلفی بخاری کو ایک ولن کے طور پر پیش کرنا صحیح نہیں ہے۔

زلفی بخاری کو پروگرام میں بلائیں اگر کوئی غلط بات نکلے گی تو میں اور عمران خان ان کی کسی بات میں نہیں آئیں گے اور اس معاملے سے دستبردار ہو جائیں گے۔علی محمد خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے زلفی بخاری کو ٹیلی فون لائن پر لینے کا مطالبہ بھی کیا۔ ارشد شریف نے کہاکہ میرا زلفی بخاری سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے، میرا مسئلہ رول آف لاء کا ہے جو سب کے لیے برابر ہونا چاہئیے، جس پر محمد علی خان نے کہا کہ عمران خان ائیر پورٹ گئے تو ان کے ہمراہ زلفی بخاری تھے، عمران خان کو علم نہیں تھا کہ زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں تھا ، عمران خان کو علم ہوا تو وہ بیٹھے رہے ، انہوں نے زلفی صاحب کو ہدایت کی کہ آپ درخواست کریں اگر آپ کو اجازت ملتی ہے تو ساتھ چلیں ورنہ آپ واپس جائیں۔

زلفی بخاری نے درخواست کی کہ میں عمرہ پر جا رہا ہوں ،4،5 دنوں میں واپس آ جاؤں گا ، انہیں یہ درخواست کرنے کا پورا حق حاصل تھا، وزارت داخلہ کے پاس بھی ان کو اجازت دینے کا اختیار موجود تھا، جو بھی وہاں جائے اور اپلائی کرے اس کو اجازت مل جاتی ہے۔ زلفی بخاری پاکستان واپس آ چکے ہیں ، اگر کسی کے پاس ان کے خلاف ثبوت ہے تو جا کر پکڑ لیں ان کو۔ لیکن اس طرح سے سنسنی پھیلانا درست نہیں ہے۔ارشد شریف اور علی محمد خان کے مابین ہونے والی تلخ کلامی کی ویڈیو آپ بھی ملاحظہ بکیجئیے:

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/06/2018 - 14:42:36

اس خبر پر آپ کی رائے‎