سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مشرف طلبی کیس کی سماعت
تازہ ترین : 1

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مشرف طلبی کیس کی سماعت

سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا عبوری حکم واپس لے لیا پرویز مشرف وطن واپس نہیں آ رہے۔ وکیل کا عدالت میں بیان

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مشرف طلبی کیس کی سماعت
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 جون 2018ء) : سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سابق صدر پرویز مشرف کی طلبی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا عبوری حکم واپس لے لیا۔ سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف واپس نہیں آرہے۔ وکیل نے کہا کہ پرویز مشرف وطن واپس آنا چاہتے ہیں لیکن موجودہ حالات اور چھٹیوں کی وجہ سے نہیں آرہے۔

جس پر سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا عبوری حکم واپس لے لیا۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے انہیں اگلے ماہ ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی بھی اجازت دی ہے۔۔سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر کو 13 جون کو ذاتی حیثیت میں سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری برانچ میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لاہور رجسٹری میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے انتخابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست کی سماعت کی۔۔عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل ملک قمر افضل سے استفسار کیا کہ کیا ان کے موکل عدالت میں پیش ہو رہے ہیں جس پر پرویز مشروف کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر ان کی جان کے تحفظ کی ضمانت دی جائے تو ان کے موکل آئین شکنی کے مقدمے سمیت دیگر مقدمات کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف کی واپسی سے متعلق ان کی طرف سے پیش کی جانے والی شرائط کی پابند نہیں ہے۔۔عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل سے کہا کہ ان کے موکل کس خوف میں مبتلا ہیں اور کس بات کی ضمانت چاہتے ہیں۔۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اتنا بڑا کمانڈو وطن واپس آنے سے کیوں خوف زدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پرویز مشرف نے 1999ء میں اتنے بڑے ملک پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت انہیں خوف کیوں نہیں آیا؟پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کو رعشہ کی بیماری ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف ایئر ایمبولنس سے آجائیں تو ان کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیں گے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پرویز مشرف کی وطن واپسی سے متعلق سپریم کورٹ نے ملزم کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال کرنے کا بھی حکم دے رکھا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/06/2018 - 12:26:09

اس خبر پر آپ کی رائے‎