آزاد عدلیہ کا مطلب یہ ہے کہ انصاف سب کے لیے ہو،سینیٹر سراج الحق
تازہ ترین : 1

آزاد عدلیہ کا مطلب یہ ہے کہ انصاف سب کے لیے ہو،سینیٹر سراج الحق

پرویز مشرف سمیت کوئی سیاسی لیڈر اور جر نیل قانون سے بالاتر نہیں ہے،نصاف سے محروم معاشرے زیاد ہ دیر تک قائم نہیں رہتے،امیر جماعت اسلامی

آزاد عدلیہ کا مطلب یہ ہے کہ انصاف سب کے لیے ہو،سینیٹر سراج الحق
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ آزاد عدلیہ کا مطلب یہ ہے کہ انصاف سب کے لیے ہو۔ پرویز مشرف سمیت کوئی سیاسی لیڈر اور جر نیل قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ انصاف سے محروم معاشرے زیاد ہ دیر تک قائم نہیں رہتے۔۔پاکستان میں سیاست اور جمہوریت کی طرح عدالتیں بھی کبھی آزاد نہیں رہیں۔

لوگوں نے عدلیہ سے بڑی توقعات وابستہ کرلی ہیں اور عوام کو بڑی امید یں ہیںکہ اب کوئی قانون سے بالاتر نہیں رہے گا۔ الیکشن کمیشن آئین کی دفعہ 62/63پر عمل درآمد کو یقینی بنائے ۔ان خیالات کا اظہا رانہوں نے تیمرگڑھامیں ڈسٹرکٹ بار تیمر گڑھا کے صدر کفایت یار ایڈووکیٹ کی قیادت میں ملاقات کرنے والے وکلاء کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ دنیا میں انہی قوموں نے ترقی و خوشحالی حاصل کی ہے جنہوں نے قانون اور انصاف کو ہرچیز پر مقدم رکھا ہے۔

پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی کے خواب کو حکمرانوں اور اسٹیٹس کو کی قوتوں نے کبھی بھی شرمند ہ تعبیر نہیں ہونے دیا۔حکمرانوں کے لیے قانون موم کی ناک اور غریب کے لیے لوہے کے چنے ثابت ہوا ہے۔۔غریب کو کبھی انصاف نہیں ملا اور تھانے کچہری پر ہمیشہ جاگیرداروں ،وڈیروں اور سرمایہ کاروں کا قبضہ رہا ہے۔۔غریب کے لیے انصاف کے حصول کو ناممکن بنا دیا گیا ہے ۔

عدالتوں کے دروازے سونے کی چابی سے کھلتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکمران خود کو آسمانی مخلوق اور عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں ۔عام آدمی مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ موجودہ عدلیہ نے عوام کے اندر ایک امید کی کرن پیدا کردی ہے۔لیکن پانامہ لیکس کے بعد شروع ہونے والے احتساب کے عمل سے عوام نے جو توقعات لگائی تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں۔

قوم چاہتی تھی کہ قومی دولت لوٹ کربیرونی بینکوں میں جمع کرنے ،آف شور کمپنیاں بنانے،بینکوںسے اربوں روپے کے قرضے لے کر معا ف کرانے اور دبئی لندن اور نیویارک میں جائیدادیں بنانے والوں کو پکڑا جاتا اور سب کا بے رحم اور بے لاگ احتساب ہوتا مگر اب تک بات نواز شریف اور ان کے خاندان سے آگے نہیں بڑھ سکی۔انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کے 436ملزمان کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے اور لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کا میکنیزم بنایا جائے تاکہ عوام کو بھی کوئی ریلیف مل سکے۔

سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ عوام کی نظر یں 2018کے انتخابات پر لگی ہوئی ہیں ۔۔الیکشن کمیشن اگر اپنے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرانے میں کامیاب ہوگیا تو قوم کی چوروں اور لٹیروں سے جان چھوٹ جائے گی لیکن پہلے کی طرح الیکشن کمیشن بے بسی کا شکار رہا اور روایتی سیاستدانوں ،وڈیروں ،جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے اربوں کھربوں خرچ کرکے دوبارہ انتخابی عمل کو یرغمال بنا کر الیکشن نتائج پر قبضہ کر لیا تو عوام کو محرومی اور مایوسی کے سوا کچھ نہیںملے گا۔ انہوں نے کہا کہ دینی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل ملک وقوم کے لیے اللہ کا بڑا انعام ہے۔عوام کرپٹ حکمرانوں ،ظالم جاگیرداروں اور بے رحم سرمایہ داروں سے نجات کے لیے متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/06/2018 - 22:44:48

اس خبر پر آپ کی رائے‎