پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کا معاملہ ، اُمیدواروں کی شہرت جانچنے کے لیے خفیہ سروے
تازہ ترین : 1

پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کا معاملہ ، اُمیدواروں کی شہرت جانچنے کے لیے خفیہ سروے

پی ٹی آئی کا خلاف میرٹ اور سروے رپورٹ کے برعکس ٹکٹس دئے جانے کا انکشاف

پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کا معاملہ ، اُمیدواروں کی شہرت جانچنے کے لیے خفیہ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 13 جون 2018ء) : ملک بھر میں انتخابات کے پیش نظر سیاسی جماعتیں اپنے بہترین اُمیدواروں کو ٹکٹیں دینے پر غور کر رہی ہیں، ایک طرف جہاں ہر جماعت میں ٹکٹ سے متعلق بحث اور غور و فکر ہو رہی ہے وہیں پی ٹی آئی نے اپنے اُمیدواروں کو ٹکٹ جاری کر کے ان کی فہرست بھی جاری کر دی ہے۔ پی ٹی آئی کی ٹکٹ تقسیم کے معاملے پر کافی اعتراضات اُٹھائے گئے جس پر عمران خان نے کارکنوں اور رہنماﺅں کو اعتماد میں لیا۔

ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی نے کچھ حلقوں میں اپنے اُمیدواروں کی شہرت جانچنے کے لیے خفیہ سروے بھی کروائے لیکن اب ان خفیہ سروے اور سروے کی رپورٹس سے متعلق ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی میں خفیہ سروے رپورٹ کے برعکس خلاف میرٹ ٹکٹیں دینے کا انکشاف ہوا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی جو ہر وقت میرٹ کی بات کرتی ہے ، اس جماعت میں اس قسم کی سرگرمی قابل مذمت ہے۔

ٹکٹس کی تقسیم کے معاملے پر پی ٹی آئی کے اندر بھی کافی انتشار اور اختلاف پایا جاتا ہے ۔ پی ٹی آئی نے اپنی انتخابی فہرست میں مسلم لیگ ن کی رہنما نازیہ راحیل کو بھی نامزد کر دیا جس کی نازیہ راحیل نے تردید کی ۔ پارٹی کی جانب سے جاری کی جانے والی فہرست پر کئی کارکنان اور پارٹی رہنماؤں نے اعتراض اُٹھایا جس کے پیش نظر ناراض کارکنان نے گرینڈ الائنس کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دے دیا ہے جس میں مردان سے تعلق رکھنے والے کارکنان بھی شامل ہیں، اس گرینڈ الائنس کے ناراض کارکنان پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ کے باہر احتجاج کریں گے۔

پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان نے ٹکٹ نہ ملنے والوں کے لیے پیغام جاری کیا جس میں کہا گیا کہ انتخابی اُمیدواروں کو ٹکٹ کا اجرا ایک نہایت اہم لیکن کٹھن مرحلہ تھا۔ہمیں ساڑھے4 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، یہ ایک فطری امر تھا کہ سب کو ٹکٹس دینا ناممکن تھا۔ پارٹی نے نہایت محنت و دیانتداری سے فیصلے کیے، جہاں ضرورت محسوس کی خفیہ انداز میں عوام اور کارکنان سے رائے بھی طلب کی۔

دیرینہ کارکنان اور پارٹی وفاداری کو فیصلہ سازی میں ملحوظ خاطر رکھا گیا۔ پارٹی چئیرمین نے کہا کہ جن لوگوں کو ٹکٹس نہیں ملے، میں انہیں ساتھ چلنے کی دعوت دیتا ہوں۔ الیکشن کے پیش نظر پی ٹی آئی میں دیگر سیاسی جماعتوں سے کئی بڑے بڑے ناموں نے شمولیت اختیار کی ،عین ممکن ہے کہ پارٹی میں شمولیت کرنے والوں کو اعتماد میں لینے کے لیے پارٹی کے بانی رہنماؤں سمیت اہم رہنماؤں کو ٹکٹ جاری نہ کیا گیا ہو، پی ٹی آئی میں بڑے سیاسی ناموں کی شمولیت کا یہ سلسلہ نواز شریف کی نا اہلی اور الیکشن کے نزدیک آنے پر تیز ہو گیا جب مسلم لیگ ن سمیت دیگر سیاسی جماعتوں میں سے کئی بڑے بڑے سیاسی رہنماؤں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔

بڑے سیاسی ناموں کی پی ٹی آئی میں شمولیت اور ان کو ٹکٹ جاری ہونے کے معاملے پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو بھی اس بات کا اندازہ ہو گیا ہے کہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہو گی جس کی وجہ سے انہوں نے پی ٹی آئی میں شامل ہو کر اپنا سیاسی کیرئیر مزید محفوظ کر لیا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/06/2018 - 14:27:57

اس خبر پر آپ کی رائے‎