ٹی وی چینلز پر 5 وقت اذان نشر کرنے کا حکم معطل کردیا گیا
تازہ ترین : 1

ٹی وی چینلز پر 5 وقت اذان نشر کرنے کا حکم معطل کردیا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے چینلز پر پانچ وقت اذان نشر کرنے کا حکم معطل کردیا ہے

ٹی وی چینلز پر 5 وقت اذان نشر کرنے کا حکم معطل کردیا گیا
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔25 مئی 2018ء)   رمضان ٹرانسمیشن ضابطہ اخلاق سے متعلق سنگل بنچ کا فیصلہ ڈویژن بنچ نے معطل کر دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے 26 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے چینلز پر 5 وقت اذان نشر کرنے کا حکم معطل کردیا ہے۔

26 صفحات پر مشتمل عدالتی فیصلے میں مغرب کی اذان سے قبل اشتہارات نہ چلانے جب کہ درود شریف اور ملکی سلامتی کی دعائیں چلانے کا حکم بھی معطل کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد چلانے کے حوالے سے احکامات اور رمضان ٹرانسمیشن ضابطہ اخلاق پر عمل در آمد کے لیے وزارت داخلہ کی کمیٹی کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔عدالتی حکم نامئے کے مطابق عدالت نے پہلے عشرے کی جو عمل درآمد رپورٹ مانگی ہے وہ پیمرا کا اختیار ہے، پیمرا کے پاس ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرانے کا مکمل اختیار ہے جب کہ ہائی کورٹ ریگولیٹر کا کردار ادا نہیں کرسکتی، پیمرا ریگولیٹر ہے وہی چینلز کو اپنے ضابطہ اخلاق کا پابند بنائے اور چینلز رمضان کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے خود اقدامات اٹھائیں۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز کے نام ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں تمام ٹی وی چینلز کو حکم دیا گیاتھا کہ وہ پانچ وقت اذان کو ٹی وی چینل پر نشر کریں۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے رمضان کے دوران ہر قسم کے ٹی وی چینلز پر نیلام گھروں پر پابندی عائد کر دی تھی۔رمضان ٹرانسمیشن اور مارننگ شوز کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے تمام ٹی وی چینلز کے لیے حکم دیا ہے کہ ہر چینل کیلئے پانچ وقت کی اذان نشر کرنا لازم ہوگا۔تا ہم اب اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے چینلز پر 5 وقت اذان نشر کرنے کا حکم معطل کردیا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 25/05/2018 - 13:30:58

اس خبر پر آپ کی رائے‎