شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس
تازہ ترین : 1

شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس

مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا نواز شریف کی پالیسی پر تحفظات کا اظہار، شہباز شریف سے مداخلت کی درخواست

شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17 مئی 2018ء) ::مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس میں لیگی رہنماؤں نے پارٹی قائد نواز شریف کے بیانیے اور ان کی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شہباز شریف سے مداخلت کی درخواست کی۔ شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کو درپیش مشکلات اور سیاسی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں پارٹی اراکین نے شہباز شریف کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔ اراکین نے اجلاس میں کہا کہ نواز شریف کے بیان کے بعد ہمارے لیے ماحول سازگار نظر نہیں آرہا ،ارکان نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال میں ہمیں الیکشن مہم میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اجلاس میں پارلیمانی پارٹی کے اراکین نے شہباز شریف سے رہنمائی طلب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی بتائیں ہم کیا کریں۔

اجلاس میں شریک ارکان کی رائے تھی کہ محاذ آرائی کے بغیر ہی الیکشن لڑنا اور جیتنا چاہئیے، نواز شریف کے بیان کے بعد ماحول کافی ناسازگار ہو گیا ہے ، ہمیں محاذ آرائی سے اجتناب کرنا چاہئیے، لیگی اراکین نے کہا کہ جس نے بھی متنازعہ صحافی کو نواز شریف سے ملوایا وہ غدار ہے۔ جو بیانیہ شہباز شریف کا ہے وہی نواز شریف کا بھی ہونا چاہئیے۔ارکان نے اس معاملے میں شہباز شریف سے مداخلت کی درخواست بھی کی اور کہاکہ نواز شریف کو دیرینہ ساتھیوں سے صلاح کرنے کا مشورہ بھی دیں، نواز شریف کو آپ کو پہلے ہی پارٹی صدر بنا دینا چاہئیے تھا۔

پارلیمانی اراکین نے چودھری نثار علی خان کو واپس لانے کا مطالبہ بھی کیا ۔اراکین نے پارٹی صدر سے اپیل کی کہ ہمین اس بھنور سے نکالیں۔ شہباز شریف نے پارٹی اراکین کو یقین دہانی کروائی کہ میں آپ کے تحفظات اور تجاویز کو نواز شریف تک پہنچاؤں گا۔یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے کئی رہنما نواز شریف کے ملک مخالف بیانیے پر پارٹی کو خیر باد کہہ چکے ہیں، پانامہ لیکس کیس میں پی ٹی آئی کو بڑی کامیابی حاصل ہونے کے بعد سے ہی پی ٹی آئی کی سیاسی فتوحات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

پانامہ لیکس کیس میں نا اہل ہونے پر مسلم لیگ ن کے رہنما نواز شریف کو نہ صرف وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونا پڑا بلکہ انہیں پارٹی صدارت کے عہدے سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف نے سپریم کورٹ سے نا اہلی کے بعد عدلیہ مخالف بیانات دینا شروع کر دئے جن کی ان کے اپنے پارٹی رہنماؤں نے بھی مخالفت کی۔ نواز شریف کی عدلیہ اور ریاستی اداروں کے مخالف پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے کئی رہنما حکومتی جماعت سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں تاہم اب نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان کی وجہ سے بچے کُھچے پارٹی رہنماؤں نے بھی پارٹی چھوڑنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نواز شریف کے اس بیان سے ان کی پارٹی اور آئندہ الیکشن میں ان کے ووٹ بنک کو بھاری نقصان پہنچے گا ، جبکہ کچھ اطلاعات کے مطابق نواز شریف کے اس بیان کو لے کر پارٹی میں دھڑے بندی کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ لیکن نواز شریف اپنے بیان پر قائم ہیں اور ان کا کہناہے کہ میں سچ کہوں گا چاہے اس کے لیے مجھے کچھ بھی سہنا پڑے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/05/2018 - 12:40:59

اس خبر پر آپ کی رائے‎