نواز شریف کی پہلے عدلیہ پر تنقید اور اب فوج پر تنقید
تازہ ترین : 1

نواز شریف کی پہلے عدلیہ پر تنقید اور اب فوج پر تنقید

سابق وزیر اعظم نے اب انٹیلی جنس ایجنسی کو آڑے ہاتھوں لینے کا منصوبہ بنا لیا ، کیا کرنے والے ہیں؟ معروف صحافی کا انکشاف

نواز شریف کی پہلے عدلیہ پر تنقید اور اب فوج پر تنقید
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17 مئی 2018ء) ::نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی رﺅف کلاسرا نے کہا کہ میں اب نواز شریف کا مائنڈ سیٹ بتا رہا ہوں ، انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بیانات میں شدت آتی جا رہی ہے اور وہ شدت اس لیے آ تی جا رہی ہے کیونکہ اب ان کے پاس کوئی ڈیل میکر نہیں ہے ۔ نہ ہی ان کو ماضی کی طرح اب کوئی ڈیل میکر مل رہا ہے جو ان کی ڈیل کروا دے۔

پہلے ان کے پاس چودھری نثار علی خان تھے اور وہ جا کر ملٹری سے کوئی نہ کوئی ڈیل لے آتے تھے۔ چودھری نثار خود ملٹری کے خاندان سے تھے لہٰذا ان کو طریقے آتے تھے کہ کب فوجی کو دبایا جا سکتا تھا ۔ وہ جا کر دبا آتے تھے ۔اب صورتحال یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی اچھا پیغام رساں نہیں بچا، اب ان کے پاس چونکہ چودھری نثار علی خان جیسا سمجھدار آدمی کوئی نہیں ہے لہٰذا اب درمیان میں گیپ آ گیا ہے ، شہباز شریف سے وہ ملنے کو تیار نہیں ہیں، کیونکہ شہباز شریف پر کسی کو اعتبار نہیں ہے۔

کیونکہ ان کےبڑے صاحب کچھ کہتے ہیں اور یہ شام کو جا کر پاؤں پکڑ لیتے ہیں۔ نواز شریف نے پہلا بم پھوڑا ، دوسرا بم پھوڑا اور اب بات تیسرا بم پھوڑنے جا رہے ہیں، اب نواز شریف کارگل پر آئیں گے اور ان کے پاس کارگل کی جنگ کے حوالے سے کافی تفصیلات ہیں، ان کے پاس پوری معلومات ہیں کہ کارگل کی جنگ میں ہمارے کتنے فوجی شہید ہوئے تھے۔ ابھی تک ہمیں کارگل میں شہید ہونے والے فوجیوں کی اصل تعداد نہیں پتہ ۔

لیکن نواز شریف کے پاس تمام تفصیلات ہیں کہ جنرل مشرف نے ایک کارگل کےایڈونچر میں ، جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی، ہمارے فوجی کیسے شہید کروائے تھے۔ اگر نواز شریف یہ تفصیلات سامنے لے آئے تو یہ بہت خوفناک تفصیلات ہیں، اب انہوں نے دھمکی دی ہے، آرمی پر وہ حملہ کر ہی چکے ہیں لیکن اب انہوں نےا نٹیلی جنس ایجنسی پر حملہ کرنا ہے۔ دھرنے میں کون کون لوگ تھے ، اس میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر اسلام تھے ، مشاہد اللہ کا بی بی کے ساتھ انٹرویو کروایا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے پاس ان جرنیلوں کی ٹیپیں موجود ہیں، ان ٹیپوں میں جرنیلوں کی عمران خان اور طاہر القادری کے ساتھ گفتگو ہو رہی ہے۔

ان کا اگلا قدم وہی ہے کہ اب وہ ٹیپیں سامنے لائیں گے، عمران خان کی ٹیپ بھی آ سکتی ہے اور جنرل ظہیر اسلام کی ٹیپ بھی آ سکتی ہے، اور کہا جائے گا کہ یہ جرنیل مل کر سیاستدانوں کے ساتھ دھرنے کروا رہے تھے اور ہماری حکومت کے خلاف سازشیں کر رہے تھے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/05/2018 - 11:22:31

اس خبر پر آپ کی رائے‎