نوازشریف کے بیان پر پاکستان گرے سے بلیک لسٹ میں جارہا ہے،شاہ محمود قریشی
تازہ ترین : 1

نوازشریف کے بیان پر پاکستان گرے سے بلیک لسٹ میں جارہا ہے،شاہ محمود قریشی

ہم نواز شریف سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ۔اس بیان کی ضرورت کیا تھی، اگر بیان غلط انداز میں پیش کیا گیا تو شہباز شریف اور چوہدری نثار وضاحتیں کیوں دے رہے ہیں نواز شریف خود پریس کانفرنس کرکے قوم سے معافی مانگیں،ورنہ مقدمہ درج کیا جائے، قومی اسمبلی میں خطاب

نوازشریف کے بیان پر پاکستان گرے سے بلیک لسٹ میں جارہا ہے،شاہ محمود ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) نواز شریف کے اس بیان سے ہم گرے لسٹ سے بلیک لسٹ کی طرف جارہے ہیں۔ وزیراعظم اس معاملے میں ایوان کو اعتماد میں لیں۔ یہ بات تحریک انصاف کے وایس چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ نواز شریف کے متنازعہ بیان پر اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کہتے ہیں کہ جو میں نے کہا اس میں غلط کیا ہے۔

ہم نواز شریف سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ۔اس بیان کی ضرورت کیا تھی۔ڈان لیکس والے صحافی کو پروٹوکول کے ساتھ ائیر پورٹ سے لے جایا جا تا ہے۔کیا ہم بیرونی دنیا کے آلہ کار بن رہے ہیں نوازشریف کے بیان کی وجہ سے پاکستان اور بھارت میں کھلبلی مچ گئی ہے۔اس بیان پر نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بلانا پڑا، آج پھر نواز شریف نے سیکیورٹی کمیٹی کے بیانیہ کو مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مریم اور نواز شریف انداز بیان سے لگتا ہے کہ یہ بیان جان بوجھ کر دیا گیاہے۔ نواز شریف کے اس بیان پر حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی ساتھ نہیں دے رہیں۔۔وزیراعظم کہتے ہیں کہ نواز شریف کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیاہے۔ اگر ایسا تھا تو پھر سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس کیوں بلا یا گیا۔لوگوں نے نواز شریف کے خلاف ایف آئی آرز کٹوانا شروع کر دی ہیں۔

سپریم کورٹ بار آج پٹیشن دائر کرنے کو ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر بیان غلط انداز میں پیش کیا گیا تو شہباز شریف اور چوہدری نثار وضاحتیں کیوں دے رہے ہیں۔آج بھارت امریکہ کا بہترین اتحادی ہے اس لیے ہمارا بیانیہ مسترد کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ نواز شریف خود پریس کانفرنس کرکے قوم سے معافی مانگیں۔ اگر نواز شریف معافی نہیں مانگتے تو ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

جو موقف وزیراعظم نے دیا وہ پاکستان کا موقف ہے۔ نواز شریف کا موقف پاکستان کے خلاف ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب یہ واقعہ ہوا تھا میں دلی میں ہی تھا۔ صورتحال خراب ہوگئی تھی ۔مجھے زرداری صاحب نے کہا واپس آ۔ لیکن میں ڈرا نہیں، وہاں صحافیوں اور دیگر لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور وہاں بیٹھ کر میں نے پاکستان کا مقدمہ پیش کیا ۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نریندمودی کے ایجنڈے کو پورا خطہ جانتا ہے ۔

یہ پاکستان کے موقف کو نیچے دکھانے کا منصوبہ ہے ۔انہوں نے اپنا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ نوازشریف بیان کے حوالے سے قوم سے معافی مانگیں بصورت دیگرنوازشریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے اور ان پر مقدمہ چلایا جائے۔نون لیگ کا امتحان ہے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا نوازشریف کے ساتھ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 15/05/2018 - 19:37:36

اس خبر پر آپ کی رائے‎