نواز شریف کو کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے‘ جس شخص نے دبائو ..
تازہ ترین : 1

نواز شریف کو کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے‘ جس شخص نے دبائو برداشت کرکے پاکستان کو جوہری قوت بنایا اس کے خلاف الزامات افسوسناک ہیں‘ قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان کی طرف سے جان بوجھ کر ممبئی حملوں کے لئے حملہ آوروں کو بھیجنے کے الزام اور اس کی غلط رپورٹنگ کی مذمت کی ہے‘ پاکستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر کاربند رہیں گے‘ نواز شریف نے جس ایشو پر بات کی ہے اس پر ماضی میں جنرل (ر) پرویز مشرف ‘ جنرل (ر) شجاع پاشا‘ جنرل درانی ‘ عمران خان اور رحمان ملک کے بیانات بھی موجود ہیں، انتہا پسندوں اور غیر ریاستی عناصر کے بارے میں ایک جملہ غلط طریقے سے رپورٹ ہوا ہے‘ نواز شریف نے یہ نہیں کہا تھا کہ جن لوگوں نے ممبئی پر حملہ کیا تھا وہ لوگ پاکستان نے جان بوجھ کر بھیجے تھے‘ یہ اخذ شدہ تاثر بے بنیاد اور حقائق کے منافی اور مس رپورٹ ہے، اگر پارلیمنٹ حقائق اور مفاہمتی کمیشن بنانا چاہتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ محمد نواز شریف کو کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے‘ جس شخص نے دبائو برداشت کرکے پاکستان کو جوہری قوت بنایا اس کے خلاف الزامات افسوسناک ہیں‘ قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان کی طرف سے جان بوجھ کر ممبئی حملوں کے لئے حملہ آوروں کو بھیجنے کے الزام اور اس کی غلط رپورٹنگ کی مذمت کی ہے‘ پاکستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر کاربند رہیں گے‘ اگر پارلیمنٹ حقائق اور مفاہمتی کمیشن بنانا چاہتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

منگل کو قومی اسمبلی میں شاہ محمود قریشی‘ شازیہ مری‘ صاحبزادہ طارق اللہ اور دیگر کی طرف سے محمد نواز شریف کے انٹرویو کے حوالے سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے ایک مسئلہ اٹھایا جا رہا ہے جو اخبارات کی زینت بن رہا ہے۔ جن دوستوں نے ایوان میں دھواں دار تقریریں کی ہیں‘ انہوں نے محمد نواز شریف کا وہ انٹرویو بھی نہیں پڑھا ہوگا۔

اگر وہ انٹرویو پڑھتے تو یہ بات نہ کہتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ غلط الزامات لگانے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے تھا کہ وہ اس شخص پر الزامات لگا رہے ہیں جس شخص نے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا اور دبائو برداشت کرکے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے سابق وزیراعظم کے حوالے سے جو ایشو اٹھایا ہے وہ محمد نواز شریف کے ایک تفصیلی انٹرویو کا معمولی سا حصہ تھا۔

بھارتی میڈیا نے اسے اپنے مقاصد کے لئے توڑ مروڑ کر پیش کیا اور ہماری بدقسمتی ہے کہ بھارت نے اپنے مقاصد کے لئے جو کچھ کیا ہم نے بھی وہی باتیں لکھنی شروع کردیں اور بھارتی مقاصد کے لئے استعمال ہونا شروع ہوئے۔ کیا ہم اپنے آپ کو بھارتی مقاصد کے لئے استعمال ہونے کی اجازت دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ محمد نواز شریف نے جس ایشو پر بات کی ہے اس پر ماضی میں جنرل (ر) پرویز مشرف ‘ جنرل (ر) شجاع پاشا‘ جنرل درانی ‘ عمران خان اور رحمان ملک کے بیانات بھی موجود ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ انتہا پسندوں اور غیر ریاستی عناصر کے بارے میں ایک جملہ غلط طریقے سے رپورٹ ہوا ہے‘ نواز شریف نے یہ نہیں کہا تھا کہ جن لوگوں نے ممبئی پر حملہ کیا تھا وہ لوگ پاکستان نے جان بوجھ کر بھیجے تھے‘ یہ اخذ شدہ تاثر بے بنیاد اور حقائق کے منافی اور مس رپورٹ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان کی حکومت کی یہ دیرینہ پالیسی رہی ہے کہ ہم اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

یہ صرف ہماری پالیسی نہیں تھی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اور پرویز مشرف کے دور میں بھی پاکستان کی یہی پالیسی تھی اور مستقبل کی پالیسی بھی یہی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کے تناظر میں قومی سلامتی کا اجلاس طلب کیا گیا تاکہ اس میں صورتحال واضح ہو سکے۔ اسے کوئی اور رنگ نہیں دینا چاہیے اور نہ ہی اس ایشو کو پھیلانا چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر پارلیمان کے ارکان حقائق اور مفاہمتی کمیشن بنانا چاہتے ہیں تو ہم اس کے لئے تیار ہیں‘ اس طرح کے کمیشن پر بھی بات ہونی چاہیے لیکن قومی سلامتی سے متعلق معاملوں کو پریس کانفرنس کا موضوع بنانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 15/05/2018 - 13:20:12

اس خبر پر آپ کی رائے‎