وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس کا ڈیٹا پی ٹی وی کے ریکارڈ سے ڈیلیٹ ..
تازہ ترین : 1

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس کا ڈیٹا پی ٹی وی کے ریکارڈ سے ڈیلیٹ

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس لائیو نہ دکھانے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس کا ڈیٹا پی ٹی وی کے ریکارڈ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 15 مئی 2018ء) : وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی گزشتہ روز پریس کانفرنس لائیو نہ دکھانے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی نیوز کانفرنس کا ڈیٹا پی ٹی وی کے ریکارڈ سے ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع نےبتایا کہ نیوز کانفرنس کے بعد پی ٹی وی کے عملے کو وزیر اعظم ہاؤس سے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

پی ٹی وی کے عملے کو وزیر اعظم ہاؤس میں روک کر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی نیوز کانفرنس کی ڈی وی ڈیز تیار کروائی گئیں۔ ڈی وی ڈیز تیار کروانے کے بعد پی ٹی وی کے عملے سے نیوز کانفرنس کا تمام ریکارڈ ڈیلیٹ کروادیا گیا۔ یہ تمام کام وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے اپنی نگرانی میں کروایا، ڈی وی ڈیز تحویل میں لینے کے بعد سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کو وزیراعظم ہاؤس سے جانے کی اجازت دے دی گئی۔

یاد رہےکہ نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان پر گزشتہ روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کا اعلامیہ جاری ہونے کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو اس معاملے پر ایک نیوز کانفرنس کرنا تھی جس کے لیے صحافیوں کو وزیر اعظم ہاؤس دعوت دی گئی لیکن پی ٹی وی کے علاوہ کسی ٹی وی چینل کی کیمرہ ٹیم کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

دوسری جانب اس معاملے پر گزشتہ روز بات کرتے ہوئے معروف صحافی حامد میر نے نیوز کانفرنس کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال ، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے جوابات کی تمام تر تفصیل بتا دی۔ حامد میر کا کہنا  تھا کہ میں اس نیوز کانفرنس میں موجود تھا، سرکاری ٹی وی نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس کو براہ راست نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور میرا نہیں خیال کہ اسے ہو بہو نشر کیا جا سکتا تھا کیونکہ اس پریس کانفرنس میں صحافیوں نے شاہد خاقان عباسی سے جو بھی سوالات کیے ہیں وہ ان کا صحیح طور پر جواب نہیں دے سکے۔

انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس کے دوران شاہد خاقان عباسی کافی کنفیوژ تھے اور ان کے دائیں بائیں جو وزرا بیٹھے ہوئے تھے وہ بھی کافی پریشان تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آج قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی اوراجلاس کی جو پریس ریلیز جاری ہوئی ہے اس میں ڈان اخبار میں نواز شریف کے حوالے سے جو بات شائع ہوئی اس کی مذمت کی گئی تھی۔

لیکن ابھی جو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس کی اس میں ابھی جو کی اس میں انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد میری نواز شریف سےملاقات ہوئی ہے اور نواز شریف نے کہا کہ ڈان کے انٹرویو میں عسکریت پسند تنظیموں سے متعلق ان کے جو بیانات شائع ہوئے ہیں اور جو باقی ساری باتیں ہیں ان کو مس رپورٹ کیاگیا ہے۔ اس بات پر میں فوری طور پر ان سے سوال کیا کہ آپ نے پہلے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں آپ نے ان کے بیان کی مذامت کی ہے اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف اپنے بیان کی تردید کر رہے ہیں جبکہ آج صبح احتساب عدالت میں نواز شریف نے میڈیا سے بات کی ہے اور ڈان کا انٹرویو صحافیوں کو خود پڑھ کر سنایا ہے اور کہاکہ بتائیں میں نے کون سی بات غلط کی ہے۔

وہ اپنے انٹرویو پر قائم ہیں۔ لیکن آپ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کے مطابق انہیں مس کوٹ کیا گیا ہے۔ نواز شریف نے خود اس کی تردید کیوں نہیں کی؟ اس بات کا شاہد خاقان عباسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ پھر ان سے سوال کیاگیا کہ اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کے بیان کو مس کوٹ کیا گیا تو جس اخبار نے یہ بیان شائع کیا ، کیا آپ اس کے خلاف کوئی کارروائی کریں گے؟ تو اس کا بھی ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

پھر ان سے کافی واضح الفاظ میں پوچھا گیا کہ نواز شریف کے بیان کے بعد ملک میں اب جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ نواز شریف اپنے بیان پر قائم ہیں، شہباز شریف نے ان کے بیان کو کہا کہ مس رپورٹ ہوا ہے، آپ نے بھی یہی کہا ، نواز شریف نے اپنے بیان پر ڈٹے رہ کر آپ کو اور شہباز شریف کو غلط ثابت کر دیا ہے ، اب آپ یہ بتائیں کہ آپ میں سے کون استعفیٰ دے گا ۔

اس سوال پر وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی دفاعی پوزیشن میں آگئے اور کچھ سوچ بچار کے بعد کہا کہ میں استعفیٰ نہیں دوں گا ۔ وزیر اعظم کے پاس پریس کانفرنس میں کسی ایک سوال کا بھی صحیح جواب نہیں تھا ۔ ان سے ایک ہی سوال بار بار کیا جا رہا تھا کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس کے بعد آپ جو وضاحت کر رہے ہیں ، نواز شریف خود کیوں اپنے بیان کی وضاحت نہیں کررہے۔

اس پر ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ، پھر انہوں نے ایک اور یو ٹرن لیا ، اور کہاکہ نیشنل سکیورٹی کونسل کے بعد جو پریس ریلیز جاری ہوئی ،اس میں نواز شریف کے بیان کی نہیں بلکہ اخبار کی رپورٹنگ کی مذت ہوئی ہے ،جس پر تمام صحافیوں نے ان سے کہا کہ وزیر اعظم صاحب اب آپ یہ غلط کر رہے ہیں اورخود اس معاملے کو مس رپورٹ کر رہے ہیں،آپ نے ایک اجلاس کی صدارت کی ، آپ کی مرضی سے آپ کی اپنی تائید سے اجلاس کا اعلامیہ جاری ہوا اور اب آپ اس اعلامیے کو اپنی مرضی کے مطابق ٹوئسٹ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

آخر میں ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا ابھی بھی آپ یہ کہیں گے کہ آپ کا اصل وزیر اعظم نواز شریف ہے؟ تو پہلے تو انہوں نے بات کو گھمانے کی کوشش کی، لیکن جب ان سے دوبارہ یہ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں نواز شریف کے ساتھ ہوں، شاید یہی صورتحال تھی اور ان کو علم تھا کہ آج سوالات ایسے ہوں گے جن کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا، اسی لیے پاکستان ٹیلی ویژن نے ان کی پریس کانفرنس کو براہ راست نشر نہیں کیا اور میرا نہیں خیال کہ اس پریس کانفرنس کو ہو بہو دوبارہ نشر کیا جائے گا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 15/05/2018 - 12:50:28

اس خبر پر آپ کی رائے‎