دبئی میں پاکستانی شہری نے پاکستانی خاتون کے گھر گھس کر اُسکی عزت لوٹ لی
تازہ ترین : 1

دبئی میں پاکستانی شہری نے پاکستانی خاتون کے گھر گھس کر اُسکی عزت لوٹ لی

دبئی میں پانچ امارتی شہری اور چار پاکستانی شہری خاتون کے گھر گھس کر چوری کرنے اور اُسکی عزٹ لوٹنے کے جُرم میں مطلوب

دبئی میں پاکستانی شہری نے پاکستانی خاتون کے گھر گھس کر اُسکی عزت لوٹ ..
دبئی (اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) دبئی عدالت میں گزشتہ روزایک مفرور24 سالہ امارتی شہری اور ایک پاکستانی شہری کے خلاف پاکستانی خاتون کے گھر گھس کر اُسکے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے جُرم مقدمے کی سنوائی ہوئی۔ مزید تفصیلات کے مطابق دونوں باشندے خاتون کے گھر چوری کرنے کی غرض سے گھسے تھے۔ گزشتہ روز دبئی عدالت میں ان دونوں باشندوں کے کیس کی پہلی سنوائی تھی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق امارتی اور پاکستانی شہری خاتون کے گھر گھس گئے تھے اور انہوں نے خاتون کے ساتھ چاقو کے زور پر جنسی زیادتی کرنے کے ساتھ ساتھ اُسکے گھر سے 15،970 درہم نقدی ، دو سونے کے ہار اور خاتون کے ساتھ ساتھ اُسکے باقی کے فلیٹس میں رہنے والے ساتھیوں کے 9 موبائل فونز بھی چوری کیے تھے۔ حادثہ دبئی کے المراقبت کے علاقے میں ایک مشترکہ گھر میں 6 مئی کو ہوا تھا۔

عدالت نے مجموعی طور پر 9 لوگوں پر ڈاکیتی کا چارج لگایا ہے جن میں 5 امارتی اور 4 پاکستانی شہری شامل ہیں۔ تمام ملزموں کی عمریں 20 سے 37 سال کے درمیان میں ہیں۔ جس خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی تھی اُسکی عمر 34 سال تھی اور پاکستانی شہری تھی۔ خاتون ایک فَرم میں اکاونٹس کے ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتی تھی۔ خاتون الوہیدہ کے علاقے میں نو کمروں پر مشتمل دو منزلہ مکان میں رہائش پذیر تھی۔

خاتون نے بتایا کہ وہ جس گھر میں رہ رہی تھی اسکے باقی کے فلیٹس میں کنوارے اور شادی شدہ لوگ رہتے تھے ، لیکن وہ کسی سے بات چیت نہ کرتی تھی اور اپنے کمرے میں اکیلی رہتی تھی۔ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ 6 مئی کے روز رات کے ڈیڑھ بجے وہ اپنے شوہر کے کزن کے ساتھ فلیٹ میں موجود تھی کہ سات لوگ اُسکے کمرے میں گھسے اور چاقو سے ڈرا دھمکا کر اُسکی تمام قیمیتی اشیاء چرا ئی اور اسکے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی۔

خاتون نے مزید بتایا کہ جس رات اسکے گھر چوری ہوئی اور اسکے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اس کے کچھ ہم وطن رشتے دار اُسکے گھر آنے والے تھے کیونکہ انھیں اس سے 1،000 درہم ادھار چاہیے تھے۔ پاکستانی خاتون کا کہنا تھا تمام ڈاکیتوں نے ہاتھوں میں چاقو پکٹر رکھے تھے اوران میں سے تین نے اپنے چہرے بھی چھپا رکھے تھے۔ چونکہ حملہ آوراسلحے سے لیس تھے اس لیے کسی نے بھی مزاحمت نہیں کی تھی کیونکہ سب کو اپنی جان پیاری تھی۔

پاکستانی خاتون نے پولیس کو بتایا کہ جب ایک پاکستانی اور امارتی شہری نے اسے گھسیٹ کر باتھ روم میں لے جانے کی کوشش کی تو اسکے مزاحمت کرنے پر انہوں نے اسکے منہ پر تھپڑ مارا اور پھر گھسیٹ کر باتھ روم میں لے جا کر اسکے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ پولیس کے خاتون سے پوچھنے پر کہ کیا وہ ملزمان کو پہچان سکتی ہے یا نہیں تو خاتون نے جواب دیا کہ اسے صرف ایک شخص کا چہرہ یاد ہے جبکہ باقی کے افراد نے چہرے چھپا رکھے تھے۔

خاتون نے مزید بتایا کہ ملزمان جاتے ہوئے سب کو دھمکا کر گئے تھے کہ سب اپنا منہ بند رکھیں بصورت دیگر وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔ خاتون نے ڈاکووں کے جانے کے بعد پریشان اور پُرسان حال میں گھر کے باہر کھڑے ایک آدمی کے فون سے پولیس کو اطلاع دی ، عینی شاہدین نے پولیس کو بتایا کہ انھیں باقی کی خواتین نے بتایا کہ انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا ہے لیکن انکے ساتھ جنسی زیادتی نہیں ہوئی ہے۔

خاتون کے ساتھ والے کمرے میں رہائش پذیر21 سالہ پاکستانی خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنے کمرے میں موجود تھی جب یہ واقع پیش آیا۔ عدالت نے تمام لوگوں کے بیانات ریکارڈ کروا لیے ہیں۔ تاہم عدالت نے کیس کا کوئی فیصلہ نہیں سنایا۔ کیس کا فیصلہ اگلی سنوائی تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ کیس کی اگلی سنوائی 17 جولائی کو ہو گی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 15/05/2018 - 09:47:03

اس خبر پر آپ کی رائے‎