فیض آباد دھرنا کیس،قانون کے سامنے سب برابر ہیں، کوئی بھی خود کو قانون سے بالاترنہ ..
تازہ ترین : 1

فیض آباد دھرنا کیس،قانون کے سامنے سب برابر ہیں، کوئی بھی خود کو قانون سے بالاترنہ

سمجھے، پاکستان قلم سے بنا، طاقت سے نہیں،قائداعظم کے ساتھ کوئی بریگیڈ نہیں تھی،یہ ملک اشاروں پر نہیں چلے گا،کیا اب یہاں ڈنڈا پاور کی حکمرانی ہوگی سپریم کورٹ

فیض آباد دھرنا کیس،قانون کے سامنے سب برابر ہیں، کوئی بھی خود کو قانون ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس میں آئندہ سماعت پرسکیورٹی حکام اوراٹارنی جنرل کوطلب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں، کوئی بھی خود کو قانون سے بالاترنہ سمجھے، ملک اشاروں پر نہیں چلے گا۔ بدھ کو جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا دھر نا دینے والوں کے حوالے سے مزید کوئی رپورٹ آئی ہے جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے عدالت کو بتایا کہ اٹارنی جنرل اس وقت ملک سے باہر ہیں، ہم نے پیمرا سے رپورٹ مانگی تھی جو عدالت میں جمع کرادی گئی ہے۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ہما رے حکم نامے میں لکھا گیا تھا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق آئی ایس آئی کی دھرنا قائدین کے بارے میں رپورٹ تسلی بخش نہیں، اس کے بعد کیا ہوا ہمیں بتایا جائے کہ ملک کیسے چلایا جا رہا ہے ، توڈپٹی اٹارنی جنرل سہل محمود نے کہا کہ یہ میرے علم میں نہیں تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرے چچا نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا اورمیرے والد نے بھی ، آخر ہم نے پاکستان اس لیے بنایا تھا کہ یہاں خوف میں زندگی گزاریں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کراچی میں اونچے کھمبوں پردھرنا والو ں کے بینرز لگے ہیں، کیا ریاست میں ایک خاص نکتہ نظر کو پروان چڑھایا جا رہا ہے، کیا اب یہاں ڈنڈا پاور کی حکمرانی ہوگی جسٹس مشیر عالم نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ اٹارنی جنرل سے ہدایات لے لیتے تاکہ عدالت کو کچھ بتا دیاجاتا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آپ سمیت ہم سب کی تنخواہ پاکستانی عوام کی جیبوں سے آتی ہے۔ کوئی خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے، یہ ملک اشاروں پر نہیں چلے گا، ہم ان لوگوں کے بچے ہیں جنہوں نے یہ ملک بنایا، یہ قلم سے بنا، طاقت سے نہیں۔ ہم کیس ختم کر کے جاتے ہیں تو سوشل میڈیا پر بیان آ جاتے ہیں، اگر آئین پسند نہیں تو اسلام سے ہی محبت کر لیں جو کہتا ہے کہ کسی کے مال پر آنچ نہیں آنا چاہیے ،،قائداعظم کے اردگرد ایسی لیڈر شپ تھی جو پاکستان بنانا چاہتے تھے، قائداعظم کے ساتھ کوئی بریگیڈ نہیں تھی، انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اداروں کو دھرنے والوں کے پس منظر اور ذرائع آمدن کا کیسے پتہ نہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ائی ایس آئی کی رپورٹ میں فنڈز کے بارے میں معلومات موجود ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ کیا یہ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان لوگوں نے چندہ اکٹھا کیا ہے، پینتیس ہزار لوگوں نے دھرنا قائدین کو چندہ دیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا دھرنا لیڈران کے اکاوئنٹس ہیں۔جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ اٹارنی جنرل آئیندہ سماعت پر مکمل معلومات کیساتھ پیش ہوں۔

عدالت کو پیمرا کے وکیل نے بتایا کہ نجی چینل 92 نے پیمرا کے کوڈ اف کنڈیکٹ کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ پیمرا کے وکیل نے بتایا کہ پیمرا نے ٹی وی چینلز کو تنبیہ کی ہے۔جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ یہ میرا نہیں میرے ملک کادکھ ہے،سیکیورٹی ایجنسی اپنے بقاکاجواز دے ،ریاست توہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ظالم کے ساتھ نہیں ہوتی ،بتایا جائے کہ اب تک چیرمین پیمرا کی تقرری کیوں نہیں ہوسکی۔

جیو نیوز کے صحافی نے سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ پر اسرار ہاتھوں سے ہمارے چینل کو غائب کر دیا جاتا ہے۔۔پیمرا کے وکیل نے کہا کہ کچھ حد تک جیو ٹی وی کی نشریات کے بند ہونے کی رپورٹ آئی ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ،مجھے کرسی پرانصاف کے تقاضوں کے لئے بٹھایاہے ،وہ انصاف میں نہیں کرسکتا ، اس لئے کہ آپ کاتعاون نہیں ہے،کن علاقوں میں جیوکی نشریات بند ہے ،آئی ایس آئی سے سروے کروالیتے ہیں، تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آئی ایس آیی سے ہدایات لے کرعدالت کوآگا ہ کروں گا ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دھرنے والوں نے ملک کاکروڑوں کانقصان کیا ہے جن لوگوں نے پاکستان میں تباہی برپاکی ان کی کوریج اب بھی جاری ہے ، عدالت کووزارت دفاع کے نما ئندہ نے بتایا کہ کینٹ میں جیو ٹی وی کی نشریات چل رہی ہیں ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیاہم آپ کابیان ریکارڈ کرلیںتو وزارت دفاع کے نما ئندہ نے کہا کہ میرابیان ریکارڈ کرلیا جائے ۔

عدالت نے قرار دیا کہ پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کو صرف نوٹس جاری کرنامحض دکھاوا اور مایوس کن اقدام ہے، آئندہ سماعت پر سیکورٹی حکام اوراٹارنی جنرل کو اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی اورکہاکہ عدالت فروری میں چار ہفتوں کے اندر چیرمین پیمرا کی تقرری کا حکم دے چکی ہے، جس کی تعمیل کی جائے، ورنہ ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا ، بعدازاں مزید سماعت دس روز کے لیے ملتوی کردی گئی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 25/04/2018 - 23:33:16

اس خبر پر آپ کی رائے‎