آئندہ 11 سال کے لئے آئی ٹی، ٹیلی کام کے شعبے کو ٹیکس فری کرنے کی تجویز دی گئی ہے ..
تازہ ترین : 1

آئندہ 11 سال کے لئے آئی ٹی، ٹیلی کام کے شعبے کو ٹیکس فری کرنے کی تجویز دی گئی ہے ،ْ انوشہ رحمن

2019 میں پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے اجراء کو حتمی شکل دیدی جائے گی، پاکستان کی سائبر سیکورٹی کمزور ہے سب سے زیادہ سائبر حملے پڑوسی ملک کر رہا ہے ،ْمیڈیا سے گفتگو

آئندہ 11 سال کے لئے آئی ٹی، ٹیلی کام کے شعبے کو ٹیکس فری کرنے کی تجویز ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمن نے کہا ہے کہ آئندہ 11 سال کے لئے آئی ٹی، ٹیلی کام کے شعبے کو ٹیکس فری کرنے کی تجویز دی گئی ہے ،ْ 2019 میں پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے اجراء کو حتمی شکل دیدی جائے گی، پاکستان کی سائبر سیکورٹی کمزور ہے سب سے زیادہ سائبر حملے پڑوسی ملک کر رہا ہے۔

وہ جمعہ کو مقامی ہوٹل میں موبائل فون کانگریس پاکستان 2018ء کی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے ۔ انوشہ رحمن نے کہا کہ پاکستان آئندہ دو سال میں دنیا بھر میں فری لانسنگ آن لائن پروگرامنگ کا دنیا کا نمبر ون ملک ہو گا، پاکستان میں آئی ٹی اور ٹیلی کام شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اعتماد پختہ ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں حکومت چاہتی ہے کہ آئی ٹی، ٹیلی کام کے شعبہ میں ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں، اس سلسلے میں پاکستان میں آئندہ 11 سال کے لئے اس شعبہ کو ٹیکس فری بنانے کے لئے وزارت آئی ٹی نے جامع تجاویز حکومت کو پیش کر دی ہیں۔ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزارت نے آئندہ دو سال میں پاکستان کی سافٹ ویئر برآمدات کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لئے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

انوشہ رحمن نے بتایا کہ دنیا میں ابھی فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف نہیں ہوئی، بعض ملکوں نے اس کو آزمائشی طور پر شروع کیا ہے تاہم پاکستان نے اس حوالے سے کام کا آغاز کر دیا ہے اور دنیا کے ساتھ ہی ہم اس ٹیکنالوجی کو پاکستان میں شروع کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ڈبلیو او آر سی فائیو جی ٹیکنالوجی کے اجراء کی منظوری دے گی، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں اس ٹیکنالوجی کو دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ ہی شروع ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام اور آئی ٹی کی صنعت کو میں اس نہج پر پہنچانا چاہتی ہوں کہ دوسرے شعبوں سے اس کا مقام آگے ہو، اس وقت آئی ٹی کی برآمدات 3 سے 4 ارب ڈالر کی ہیں اس میں بھی لوگوں نے پیسہ باہر روک لیا ہے، اپنی ضرورت کے مطابق ایک حد تک رقوم وہ پاکستان لاتے ہیں، سارا پیسہ پاکستان میں لانے کے لئے حکومت اس تجویز پر غور کر رہی ہے کہ آئی ٹی کی برآمدات کرنے والی کمپنیوں کو ری بیٹ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہمارے پانچ سالہ دور میں کال سینٹر کے بزنس کو فروغ حاصل ہوا، آئی ٹی اور ٹیلی کام کی کمپنیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جب میں نے ذمہ داریاں سنبھالیں اس وقت پاکستان میں کال سینٹر اور آئی ٹی کمپنیوں کی تعداد 350 تھی جو بڑھ کر اب ایک ہزار 800 تک ہو چکی ہیں، ہم نے ان کوبیشن سینٹر قائم کئے، سٹارٹ اپز پروگرام کا آغاز کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی اے کا تقرر وزارت کے دائرہ اختیار میں نہیں، اس کی تعیناتی کابینہ کی ذمہ داری ہے اس لئے وہی اس حوالے سے اقدامات کر سکتی ہے، آئی ٹی وزارت پالیسی دینے کی ذمہ دار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کا شہر بنگلور آئی ٹی کے میدان میں آج جو حیثیت حاصل کر چکا ہے اس لئے اسے چالیس سال لگے، پاکستان کو بنگلور کے مقابلے میں مقام حاصل کرنے کیلئے ابھی مزید کچھ عرصہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سائبر سیکورٹی کے حوالے سے بہت سی خامیاں موجود ہیں، اس حوالے سے سب سے زیادہ حملے پڑوسی ملک سے کئے جا رہے ہیں، ان کے ماہرین مختلف ویب پیجز کے ذریعے تجزیاتی رپورٹس جاری کر رہے ہیں جنہیں بین الاقوامی مالیاتی اور دوسرے ادارے اپنی رپورٹس کا حصہ بنا رہے ہیں، میں نے اس حوالے سے جنیوا کنونشن اور دیگر ممالک میں عالمی فورمز پر ایسے مالیاتی اداروں کے ساتھ بات کی ہے کہ یہ رپورٹس غیر مصدقہ ہیں اور حقائق کے منافی ہیں، بلا تحقیق و تصدیق ان کو اپنی رپورٹس میں شامل نہ کریں۔

قبل ازیں انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہواوے ٹیلی کام پاکستان میں جانفشانی سے کام کر رہی ہے، بیت المال کے ذریعے نوجوان بچیوں کے لئے مختلف پروگرام شروع کئے تو ہواوے نے ان کے لئے 100 ٹیب مفت فراہم کئے، میری دعا ہے کہ یہ کمپنی جلد ڈیڑھ لاکھ ٹیب مفت فراہم کرنے کے قابل ہو۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے، سٹارٹ اپز اور اینکوبیشن سینٹر کے قیام سے نوجوان خصوصاً بچیوں کو تربیتی کورسز کروائے جا رہے ہیں، ان کے آئیڈیاز کو قابل عمل بنا کر ان کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کے لئے تاریخ میں پہلی دفعہ 26 ارب روپے کے منصوبے شروع کئے گئے جس سے ایسے دیہات جہاں ایک سو افراد کی رہائش ہے، کے لئے تھری جی ٹیکنالوجی پر مشتمل ٹیلی کام سہولتیں فراہم کی گئی ہیں جس کے باعث ٹرانسپورٹ سہولت فراہم کرنے والی بڑی کمپنی کریم نے اب کوئٹہ میں اپنی سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے 226 سکولوں کو کمپیوٹر لیب کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے جس سے بچے اور بچیاں استفادہ کر رہی ہیں۔

انوشہ رحمن نے کہا کہ حکومت نے مختلف اداروں کے تعاون سے میٹرک اور ایف اے پاس نوجوانوں سمیت صحافی برادری کی کارکردگی بڑھانے اور انہیں اس قابل بنانے کے لئے کہ وہ اپنے لئے آمدن کے ذرائع کو تقویت دے سکیں، تین ماہ کے مختصر مدت کے کورسز کا اجراء کیا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 20/04/2018 - 23:46:12

اس خبر پر آپ کی رائے‎