سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن عمل درآمد ودیگر کیس کی سماعت، چیئرمین پیمرا کی تقرری ..
تازہ ترین : 1

سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن عمل درآمد ودیگر کیس کی سماعت، چیئرمین پیمرا کی تقرری کے معاملے پر کمیٹی کی تشکیل نو

سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن عمل درآمد ودیگر کیس کی سماعت، چیئرمین پیمرا ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے میڈیا کمیشن عمل درآمد ودیگر کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین پیمرا کی تقرری کے معاملے پر بنائی گئی کمیٹی کی تشکیل نو کرتے ہوئے سیکرٹری اطلاعات کو کمیٹی میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمار کیس دیئے کہ عدلیہ کمزور ہوگی تو میڈیا بھی کمزور ہوگا، اگر عدالت کی باتین درست نہیں تو بتا دیا جائے ، کیا عدالت غلط باتیں کرتی ہی ، عدالت قانوں سازی کا حکم نہیں دے سکتی تجویزدے سکتی ہے،پارلیمنٹ آرٹیکل 5 میں ترمیم نہ کرے تو کیا کریں آرٹیکل 5اور6آئین کے آرٹیکل 19سے مطابقت نہیں رکھتے۔

پیر کو چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کی ۔۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی نے فیصل رضاعابدی کاانٹرویودیکھا ہی سپریم کورٹ کے باہرعدلیہ مردہ باد کے نعرے لگے،ابھی صبراور تحمل سے کام لے رہے ہیں،غیرت ہوتی تو خود سامنے آتے۔۔سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن کیس کے دوران چیف جسٹس نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میڈیاکی آزادی عدلیہ سے مشروط ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل راناوقار نے عدالت عظمی کو بتایا کہ حکومت نے 7رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، وزیراعظم کی منظوری سے کمیشن کی تشکیل کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن میں نمایاں صحافی اورپی بی اے کے چیئرمین کو شامل کیا گیا ہے، کمیشن چیئرمین پیمرا کے لیے 3ممبران کے پینل کا انتخاب کرے گا۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کام ہوتے ہوتے تو بہت وقت لگ جائے گا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل راناوقار نے انہیں بتایا کہ یہ کام 3ہفتوں کے اندرہوجائیگا۔عدالت نے پیمراچیئرمین کے انتخاب کے لیے سرچ کمیٹی کی تشکیل نو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی جگہ سیکرٹری اطلاعات کو کمیٹی میں شامل کرلیا ۔ جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ پیمرا قانون میں کیا غلط خبروں سے متعلق کوئی شق ہی ، جعلی خبریں بہت اہم مسئلہ ہیں، ملائیشیا میں جعلی خبر کو فوجداری جرم بنادیا گیا ہے۔

رانا وقار نے کہا کہ جعلی خبروں کی روک تھام کرنا نہایت ضروری ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ جو مقدمات کھولے گئے ان کو بند کرکے جائوں گا،حکومت پر کوئی تلوارنہیں ہے لیکن یہ کام ہوناچاہیے۔حامدمیر کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے آرٹیکل5 کے اختیارکوپیمراکی رضامندی سے مشروط کردیں۔جسٹس عظمت سعید کا کہنا ہے کہ قانون کو کالعدم قرار دیا تو خلا پیدا ہوگا۔حامد میر کے وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 5 کے اطلاق کی گائیڈ لائن ہونی چاہیے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 5اور6آئین کے آرٹیکل 19سے مطابقت نہیں رکھتے،لگتاہے حکومت کو کوئی خوف نہیں،حکومت کا پیمرا پر کنٹرول ختم کرناچاہتے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 16/04/2018 - 21:10:25

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :