سپریم کورٹ نے تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر نجی چینل کے مالک میر شکیل الرحمان ..
تازہ ترین : 1

سپریم کورٹ نے تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر نجی چینل کے مالک میر شکیل الرحمان کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا

کسی شیر کو نہیں جانتا اصل شیر میرے جج ہیں،جس دن نااہلی کا فیصلہ آیا خواتین نے عدالت سے باہر عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگائے ،بے چاری خواتین کو بطور شیلڈ استعمال کیا گیا مرد کے بچے بنیں خود سامنے آئیں،ہم بہت سے کاموں میں صبروتحمل سے کام لے رہے ہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

سپریم کورٹ نے تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر نجی چینل کے مالک ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر نجی چینل کے مالک میر شکیل الرحمان کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے ،،چیف جسٹس نے کہا کہ کسی شیر کو نہیں جانتا اصل شیر میرے جج ہیں،جس دن نااہلی کا فیصلہ آیا خواتین نے عدالت سے باہر عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگائے ،بے چاری خواتین کو بطور شیلڈ استعمال کیا گیا، مرد کے بچے بنیں خود سامنے آئیں،ہم بہت سے کاموں میں صبروتحمل سے کام لے رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر نجی چینل کے مالک میر شکیل الرحمان کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کہا کہ مالک کوکفالت کاحق ادا کرناہے،میرے خلاف شکایت کرنی ہے توکریں، میرااختیار ہے یانہیں، اختیار حاصل کرلیں گے،لوگ مجھے ابھی تک سمجھ ہی نہیں پائے۔۔چیف جسٹس نے صحافی حامد میرسے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنے رپورٹرز کو تنخواہیں نہ ملنے پر پروگرام کریں، اینکرز کو 52 لاکھ تنخواہ ملتی ہے، رپورٹرز کو 12 ہزار تنخواہ نہیں ملتی، کیا بارہ ہزار روپے سے کسی گھر کا بجٹ بن سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میر شکیل نے جو میرے خلاف کرنا ہے وہ کرے، ایڈووکیٹ بابر ستار کو بھی میں نے کہا تھا کہ وہ میرے خلاف کالم لکھے۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ جس دن نااہلی کا فیصلہ آیا خواتین نے عدالت کے باہر عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگائے ، بے چاری خواتین کو بطور شیلڈ استعمال کیا گیا ، مرد کے بچے بنیں خود سامنے آئیں، ہم بہت سے کاموں میں صبروتحمل سے کام لے رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور میں ریلوے کیس کے دوران لالوپرشاد کا نام لیا تو طلعت حسین نے آسمان سرپر اٹھا لیا، چینل فائیو پر دیکھیں فیصل رضا عابدی نے کیا کہا ، اپنی نیتیں صاف رکھیں ۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ بات زبان سے بڑھ گئی ہے، میڈیا کی آزادی عدلیہ کی آزادی سے مشروط ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کمزور ہوگی تو میڈیا کمزور ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی شیر کو میں نہیں جانتا، اصل شیرمیرے جج ہیں ، یہ شیر کام کریں گے اور ملک کو بحران سے نکالیں گی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 16/04/2018 - 20:25:06

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :