کسی شیر کو میں نہیں جانتا، میرے ججز اصل شیر ہیں‘سپریم کورٹ کے باہرعدلیہ مردہ باد ..
تازہ ترین : 1

کسی شیر کو میں نہیں جانتا، میرے ججز اصل شیر ہیں‘سپریم کورٹ کے باہرعدلیہ مردہ باد کے نعرے لگے،ابھی صبراور تحمل سے کام لے رہے ہیں۔چیف جسٹس

کسی شیر کو میں نہیں جانتا، میرے ججز اصل شیر ہیں‘سپریم کورٹ کے باہرعدلیہ ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16 اپریل۔2018ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کسی شیر کو میں نہیں جانتا، میرے ججز اصل شیر ہیں۔میڈیا کمیشن کیس کی سماعت جسٹس میاں ثاقب نثار ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی نے فیصل رضاعابدی کاانٹرویودیکھا ہے؟سپریم کورٹ کے باہرعدلیہ مردہ باد کے نعرے لگے،ابھی صبراور تحمل سے کام لے رہے ہیں،غیرت ہوتی تو خود سامنے آتے۔

سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن کیس کے دوران چیف جسٹس نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2روز قبل جب ہم نے آرٹیکل 62ون ایف کا فیصلہ سنایا، عدالت کے باہر نعرے لگائے گئے،یہاں عدلیہ مردہ باد کے نعرے لگائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کیایہ میڈیاکی ذمے داری ہے؟اتنااحترام ضرور کریں جتنا کسی بڑے کا کیا جانا چاہیے، کسی کی تذلیل مقصود نہیں،نااہلی کیس کے بعد ہی نعرے لگے،خواتین کوشیلٹر کے طور پر سامنے لے آتے ہیں۔

جسٹس شیخ عظمت سعیدکا کہنا ہے کہ بات زبان سے بڑھ گئی ہے،میڈیاکی آزادی عدلیہ سے مشروط ہے۔۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پیمرا قانون میں ترمیم کے حوالے سے کیا، کیا گیا ہے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل راناوقار نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ حکومت نے 7رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، وزیراعظم کی منظوری سے کمیشن کی تشکیل کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن میں نمایاں صحافی اورپی بی اے کے چیئرمین کو شامل کیا گیا ہے، کمیشن چیئرمین پیمرا کے لیے 3ممبران کے پینل کا انتخاب کرے گا۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کام ہوتے ہوتے تو بہت وقت لگ جائے گا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل راناوقار نے انہیں بتایا کہ یہ کام 3ہفتوں کے اندرہوجائےگا۔عدالت نے پیمراچیئرمین کے انتخاب کے لیے سرچ کمیٹی کی تشکیل نو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کو کمیٹی سے نکال دیا جبکہ سیکرٹری اطلاعات کو کمیٹی میں شامل کرلیا۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ مریم اورنگزیب بیانات دینے میں مصروف ہوں گی،ان کے لیے کمیٹی کے لیے وقت نکالنا ممکن نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کمزور ہوگی تو میڈیا کمزور ہوگا،اگر ہماری بات ٹھیک نہیں توبولنا بھی بند کردیں گے، قانون سازوں کوقانون میں ترمیم کے لیے تجویز نہیں کر سکتے،پارلیمنٹ آرٹیکل 5 میں ترمیم نہ کرے تو کیا کریں؟جسٹس عظمت سعید نے کہاہے کہ قانون کو کالعدم قرار دیا تو خلاپیدا ہوگا۔حامد میر کے وکیل نے کہا کہ آرٹیکل 5 کے اطلاق کی گائیڈ لائن ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 5 اور6 آئین کے آرٹیکل 19 سے مطابقت نہیں رکھتے،لگتاہے حکومت کو کوئی خوف نہیں،حکومت کا پیمرا پر کنٹرول ختم کرناچاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ کام میراکھولاہوانہیں لیکن بندکرکے جاﺅں گا،حکومت پر کوئی تلوارنہیں ہے لیکن یہ کام ہوناچاہیے۔حامدمیر کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو آرٹیکل5 کے اختیارکوپیمراکی رضامندی سے مشروط کردیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ سماعت میں بھارتی وزیر ریلوے لالو پرشاد کا نام لیا، میری معلومات غلط تھی، لالو پرشاد لاءگریجویٹ ہیں، میری اس بات پر طلعت حسین نے آسمان سر پر اٹھالیا، کیا یہ میڈیا کی ذمہ داری ہے۔سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے بتایا کہ حکومت نے الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے چیرمین کے انتخاب کے لیے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، وزیراعظم کی منظوری سے کمیشن کی تشکیل کی گئی جس میں نمایاں صحافی اور پی بی اے کے چیئرمین کوشامل کیا گیا ہے، کمیشن چیئرمین پیمرا کے لئے 3 ممبران کے پینل کا انتخاب کرے گا۔

عدالت عظمیٰ نے پیمرا چیئرمین کے انتخاب کی سرچ کمیٹی کو تبدیل کرتے ہوئے وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب کو کمیٹی سے نکال دیا، اور ان کی جگہ کمیٹی میں سیکرٹری اطلاعات کو شامل کردیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مریم اورنگزیب بیانات دینے میں مصروف ہوں گی، ان کے لیے کمیٹی کے لئے وقت نکالنا ممکن نہیں ہوگا۔۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ پیمرا قانون میں ترمیم کے حوالے سے کیا کیا گیا؟،جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ پیمرا قانون میں کیا غلط خبروں سے متعلق کوئی شق ہے؟، جعلی خبریں بہت اہم مسئلہ ہیں، ملائیشیا میں جعلی خبر کو فوجداری جرم بنادیا گیا ہے۔ رانا وقار نے کہا کہ جعلی خبروں کی روک تھام کرنا نہایت ضروری ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 16/04/2018 - 13:55:42

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :