معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ 76 برس کی عمر میں چل بسے ‘ مصنوعی ذہانت انسانیت کو ..
تازہ ترین : 1

معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ 76 برس کی عمر میں چل بسے ‘ مصنوعی ذہانت انسانیت کو تباہ کردے گی -ہاکنگ کا انتباہ

معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ 76 برس کی عمر میں چل بسے ‘ مصنوعی ذہانت ..
لندن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 14 مارچ۔2018ء)معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ 76 برس کی عمر میں چل بسے خاندان کے ترجمان نے اسٹیفن ہاکنگ کی موت کی تصدیق کر دی۔اسٹیفن ہاکنگ موجودہ دور کے مایہ ناز سائنس دان تھے، ان کو آئن اسٹائن کے بعد دوسرا بڑا سائنس دان قرار دیا جاتا تھا، ان کا زیادہ تر کام بلیک ہولز اور تھیوریٹیکل کاسمولوجی کے میدان میں ہے۔

1963 میں 22 برس کی عمر میں جب انھیں موٹر نیورون کا مرض لاحق ہوا تو اس وقت طبی ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ صرف چند ماہ ہی زندہ رہ سکیں گے۔اس بیماری کے شکار صرف پانچ فیصد لوگ بھی مرض کی تشخیص کے بعد ایک دہائی سے زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکے۔ زیادہ تر لوگ اس بیماری کی تشخیص کے چند سالوں کے اندر اندر مر جاتے ہیں۔ اس بیماری کے باعث سٹیفن ہاکنگ ویل چیئر تک محدود ہو گئے اور بول چال کے لیے طبی آلات کا استعمال کرتے رہے۔

پروفیسر ہاکنگ اس بیماری کے ساتھ تقریباً نصف صدی تک زندہ رہے جو آہستہ آہستہ جسم کے ان پٹھوں کو کمزور کرتی ہے جو اعصاب کو کنٹرول کرتے ہیں اور ان کا اس طرح زندہ رہنا ایک معجزہ قرار دیا جاتا ہے۔سٹیفن ہاکنگ کو نظریاتی فزکس میں آئن سٹائن کے بعد سے سب سے باصلاحیت سائنسدانوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔2016 میں انھوں نے خبردار کیا ہے کہ انسانیت کو مصنوعی ذہانت سے خطرات کا سامنا ہے۔

سٹیفن ہاکنگ8 جنوری 1942کو آکسفورڈ، انگلینڈ میں پیدا ہوئے‘1959 میں نیچرل سائنس کی تعلیم کے لیے آکسفورڈمیں داخلہ لیا، کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ 1963 میں موٹر نیورون مرض کی تشخیص ہوئی اور انھیں دو سال مزید زندہ رہنے کا وقت دیا گیا تھا۔1974 میں نظریہ پیش کیا کہ خلا میں بلیک ہولز ہاکنگ ریڈی ایشن خارج کرتے ہیں۔ 1988 میں اپنی کتاب ”اے بریف ہسٹری آف ٹائم“ شائع کی جس کی ایک کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہوئیں۔

2014 میں ان کی زندگی پر فلم ’‘دی تھیوری آف ایوریتھنگ“ بنائی گئی جس میں مرکزی کردار ایڈی ریڈمیئر نے ادا کیا۔وہ اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے اور اسے صفحے پر منتقل کرنے کے لیے ایک خاص کمپیوٹرکا استعمال کرتے تھے۔ ان کی یہ بیماری ان کو تحقیق کر نے سے نہیں روک سکی۔2017میں برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے اسٹیفن ہاکنگ کے 1966ءکے پی ایچ ڈی کا مقالہ جاری کیے جانے کے چند ہی دن میں اس نے مطالعے کا ریکارڈ توڑ دیا۔چند روز کے دوران انہیں 20 لاکھ سے زائد مرتبہ پڑھا گیا اور 5 لاکھ سے زائد لوگوں نے اسے ڈاﺅن لوڈ کیا تھا۔
وقت اشاعت : 14/03/2018 - 10:46:09

اس خبر پر آپ کی رائے‎