سپریم کور ٹ نے ایف بی آر کو ایگزیکٹ اوربول انٹر پرائزز کا دس سالہ ٹیکس ریکارڈ ..

سپریم کور ٹ نے ایف بی آر کو ایگزیکٹ اوربول انٹر پرائزز کا دس سالہ ٹیکس ریکارڈ کی روشنی میں آڈٹ کرنے کا حکم جاری کر دیا،

ہمیں پاکستان کی عزت سب سے زیادہ عزیزہے، باقی سب چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں، بول ٹیلی ویژن چینل اشتہارات بھی نہیں چلاتا،عدالت کویہ ضرور معلوم ہونا چاہیئے کہ اس کے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے ،چیف جسٹس

سپریم کور ٹ نے ایف بی آر کو ایگزیکٹ اوربول انٹر پرائزز کا دس سالہ ٹیکس ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مارچ2018ء) سپریم کور ٹ نے ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریوں سے متعلق از خود نوٹس کیس میں ایف بی آر کو ایگزیکٹ اوربول انٹر پرائزز کاگزشتہ دس سالہ ٹیکس ریکارڈ کی روشنی میں آڈٹ کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی اورکہاہے کہ ہمیں پاکستان کی عزت سب سے زیادہ عزیزہے، باقی سب چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں، بول ٹیلی ویژن چینل اشتہارات بھی نہیں چلاتا،عدالت کویہ ضرور معلوم ہونا چاہیئے کہ اس کے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے ، منگل کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز لااحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ، اس موقع پر پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن کی جانب سے کیس میں فریق بننے کی درخواست دی گئی جوعدالت نے خارج کر تے ہوئے بول ٹیلی ویژن کے متاثرہ ملازمین کو بقایا جات کی ادائیگی سے متعلق کیس کو از خود نوٹس سے علیحدہ کردیا ،،چیف جسٹس نے کہاکہ ہمیں پاکستان کی عزت سب سے زیادہ عزیز ہے،ہمیں پتا چلنا چاہیے کہ بول کے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے ہیں، عدالت ممبر ایف بی آر کو بلاکرآڈٹ کروانے کا حکم جاری کرے گی جس سے سارا سچ اور جھوٹ سامنے آجائے گا، چیف جسٹس نے کہاکہ از خود نوٹس لینے کا مقصد یہ تھا کہ ایگزیکٹ کمپنی پر جعلی ڈگریوں کی فروخت کے الزامات کے باعث دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہورہی ہے، ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ بول ٹیلی ویژن اشتہارات بھی نہیں لے رہا ہے توکہاں سے اس کا سلسلہ چل رہاہے ،اگر یہ رقم غلط طریقے سے نہیں آرہی تو ان کا چہرہ صاف ہونا چاہیئے ، سماعت کے دورا ن چیف جسٹس نے ا یڈووکیٹ شہاب سرکی سے استفسار کیا کہ آپ کے موکل کی کل کتنی کمپنیاں ہیں تو انہوںنے بتایا کہ ایگزیکٹ اور لبیک پرائیوٹ لمٹیڈ کے نام سے دو کمپنیاں کام کررہی ہیں ،جس پر چیف جسٹس نے ممبر ایف بی آر کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر دونوں کمپنیوں کے پچھلے دس سال کے ٹیکس کا ریکارڈ پیش کرکے رپورٹ میں بتایا جائے کہ کہ بول ٹیلی ویژن چینل اشتہارات نہ لینے کے باوجود یہ ادارہ کیسے چل رہا ہے ، شعیب شیخ کے وکیل شہاب سرکی نے عدالت کوبتایا کہا کہ شعیب شیخ جیل میں بند ہیں ، آپ کی ہدایات کی وجہ سے ماتحت عدالتیں دبائو میں ہیں ،جس پر فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے نہ کہیں، میرا کوئی حکم ہائی کورٹ کو متاثر نہیںکرسکتا اس حوالے سے ہم پہلے ہی حکم دے چکے ہیں، مجھے انصاف فراہی کے عمل کے دوران کوئی چہرے نظر نہیں آتے ہیں،اگر اس نے کچھ برا کیا ہے تو بھگت لے گا ،اور اگر نہیںکیا تو بے گناہ قرار پاجائے گا ، بعد ازاں مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی گئی ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/03/2018 - 22:48:51

اس خبر پر آپ کی رائے‎