بنی گالہ غیر قانونی تعمیرات کیس،ریگولیشن قوانین بناکران پر سختی سے عمل کیا
تازہ ترین : 1

بنی گالہ غیر قانونی تعمیرات کیس،ریگولیشن قوانین بناکران پر سختی سے عمل کیا

جائے،سپریم کورٹ کی سی ڈی اے کو ہدایت، عمران خان کی پراپرٹی بھی غیر قانونی ہے تو اس کے خلاف بھی متعلقہ قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے ،عدالت،آئندہ سماعت پر وفاقی وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا

بنی گالہ غیر قانونی تعمیرات کیس،ریگولیشن قوانین بناکران پر سختی سے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مارچ2018ء) سپریم کورٹ نے بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیرات اور راول ڈیم میں آلودہ پانی کی آمیزش سے متعلق کیس میں سی ڈی اے کی جانب سے تعمیرات سے متعلق ریگولیشن نہ بنانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مزید سماعت اپریل کے پہلے ہفتے کیلئے ملتوی کردی ہے اورآئندہ سماعت پر وفاقی وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ، منگل کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، اس موقع پر پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت میں پیش ہو کرعدالت کوآگاہ کیا کہ بنی گالہ کی پراپرٹی لیگل ہے ریگولیشن بناکر جو جرمانہ بنتا ہے ہم وہ ادا کرنے کے لیئے تیار ہیں لیکن یہ واضح ہے کہ قانون سب کے لئے یکساں ہونا چاہیے۔

سماعت کے دورا ن سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عدالت کوبتایا گیا کہ ریگولیشن بنانے کے معاملے پر ایک میٹنگ ہوئی تھی تاہم اجلاس میں قوانین نہیں بنائے جاسکے، ہمیں کچھ مہلت دی جائے توریگولیشن بناکرعدالت کوآگاہ کردیا جائے گا ، چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ریگولیشن قوانین بناکران پر سختی سے عمل کیا جائے، عدالت نے کسی غیر قانونی تعمیر کیلئے رعایت کرنے کے لئے نہیں کہا ، اگر بنی گالہ میں عمران خان کی پراپرٹی بھی غیر قانونی ہے تو اس کے خلاف بھی متعلقہ قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے ، تمام غیر قانونی تعمیرات کے لئے قانون کا یکساں استعمال ہونا چاہئے ، سماعت کے دورا ن عدالت میںموجود ایک خاتون نے عدالت سے کہا کہ ان کی 144کنال اراضی پر سی ڈی اے کی مبینہ ملی بھگت سے قبضہ کرلیا گیا ہے سی ڈی اے کہتی ہے کہ ان کے قوانین نہیں ہیں۔

لیکن میں کہاں جائوں ، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ ادارے اپنا کام نہیں کرتے جب عدالت کوئی حکم دیتی ہے تو مداخلت کرنے کا کہا جاتا ہے ، سماعت کے دوران راول ڈیم میں گندے پانی کی آمیزش کے حوالے سے عدالت کو بتایا گیا کہ اس معاملے پر بھی کام جاری ہے، پائپ لائن سسٹم کا پی سی ون تیار کردیا گیا ہے جوحتمی منظوری کے لئے ضلعی انتظامیہ کو بھجوادیا گیا ہے جس کے بعد جلد عمل قوانین پرعمل درآمد شروع کردیا جائے گا۔ بعدازاں عدالت نے آئندہ سماعت پر وفاقی وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سی ڈی اے سمیت متعلقہ ادارون کو ریگولیشن بنانے کا حکم دیا اورمزیدسماعت اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/03/2018 - 22:42:37

اس خبر پر آپ کی رائے‎