سپریم کورٹ نے گرینڈ حیات ٹاور کیس کے بارے میں رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو ختم کر ..
تازہ ترین : 1

سپریم کورٹ نے گرینڈ حیات ٹاور کیس کے بارے میں رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو ختم کر دیئے،جب یہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے توسپریم کورٹ اسے کیوں دیکھے ،چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے گرینڈ حیات ٹاور کیس کے بارے میں رجسٹرار آفس کے اعتراضات ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مارچ2018ء) سپریم کورٹ نے گرینڈ حیات ٹاورکے حوالے سے کیس کے بارے میں رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو ختم کرتے ہوئے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ہے اورکہاکہ جب یہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے توسپریم کورٹ اسے کیوں دیکھے ، منگل کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ، اس موقع پر چیف جسٹس کاکہناتھا کہ گرینڈ حیات معاملے پروزیراعظم نے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے جائزہ لینے کے بعد معاملے کو ریگولیٹ کرنے کی سفارش کی تھی جبکہ دوسری جانب یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میںزیرالتواہے اب ہم اس میں کیسے ہاتھ ڈالیں ۔

سماعت کے دوران ایڈووکیٹ نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ گرینڈ حیات ہوٹل سے متعلق ایک کمیشن بنا یا گیاتھا جس کی سفارشات کی روشنی میںگرینڈ حیات ہوٹل اسکینڈل نیب کو بھیجا گیا تھا ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ان سے کہا کہ ہائیکورٹ میں بھی گرینڈحیات ہوٹل کے بارے میں انٹراکورٹ اپیل زیر سماعت ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا موقف ہے جس پرفاضل وکیل نے کہا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی اور نیب نے اس معا ملے کو ایک اسکینڈل قرار دیتے ہوئے ایک معزز جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا تھا ، جس کے مطابق گرینڈ حیات ہوٹل اسکینڈل میں بے ضابطگیاں کی گئی ہیں، کنونشن سنٹر کے ساتھ واقع ساڑھے 13 ایکڑ کا یہ پلاٹ 1999ء میں لیز ہوا،پہلے اس کی نیلامی کی تاریخ منسوخ ہوئی تاہم پھر دوبارہ نیلامی ہوئی،اس پلاٹ پر فائیو سٹار ہوٹل اور سروس اپارٹمنٹس بنائے جانے تھے لیکن ہوٹل کی جگہ سروس اپارٹمنٹس بنادیئے گئے ہیں، جن کو کرایہ پر چڑھایا جاسکتا ہے، انہوں نے مزید کہاکہ معاملہ نیب کوبھیجوانے پربسم اللہ اور پیراگون نامی کمپنیوں نے عدالت سے رجوع کیا تھا گرینڈ حیات میںعمران خان کا بھی ایک اپارٹمنٹ ہے، چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ جب ہائیکورٹ میں مقدمہ زیر سماعت ہے تو ہم کیوں اسے دیکھیں، جس پرنعیم بخاری کا کہنا تھاکہ یہ پبلک پراپرٹی کا معاملہ ہے، جس پرعدالت نے کہا کہ عدالتی فیصلے تک وزیر اعظم یا سی ڈی اے کی کمیٹیوں کی سفارشات پر عملدرآمد روکا جائے، سماعت کے دوران ایک فریق کے وکیل نے پیش ہوکر بتایا کہ گرینڈ حیات کے لیے زمین کی الاٹمنٹ ایک اسکینڈل ہے یہ عوامی نوعیت کامعاملہ ہے ، جس کانوٹس لیا جاناچاہیے ، جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے فریقین کے وکلاء سے استفسار کیاکہ موجودہ صورتحال میں کس طرح عدالت 184/3کے تحت مداخلت کرسکتی ہے ۔

بعد ازاں عدالت نے اس معاملے کے حوالے سے دائرمختلف درخواستوں پر اعتراضات ختم کر تے ہوئے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/03/2018 - 22:20:20

اس خبر پر آپ کی رائے‎