کراچی، پاسبان کے صدر الطاف شکور نے سندھ یونیورسٹیوں کے قانون میں غیرجمہوری انداز ..
تازہ ترین : 1

کراچی، پاسبان کے صدر الطاف شکور نے سندھ یونیورسٹیوں کے قانون میں غیرجمہوری انداز میں ترمیم کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میںآئینی پٹیشن دائر کردی

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مارچ2018ء) پاسبان پاکستان کے صدر الطاف شکور نے سندھ یونیورسٹیوں کے قانون میں غیرجمہوری انداز میں ترمیم2018 کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میںآئینی پٹیشن2018/2009 ایڈوکیٹ عرفان عزیز کے توسط سے دائر کردی ۔ جس کی سماعت کیلئے عدالت عالیہ نے آج 14 مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے۔ درخواست میں پاسبان پاکستان کے صدر الطاف شکور نے مو،ْقف اختیار کیا ہے کہ اس بل کی منظوری خلاف ضابطہ حاصل کی گئی ہے کیونکہ سندھ اسمبلی کا فورم نا مکمل تھا۔

صرف 28ممبران نے منظوری میں حصہ لیا جو خلاف ضابطہ ہے۔سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1973میں یونیورسٹیز ایکٹ کے تحت گورنر کی معرفت وفاق کے کنٹرول میں دیا تھا ۔۔سندھ اسمبلی کا اقدام وفاقی اختیارات سے بغاوت کے مترادف ہے اور اعلیٰ تعلیم کے خلا ف سازش ہے جس ذریعے شہریوں پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند اور کرپشن کو فروغ ملے گا ۔درخواست میں یہ بھی مو،ْقف اختیار کیا گیا کہ سندھ کی جامعات کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھا جائے تاکہ نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ بنایا جاسکے اور جامعات کے انتظام کوبہتر طور پر چلانے کیلئے تجربہ کار اور ماہر وائس چانسلرز تعینات کیئے جاسکیں ۔

جن میں قومی سطح پر معروف تین اسکالرز ، سپریم کورٹ کے دو ججز اور اس شعبہ کے دوماہر ارکان شامل ہونے چاہئیں۔ جب تک ہم اپنی درسگاہوں کو خودمختاری نہیں دیں گے ہمارے نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں رہے گا۔ یونیورسٹیوں کو وزیر اعلی کے مکمل کنٹرول میں دینے سے اعلیٰ تعلیم کا نظام زوال پذیر ہوگا۔الطاف شکور بتایا کہ پوری دنیا میں یونیورسٹیوں کو خودمختاری دی جاتی ہے اورانہیں چلانے کیلئے بدعنوان اور کرپٹ سیاستدان نہیں بلکہ اعلیٰ ترین ماہرین اوراسکالرزمقرر کئے جاتے ہیں۔

سندھ کی سرکاری یونیورسٹیوں میں سیاسی بنیادوں پر نااہل افراد کی ہول سیل بھرتی نے یونیورسٹیوں کو کرپشن اور بدانتظامی کے دوہرے عذاب میں مبتلا کردیا ہے۔ نیب اور دیگر نگران ادارے صوبائی محکموں میں اربوں روپے کی بدعنوانی کی تحقیقات کر رہے ہیں جن میں کراچی ، سندھ ، خیرپور اور نوابشاہ یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ وزیر اعلی کی ما تحتی میں یونیورسٹیز میں کرپشن کے نئے سیلابی دروازے کھولنے کا موقع ملے گا کیونکہ سندھ میں پاکستان کے کسی دوسرے صوبہ کے مقابلے میں پہلے سے کہیں زیادہ بدعنوانی، اقرباء پروری اور بدانتظامی پائی جاتی ہے۔ پاسبان یہ سمجھتی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کو فروغ دے کر ہی سندھ اورپورے پاکستان کو دوبارہ تعمیر کیاجاسکتاہی

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/03/2018 - 20:31:25

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :