سب چابی والے کھلونے کل ایک ہی جگہ جاکر جھک گئی: نوازشریف

سب چابی والے کھلونے کل ایک ہی جگہ جاکر جھک گئی: نوازشریف

جو مشن چن لیا ہے اس کی تکمیل تک کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے کسی کی حیثیت ہے تو قوم ملک اور آنے والی نسلوں کی ہے،مسلم لیگ ن کے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب

سب چابی والے کھلونے کل ایک ہی جگہ جاکر جھک گئی: نوازشریف
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مارچ2018ء) مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے سینیٹ الیکشن پر مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سب چابی والے کھلونے ہیں جو کل ایک ہی جگہ جاکر جھک گئے۔ جو مشن چن لیا ہے اس کی تکمیل تک کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا، یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ کسی کی حیثیت ہے تو قوم ملک اور آنے والی نسلوں کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے کہا کہ ہم نے قلیل مدت میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، آج دل چاہتا ہے کہ کئی منصوبوں کا افتتاح کرنے جائوں، اس میں میرا بھی خون پسینہ گرا ہوا ہے، یقین ہے شاہد خاقان عباسی اور شہبازشریف بھی مجھے اس وقت مجھے یاد کرتے ہوں گے۔میاں نواز شریف نے اس موقع پر شعر پڑھا کہ ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستان میں ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو میرے ساتھ ہوا اس کے بعد کسی چیز کا افتتاح کرنے کا دل نہیں چاہتا، انسان کا دل ٹوٹ جاتا ہے لیکن میرا دل اتنا بھی نہیں ٹوٹا کہ پیچھے ہٹ جاؤں، جو مشن چن لیا ہے اس کی تکمیل تک کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا، یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح سے ہمارے ستر سال گزرے، اگلے ستر سال ویسے نہیں گزرنے چاہئیں، اگلے ستر سال بہتر بنانے کے لیے آپ کے قدم سے قدم ملا کر چلوں گا، آپ کو مجبور کروں گا کہ میرے ساتھ چلیں۔میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کا منشور اب صرف ان چار الفاظ پر ہوگا کہ ’ووٹ کو عزت دو‘، کوئی نعرہ لگائے نہ لگائے لاکھوں کے مجمہ یہی نعرہ لگارہا ہے، اس کا مطلب ہے عوام کے حق حکمرانی کو اور انہیں عزت دو، یہ نعرہ اپنی ذات کے لیے نہیں لگاتا، میری ذات کی کوئی حیثیت نہیں، اگر اب کسی کی حیثیت ہے تو قوم ملک اور آنے والی نسلوں کی ہے۔

(ن) کے قائد نے کہا کہ سب کو گواہ بناکر کہتا ہوں مجھے کوئی ذاتی مفاد یا لالچ نہیں، اپنے قوم ملک اور عوام کی بات کرتا ہوں، پاکستان کے لیے کوئی جدوجہد کرنا چاہتا ہوں وہ قوم اور آنے والی نسلوں کے لیے ہے، ووٹ کی عزت ہوگی تو ا?پ کی عزت ہوگی، ملک کی عزت ہوگی، غیر ملکیوں کی نظروں میں عزت ہوگی۔میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ اگلے الیکشن کو عوام نے ایک ریفرنڈم بنادینا ہے، آج اپنے کسی کیے کی سزا نہیں بھگت رہا، روز عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہوں، مجھے کوئی بتادے کہ تم نے فلاں جگہ کرپشن کی ہے، یہ کس چیز کے مقدمے ہیں، یہ ووٹ کے احترام کی بات کرتا ہوں اس چیز کے مقدمے ہیں، قوم کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میرا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، میرا ایجنڈا صرف پاکستان اور اس کی ترقی ہے، جو کہا کرکے دکھایا، ملک میں بجلی آگئی اور دہشت گردی ختم ہوگئی، سی پیک چل رہا ہے، لاکھوں کو روزگار مل رہا ہے، پاکستان بلندیوں کی طرف جارہا ہے، ملک کی عزت ہورہی ہے تو مجھے اس چیز کی سزا دی جارہی ہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم جسے ووٹ دیتی ہے آج وہی نشانہ بناہوا ہے، وہی سب سے زیادہ دلوں میں کھٹکتا ہے، مجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں بس اپنی قوم کی پرواہ ہے۔

انہوں نے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کل ملک میں ایک تماشہ لگا، بڑے اصولوں کی بات کرتے ہیں، کل دیکھا کس طرح سے ایک ہی بارگاہ میں سب جاکر جھک گئے، بنی گالہ، بلاول ہاؤس والے اور کے پی کے سے چلنے والے قافلے بھی وہیں جاکر جھک گئے، ایک ہی جگہ پر جاکر سجدہ کردیا، کس کے آگے جاکر جھکے ہو، اس کی کیا خدمات ہیں پاکستان کے لیے، کتنا قد کاٹ ہے، وہ کیا شخص ہے کسی کو کوئی پتا نہیں، یہ سب چابی والے کھلونے ہیں، کیا کہوگے اس جگہ پر کیوں جھکے، کیسے سجدہ ریز ہوگئے۔

میاں نوازشریف نے اس موقع پر بھی شعر پڑھا: جو میں سربسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں میاں نوازشریف نے عمران خان کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کون سے نئے پاکستان کی بات کرتے ہو، یہ تربیت کروگے قوم کی، قوم اس حرکت کو بری نگاہ سے دیکھتی ہے،قوم جانتی ہے تم جھوٹے اور منافق ہو، تمہارے قول و فعل میں تضاد ہے، کیا اس طرح کے لیڈر ہوتے ہیں، یہ قوم کے لیے شرمندگی ہیں، تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا، تم جیت کر ہارگئے اور ہم ہار کر بھی جیت گئے۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم سمجھوتے کرنے والے، اپنی ذات اور مفاد کی خاطر قوم کو بیچنے والے لوگ نہیں، جو ہیں آپ کے سامنے ہیں، ہم پاکستان کے لیے لڑمر جانے والے لوگ ہیں لیکن یہ لوگ آپ کو بیچ کر اپنا مفاد حاصل کریں گے، ہم مصیبتیں برداشت کررہے ہیں لیکن جھک نہیں رہے، ہم کسی اور کی بارگاہ میں جھکنے والے نہیں، صرف اللہ کی بارگاہ میں جھکتے ہیں،کسی انسان کے آگے نہیں جھکیں گے، اپنے ملک کو سنواریں گے، الیکشنوں کو ریفرنڈم بنائیں گے، ملک کی تقدیر کو بدلیں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/03/2018 - 20:23:29

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :