چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر آصف علی زرداری ،عمران خان سمیت تمام سینیٹروں کے شکر ..
تازہ ترین : 1

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر آصف علی زرداری ،عمران خان سمیت تمام سینیٹروں کے شکر گزار ہیں

،جن سے توقعات تھی انہوں نے ہمیں مایوس کیا، بلوچستان کے عوام کو آئندہ انتخابات کے حوالے سے سوچنا ہوگا وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجوکا اسلام آباد سے کوئٹہ پہنچنے پر پریس کانفرنس سے خطاب

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر آصف علی زرداری ،عمران خان سمیت تمام سینیٹروں ..
کوئٹہ۔13مارچ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مارچ2018ء) وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر آصف علی زرداری ،،عمران خان سمیت تمام سینیٹروں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہماری حمایت کی ،ہمیں جن سے توقعات تھی انہوں نے ہمیں نہ صرف مایوس کیا بلکہ بلوچستان کے عوام کو آئندہ انتخابات کے حوالے سے سوچنا ہوگا۔

محمود خان اچکزئی جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن اپنی پارٹی میں الیکشن کیوں نہیں کراتے ، ہمارا مشورہ ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے اندر الیکشن کروائے ۔ان خیالات کاا ظہار انہوںنے اسلام آباد سے کوئٹہ پہنچنے پر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،پریس کانفرنس کے موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی ،صوبائی وزیر بلدیات میر غلام دستگیر بادینی ،صوبائی وزیربی اینڈ آر میر عاصم کرد گیلو ،وزیراعلیٰ کے پولیٹکل سیکرٹری سید اسلم شاہ اور شازمان غلزئی بھی موجود تھے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ ہم نے سینیٹ کے انتخابات میں اپنے چھ اراکین اسمبلی حاصل کرنے کے بعد بڑی پارٹیوں سے مطالبہ کیا کہ ہمیں اس مرتبہ سینیٹ کی چیئرمین شپ دی جائے ،ہم پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ،پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ،فاٹا کے سینیٹروںاورایم کیو ایم کی قیادت کے شکرگزار ہیں جنہوں نے غیر مشروط طور پر ہماری حمایت کی ،وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ میر صادق سنجرانی کے انتخاب پر ہم پورے ملک بالخصوص بلوچستان کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ پشتونخوا میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل خان بزنجو سے ہمیں توقع تھی کہ وہ فرزند بلوچستان میر صادق سنجرانی کے نام پر نہ صرف ہماری حمایت کرینگے بلکہ ہماری جدوجہد میں ہماری قیادت کرینگے لیکن ہمیں افسوس ہوا کہ انہوں نے نہ صرف ہماری حمایت سے انکار کیا بلکہ ہمارے خلاف پروپیگنڈہ بھی کیا ۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ محمودخان اچکزئی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنی پارٹی کے اند رالیکشن کروائے تاکہ 2018کے انتخابات میں ان کے امیدوار آزاد حیثیت سے شریک نہ ہو،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں ہم بلوچستان کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حقیقی نمائندوں کو ووٹ دے تاکہ ان کے حقوق کے لیے بات کرسکے ،سی پیک کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سی پیک ہماری ترجیحات میں شامل ہیں تاہم وفاقی حکومت بلوچستان کے بہت سے منصوبوں کے لیے فنڈز کی اجراء باقی ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے ہم جلدالیکشن کمیشن میں اپنے اعتراضات جمع کرائینگے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/03/2018 - 18:20:11

اس خبر پر آپ کی رائے‎