ایبٹ آباد پبلک سکول پرنسپل تعیناتی،حکم امتناعی کے باوجود سیکشن آفیسر نے عدالتی ..
تازہ ترین : 1

ایبٹ آباد پبلک سکول پرنسپل تعیناتی،حکم امتناعی کے باوجود سیکشن آفیسر نے عدالتی احکامات کو روند ڈالا

ایبٹ آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مارچ2018ء) ایبٹ آباد پبلک سکول میں پرنسپل کی تعیناتی میں ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کے باوجود سیکشن آفیسر نے پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین کی آشیرباد پر توہین عدالت کرتے ہوئے عدالتی احکامات کو روند ڈالا ۔پیٹرن چیف ، اور بی او جی چیئرمین کے اختیارات غیر قانونی طریقہ سے استعمال کر کے اداروں میں مداخلت نہ کرنے کا ڈھنڈورا پیٹنے والی تبدیلی سرکار کی قلعی کھل گئی۔

ایبٹ آباد کے مایہ ناز تاریخی سکول کو پستی کی جانب گامزن کرنے کیلئے ناتجربہ کار پرنسپل کو چارج لینے اور عملہ کو احکامات پر عمل کرنے کیلئے سخت ہدایات جاری کی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق 30 ستمبر 2017 کو ایبٹ آباد پبلک سکول کے پرنسپل کیلئے 15 امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا جن کے انٹرویو کے بعد امیدواروں بریگیڈیئر جاوید ، سید وقار علی رضوی ، محمد عارف سمیت چار امیدواروں کے بی او جی کے چیئرمین وزیر تعلیم عاطف خان نے منتخب کرنا تھا جبکہ چار شارٹ لسٹ امیدواروں سے مقررہ سلیکشن بورڈ کی کمیٹی کے علاوہ جونیئر افسران نے انٹرویو لیا ۔

بے ضابطگیوں کی انتہا کر کے چیئرمین کے انٹرویو کے بغیر ہی سیکشن آفیسر لال سعید خٹک نے پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین فواد چوہدری اور اسد عمر کے دبائو پر سید وقار علی رضوی کا پرنسپل کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا۔ بورڈ قوانین کی صریحاً خلاف ورزی میں مذکورہ پرنسپل کی اہلیت ہاسٹل سکولزچلانے کی بھی نہیں ہے جس پر ادارہ کے پیرنٹس کونسل ممبر نے طلباء کے والدین کے ہمراہ سول کورٹ سے 27 فروری کو حکم امتناعی لیا۔

سابقہ پرنسپل بریگیڈیئر جاوید نے 3 سالہ کنٹریکٹ کی توسیع کے نوٹیفکیشن پر ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی ۔جہاں پرنسپل کی تعیناتی کے احکامات روک کر حکم امتناعی جاری کیا گیا ۔ہائیکورٹ کے ڈبل بینچ نے 8 مارچ کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا ۔ سیکشن آفیسر نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہلے بورڈ ممبر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر قاضی تجمل کو پرنسپل لگانے کے دوسرے روز دوسرے نوٹیفکیشن میں عجلت کا مظاہرہ کر کے سید وقار علی رضوی کو چارج لینے کے احکامات دیئے جنہوں نے بغیر عدالتی فیصلہ کے غیر قانونی چارج بھی لے لیا ہے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے عدلیہ کے تقدس کی بحالی کی مہم چلا رکھی ہے۔

رٹی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے برعکس پارٹی کے ہی مرکزی قائدین نے اپنے منظور نظر افراد کو میرٹ سے ہٹ کر نوازنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے صوبہ کے نامی گرامی فضل حق کالج مردان اور پشاور پبلک سکول میں بھی مداخلت کر کے اداروں کی شہرت کو نقصان پہنچایا گیا ہے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر نوٹس نہ لینے کی صورت میں طلباء کے والدین نے احتجاج کا لائحہ عمل مرتب کر رہے ہیں ۔
وقت اشاعت : 10/03/2018 - 22:27:16

اس خبر پر آپ کی رائے‎