روس،امریکہ،چین،پاکستان،بھارت سمیت کئی ممالک کو مدعو کیا گیا ہے،ازبک وزیر خارجہ عبدالعزیز کاملوف

ہم یہ نہیں سوچتے تاشقند کانفرنس کے بعد افغانستان میں امن عمل قائم ،تمام مسائل حل ہونگے، تاہم ہمیں اس عمل کو جاری رکھنا ہوگا، ازبک وزیر خارجہ

ہفتہ 24 فروری 2018 22:03

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 فروری2018ء) ازبکستان کے وزیر خارجہ عبدالعزیز کاملوف نے کہا ہے کہ ازبکستان سیاسی عمل کا فعال حصہ بننا چاہتا ہے، ہم یہ نہیں سوچتے تاشقند کانفرنس کے بعد افغانستان میں امن عمل قائم اور تمام مسائل حل ہونگے، تاہم ہمیں اس عمل کو جاری رکھنا ہوگا۔روسی میڈیا رپورٹ کے مطابق ازبکستان کے وزیر خارجہ عبدالعزیز کاملوف نے یہ بات گزشتہ روز ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و سلامتی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس ازبکستان کے دارلحکومت تاشقند میں ہوگی۔کانفرنس میں روس، امریکہ،چین،پاکستان،بھارت سمیت کئی ممالک کو مدعو کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ روس ،چین اور امریکہ اور بعض دیگرممالک ںکو دعوت نامے مل چکے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہم نے کانفرنس میں شرکت کیلئے عالمی سطح پر روس،چین اور امریکہ کو جبکہ پاکستان،ایران اور بھارت کو علاقائی سطح پر دعوت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ سعودی عرب،متحدہ عرب امارت،ترکی،اقوام متحدہ،یورپین یونین اور بین الاقوامی تنظیموں کو دعوت نامے موصول ہوچکے ہیں جبکہ برطانیہ،جرمنی،فرانس اور اٹلی سمیت بعض یورپی ممالک بھی کانفرنس میں شرکت کے خواہاں ہیں۔کاملوف نے کہا کہ یہ بات تو واضح ہے کہ ہمارا تعلق بھی اسی خطے سے ہے تو یقینا وسطی ایشیاء کی تمام ریاستیں بھی کانفرنس میں شریک ہونگی۔

کاملوف نے کہا کہ ہمارا ارادہ صرف ایک ایونٹ منعقد کرنے کا نہیں ،ازبکستان سیاسی عمل کا فعال حصہ بننا چاہتا ہے کیونکہ ہماری سرحد افغانستان کیساتھ براہ راست ہے اور ہمارے تحفظات بھی بلاواسطہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں سوچتے کہ تاشقند کانفرنس کے بعد افغانستان میں امن عمل قائم ہوگا اور تمام مسائل حل ہونگے۔تاہم ہمیں اس عمل کو جاری رکھنا ہوگا۔

متعلقہ عنوان :