ثقافت اور جمہوریت کا آپس میں گہرا رشتہ ہے‘جب آمریت آتی ہے تو فن ‘فنکار کمیونٹی ..
تازہ ترین : 1

ثقافت اور جمہوریت کا آپس میں گہرا رشتہ ہے‘جب آمریت آتی ہے تو فن ‘فنکار کمیونٹی اور اظہار رائے کا حق محدود ہو جاتا ہے،

حکومت پہلی فلم اور ثقافت پالیسی کا اعلان کرنے جا رہی ہے جس سے ملک میں ثقافت کے فروغ اور فلمی صنعت کی بحالی کیلئے فیصلہ کن دور شروع ہو گا، ثقافتی پالیسی تمام صوبوں کے ساتھ مشاورت سے مرتب کی گئی ہے، فلم پالیسی میں فلم فنانس فنڈ‘فلم اکیڈمی ‘نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس فار پرمارنگ آرٹ اوراکیڈمز فار میوزک ‘فلم اینڈ ویژول آرٹ کا قیام، فلم بنانے اور سینما گھروں کے آلات کی برآمد پر ٹیکسز کی چھوٹ ، آرٹسٹ کے ڈیٹابیس کی تیاری اور کلچر سے متعلق اداروں کے ملازمین کے روزگار کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، سینما گھروں میں ٹکٹوں پر عائد ٹیکسز کی شرح بھی انتہائی کم رکھی جائے گی، حکومتی کاوشوں کا مقصد فنکاروں کی معاونت کی بجائے انہیں جائز مقام دلانا ہے، پہلی مرتبہ شنگھائی بیجنگ فلم فیسٹیول میں پاکستان شریک ہو گا، فلم اور کلچر کیلئے پالیسیز کی تشکیل کا مقصد فلم کلچر، ورثہ اور براڈ کاسٹنگ کے ذریعے پرامن پاکستان کے بیانیہ کی بحالی ہے، آرٹ کی ترویح کے ذریعے دنیا میں پاکستان کے مثبت تشخص کو بہتر انداز میں اجاگر کیا جاسکتا ہے وزیر مملکت برائے اطلاعات، نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب کا قومی آرٹسٹ کنونشن 2018 اور سی پیک ثقافتی کارواں فیسٹیول کی تقریب رونمائی سے خطاب

ثقافت اور جمہوریت کا آپس میں گہرا رشتہ ہے‘جب آمریت آتی ہے تو فن ‘فنکار ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 فروری2018ء) وزیر مملکت برائے اطلاعات، نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ثقافت اور جمہوریت کا آپس میں گہرا رشتہ ہے‘جب آمریت آتی ہے تو فن ‘فنکار کمیونٹی اور اظہاررائے کا حق محدود ہو جاتا ہے، حکومت پہلی فلم اور ثقافت پالیسی کا اعلان کرنے جا رہی ہے جس سے ملک میں ثقافت کے فروغ اور فلمی صنعت کی بحالی کیلئے فیصلہ کن دور شروع ہو گا، ثقافتی پالیسی تمام صوبوں کے ساتھ مشاورت سے مرتب کی گئی ہے، فلم پالیسی میں فلم فنانس فنڈ‘فلم اکیڈمی ‘نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس فار پرمارنگ آرٹ اوراکیڈمز فار میوزک ‘فلم اینڈ ویژول آرٹ کا قیام، فلم بنانے اور سینما گھروں کے آلات کی برآمد پر ٹیکسز کی چھوٹ ، آرٹسٹ کے ڈیٹابیس کی تیاری اور کلچر سے متعلق اداروں کے ملازمین کے روزگار کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، سینما گھروں میں ٹکٹوں پر عائد ٹیکسز کی شرح بھی انتہائی کم رکھی جائے گی، حکومتی کاوشوں کا مقصد فنکاروں کی معاونت کی بجائے انہیں جائز مقام دلانا ہے، پہلی مرتبہ شنگھائی بیجنگ فلم فیسٹیول میں پاکستان شریک ہو گا، فلم اور کلچر کیلئے پالیسیز کی تشکیل کا مقصد فلم کلچر، ورثہ اور براڈ کاسٹنگ کے ذریعے پرامن پاکستان کے بیانیہ کی بحالی ہے، آرٹ کی ترویح کے ذریعے دنیا میں پاکستان کے مثبت تشخص کو بہتر انداز میں اجاگر کیا جاسکتا ہے۔

وہ جمعہ کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹ (پی این سی ای) میں فیسٹیول کی تقریب رونمائی سے خطاب کر رہی تھیں۔ ڈی جی پی این سی اے جمال شاہ اور سینئر فنکاروں، چائنیز آرٹسٹ کی بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی۔ وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے کہا کہ آرٹسٹ کنونشن میں ملک کے فنکاروں کو دعوت دی گئی ہے، فنکار خود ثقافتی ڈھانچہ، فلم،، تھیٹر، پرفارمنگ آرٹ، وژول آرٹ کے حوالہ سے درپیش مسائل اجاگر کریں گے، کنونشن کی سفارشات وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو پیش کی جائیں گی اور ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، جب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے اس حوالہ سے ذاتی طور پر بات کی تو انہوں نے یہ ہدایت دی کہ فلم اور کلچر سے متعلق تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ 30، 35 سالوں سے دہشت گردی نے جہاں ہمارے لوگوں کو شہید کیا وہیں فلم،، ثقافت، ورثہ، تھیٹر کو بھی تباہ کر دیا ہے، سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے وژن کے تحت مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکورٹی فورسز کی کاوشوں سے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہت حد تک بہتر ہو چکی ہے جبکہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوریت بھی اپنے 10 سال مکمل کر رہی ہے، اس موقع پر جمہوری حکومت کی فنکاروں کو جائز مقام دلانے کیلئے کوششیں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فنکار ہماری ثقافت کے محافظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی پالیسی کی تیاری میں عطاء الحق قاسمی، جمال شاہ اور فوزیہ سعید کا اہم کردار رہا ہے، ثقافت اور جمہوریت اہم رشتہ ہے، جب بھی ملک میں آمریت آتی ہے تو تخلیقی آرٹسٹ کمیونٹی اور اظہاررائے کا حق محدود کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان کی فلم انڈسٹری دنیا کی تیسری بڑی فلم انڈسٹری تھی، پاکستان کے فنکاروں کے نغموں اور گانوں سے ہم نے جنگیں بھی جیتی ہیں، پاکستان کے اندر ثقافت اور فلم کے فروغ کے حوالہ سے بے پناہ مواقع موجود ہیں، تاثر کی جنگ میں بھی فنکاروں کے ذریعے بہتر انداز سے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے معاشرہ میں عدم برداشت ہے، دوسرے کی رائے یا بات سننے کو تیار نہیں، صرف کلچراور آرٹ کے فروغ سے سماجی تبدیلی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر، سعودی عرب،بنگلہ دیش‘ایران اور چین میں فلم اور ثقافت کی صنعت کا ملکی جی ڈی پی میں اہم کردار ہے، ہمیں بھی فلم کے شعبے پر بھر پور توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ چین میں شنگھائی بیجنگ فلم فیسٹیول کا انعقاد ہونے جا رہا ہے ، پہلی مرتبہ پاکستان کی فلمیں چین کے سینما گھروں میں نمائش کیلئے پیش کی جائیں گی، انہی کاوشوں کی بدولت دنیا میں پاکستان کا اصل چہرہ لایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اطلاعات تک رسائی کا قانون بنا دیا ہے، سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی یہ خواہش تھی کہ پاکستان کا ہر شہری اپنی مرضی کی معلومات اپنے اداروں سے حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آرٹسٹ کنونشن کا مقصدمیڈیا کو ثقافت کے فروغ کیلئے سرگرم کرنا ہے، میڈیااس ایونٹ کی بھرپورکوریج کرے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹسٹ کسی بھی معاشرے میں ثقافتی اقدار کے محافظ ہوتے ہیں، ہم آرٹسٹ کمیونٹی کو تقویت دینے کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کھیلوں کے میدان آباد ہورہے ہیں، تمام ترکوششوں کا مقصد بطورامن پسند ملک پاکستان کا تشخص اجاگرکرنا ہے، ثقافتی سرگرمیاں کسی بھی صحت مندمعاشرے کی عکاس ہوتی ہیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ سی پیک کی کامیابی مل کر حاصل کرسکتے ہیں۔ سی پیک کو کامیاب کرنے میں پاکستان اور چین کے ثقافتی تبادلوں اور سی پیک کاررواں سے دونوں ملکوں کے کلچر کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت شعبوں کی بحالی سے معاشرے کی ترقی اور مضبوطی ممکن ہو سکے گی، آرٹسٹ کمیونٹی کاپہلی مرتبہ ترقی کامنصوبہ بنایاجارہاہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 23/02/2018 - 21:44:17

اس خبر پر آپ کی رائے‎