نیب اپنا کام ضرور کرے ،قانونی تقاضے پورے کرنے کے ساتھ لوگوں کی عزت ونفس کا بھی ..
تازہ ترین : 1

نیب اپنا کام ضرور کرے ،قانونی تقاضے پورے کرنے کے ساتھ لوگوں کی عزت ونفس کا بھی خیال رکھے‘ گورنر پنجاب

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ادارے کے مینڈیٹ کو بڑھانا چاہئے جس سے دیگراداروں پر بوجھ کم ہوگا‘ رفیق رجوانہ کا سیمینار سے خطاب میگا پراجیکٹس کا بھی آڈٹ کرینگے ، آئی ٹی کی مدد سے فرانزک آڈٹ کا نظام لا رہے ہیں ‘قانون سازی کے ذریعے مزید اختیارات ملنے کا امکان ہے‘جاوید جہانگیر

نیب اپنا کام ضرور کرے ،قانونی تقاضے پورے کرنے کے ساتھ لوگوں کی عزت ونفس ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 فروری2018ء) گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب)اپنا کام ضرور کرے لیکن قانونی تقاضے پورے کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی عزت ونفس کا بھی خیال رکھے،آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ(ن)اپنی کارکردگی کی بناء پر عوام میں جائیگی اور فتح سے ہمکنار ہوگی، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ادارے کے مینڈیٹ کو بڑھانا چاہئے جس سے دیگراداروں پر بوجھ کم ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل لاہور میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے زیر اہتمام’’آڈٹ کے ابھرتے ہوئے ایریاز،خیالات،اور سٹیک ہولڈرز کی توقعات‘‘کے موضوع پرسمینار سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔اس موقع پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔۔گورنر پنجاب نے کہا کہ قومی وصوبائی اسمبلیوں میں پبلک اکائونٹس کمیٹیاں اپنے کام بخوبی طریقے سے کررہی ہیںلیکن انہیں مزید فعال ہوناچاہیے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں آڈٹ کے نظام میں مزید شفافیت ہونی چاہئے تاکہ اعتماد کی فضاء قائم ہو اور بین الاقوامی اعتماد کا رشتہ بڑھے۔۔گورنر نے کہا کہ فنانشل گورننس کثیر حامل ہے جس میں مزید مضبوطی لانی چاہئے۔انہوں بتایا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان ادارہ قومی خد مت کا فریضہ سر انجام دے رہا ہے لیکن اس کے بارے میں عوام میں مزید آگاہی ہونی چاہئے۔

انہوں نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے زیر اہتمام سمینار کے انعقاد کو سراہا اور کہا کہ ملکی تاریخ میںاپنی نوعیت کا پہلا سمینار ہے اس طرح کے سیمینارزکا انعقاد وقت کی ضرورت ہے۔۔گورنر پنجاب نے کہا کہ ملک میں اکائوٹنگ اور آڈیٹنگ کا جدید تصور ناگزیر ہے اور ہمیں جدت کی طرف بڑھنا چاہئے۔انہوں نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ادارے کی مضبوطی اور اس کے مینڈیٹ میں اضافے کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی ۔

اس موقع پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان جاوید جہانگیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میگا پراجیکٹس کا بھی آڈٹ کریں گے ،ہم آئی ٹی کی مدد سے فرانزک آڈٹ کا نظام بھی لا رہے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ آڈیٹر جنرل پاکستان ادارے کے اختیارات ابھی محدود ہیں تاہم وفاقی حکومت نے قانون سازی شروع کی ہے جس سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ادارے مزید اختیارات ملنے کی توقع ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پرفارمنس آڈٹ کے نظام کو بہتر کر رہے ہیں ہماری آڈٹ رپورٹس کے ذریعے ٹرانسپرنسی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیمینارکا مقصد آڈٹ سسٹم اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے تاکہ عوام کو بھی اس ادارہ کے متعلق علم ہو۔انہوں نے کہا کہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بہتر کمیونیکیشن،ادارہ کے اہداف کو حکومت اصلاحات کے مطابق بنانا بنیادی چیزیں ہیں جن پر ادارہ کاربند ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادارہ کا سٹریٹجک پلان 2015-19 اندرونی و بیرونی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ کمیونیکیشن،تعاون بڑھانے پر زور دیتا ہے جس کیلئے اعلیٰ سطحی وفود کا تبادلہ،پارلیمنٹرینز ،میڈیا،ڈونرز اورآڈٹ تنظیموںکیلئے کانفرنسز اور و رکشاپس کا انعقاد ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کا ادارہ آڈٹ کا سپریم ادارہ ہے جس کو وفاقی و صوبائی اداروں،خود مختار اداروں،کارپوریشنز و دیگر اداروں کے آڈٹ کا مینڈیٹ حاصل ہے۔سیمینار میںآڈیٹر جنرل آف پاکستان نے گورنر پنجاب کو شیلڈبھی پیش کی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 23/02/2018 - 20:53:47

اس خبر پر آپ کی رائے‎