ایون فیلڈریفرنس ،ْکیلبری فونٹ2005 میں موجود تھا ،ْنیب کے غیرملکی گواہ کااحتساب ..
تازہ ترین : 1

ایون فیلڈریفرنس ،ْکیلبری فونٹ2005 میں موجود تھا ،ْنیب کے غیرملکی گواہ کااحتساب عدالت میں اعتراف

ونڈو وسٹا بیٹا کا پری لانچ ایڈیشن2005 میں جاری ہوگیا تھا تو کیا درست ہی خواجہ حارث ونڈو وسٹا بیٹا کاپہلاایڈیشن 2005 میں آئی ٹی ایکسپرٹ کیلئے جاری ہوا تھا ،ْ رابرٹ ریڈلی کیا ونڈووسٹابیٹا کے پری لانچ ایڈیشن کے ساتھ کیلیبری فونٹ کی سہولت موجود تھی خواجہ حارث کا سوال درست ہے کہ ونڈو وسٹا بیٹا کیساتھ کیلیبری فونٹ کی سہولت موجود تھی ،ْ صرف آئی ٹی ایکسپرٹ اورآئی ٹی ڈویلپرکوٹیسٹ کرنے کیلئے فراہم کیا گیا تھا ،ْ غیر ملکی گواہ ایون فیلڈ ریفرنس ،ْغیرملکی گواہ رابرٹ ریڈلی کا بذریعہ ویڈیو لنک بیان ریکارڈ ،ْ جرح مکمل نہ ہوسکی ،ْ (کل)پھر سماعت ہوگی العزیزیہ اسٹیل ملز اورفلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنسزکی سماعت یکم مارچ تک ملتوی ،ْاستغاثہ کے 4، 4 گواہان طلب

ایون فیلڈریفرنس ،ْکیلبری فونٹ2005 میں موجود تھا ،ْنیب کے غیرملکی گواہ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 فروری2018ء) اسلام آباد کی احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ رابرٹ ریڈلی نے اپنا بیان بذریعہ ویڈیو لنک قلمبند کرا یا جس کے بعد وکیل صفائی کی جانب سے استغاثہ کے گواہ سے جرح بھی کی گئی۔ جمعرات کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت کی، اس موقع پر نامزد ملزم کیپٹن (ر) محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود رہے تاہم دیگر ملزمان میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز حاضری سے عارضی استثنیٰ ملنے کے باعث پیش نہیں ہوئے۔

قبل ازیں سماعت شروع ہوئی تو لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں موجود رابرٹ ریڈلی نے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ نیلسن اور نیسکول کے ڈیکلریشن پر تاریخوں کی تبدیلی کا موازنہ کیا اور دونوں ڈیکلریشن میں دوسرا اور تیسرا صفحہ ایک جیسا ہے۔گواہ نے کہا کہ یہ بتانا ناممکن تھا کہ کون سا صفحہ اصل ہے اور کون سا اس کی نقل جبکہ دونوں صفحات پر موجود تاریخوں میں بھی تبدیلی کی گئی۔

رابرٹ ریڈلی کے مطابق 2004 کو تبدیل کر کے 2006 بنایا گیا اور 6 کی جگہ ممکنہ طور پر اصل میں 4 درج تھا، ظاہری طور پر ایسا لگتا ہے کاغذات تبدیل کرنے کے لیے کارنر پیس کو کھولا گیا اور دستاویزات پر 2 کی بجائے 4 اسٹیپلر پن کے سوراخ تھے۔رابرٹ ریڈلی نے کہا کہ میں نے دستاویزات کے ٹائپنگ فونٹ کا بھی جائزہ لیا ،ْڈیکلریشن کی تیاری میں کیلبری فونٹ استعمال کیا گیا جبکہ یہ فونٹ 31 جنوری 2007 تک کمرشل بنیادوں پر دستیاب نہیں تھا۔

اس سے قبل نواز شریف کی معاون وکیل عائشہ احد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں استغاثہ کے غیرملکی گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے موقع پر حاضری سے استثنیٰ دیا جائے، گواہوں کے بیان پر ہم نے جرح کرنی ہے، ملزمان کے آنے کی ضرورت نہیں جس پر فاضل جج نے ہدایت کی کہ آپ درخواست لکھ کر دے دیں اور نہ آنے کی وجہ بھی بتائیں جبکہ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ صرف غیر معمولی حالات میں ہی حاضری سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔

فریقین کے دلائل کے بعد عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز کو کیلئے حاضری سے استثنیٰ دے دیا تاہم غیرملکی گواہوں کے بیانات کے موقع پر صرف کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو پیش ہونے کی ہدایت کی۔نواز شریف کی معاون وکیل عائشہ حامد نے دلائل کے دوران دونوں ضمنی ریفرنسز پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نیب کی جانب سے دائر دونوں ضمنی ریفرنسز کی ضرورت نہیں تھی اور ضمنی ریفرنسز دائر کرنے کے لیے سپریم کورٹ کی شرائط پر عمل نہیں کیا گیا۔

وکیل عائشہ حامد نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کوئی نیا اثاثہ سامنے آنے پر ضمنی ریفرنس دائر کیا جائے، جن کمپنیوں کی تفصیلات دی گئیں وہ برطانیہ کا کوئی بھی شہری ایک فارم بھر کر حاصل کر سکتا ہے۔وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران بھی یہ تمام ریکارڈ پبلک ڈومین میں موجود تھا اور ضمنی ریفرنسز میں دی گئی معلومات نئے اثاثوں کی کیٹیگری میں نہیں آتیں۔

دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے ضمنی ریفرنسز کی منظوری یا اسے مسترد کرنے کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کرلیا۔نجی ٹی وی کے مطابق سماعت وقفے کے دوبارہ شروع ہوئی جو 6 گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی جس میں بذریعہ ویڈیو لنک استغاثہ کے گواہ رابرٹ ریڈلی پر وکیل صفائی خواجہ حارث کی جرح کی گئی تاہم بیان مکمل نہ ہوسکا جس پر سماعت (کل)جمعہ دو پہر دو بجے پھر ہوگی ۔

سماعت کے دور ان خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ ونڈو وسٹا کے 3 ایڈیشن جاری ہوئی جس پر رابرٹ ریڈلی نے جواب دیا کہ یہ درست ہے کہ ونڈو وسٹا کے تین ایڈیشن جاری ہوئے تھے۔خواجہ حارث نے پوچھا کہ کیا یہ بھی درست ہیکہ ونڈووسٹا کا پہلاباقاعدہ ایڈیشن31جنوری2007 کوجاری ہوا رابرٹ ریڈلی نے جواب دیا کہ ونڈو وسٹا نے پہلا ایڈیشن 31 جنوری 2007 کو ہی جاری کیا تھا۔

شریف فیملی کے وکیل نے کہاکہ اگر میں یہ کہوں کہ ونڈو وسٹا بیٹا کا پری لانچ ایڈیشن2005 میں جاری ہوگیا تھا تو کیا یہ درست ہی جس پر رابرٹ ریڈلی نے بتایا کہ ونڈو وسٹا بیٹا کاپہلاایڈیشن 2005 میں آئی ٹی ایکسپرٹ کیلئے جاری ہوا تھا۔ خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا ونڈووسٹابیٹا کے پری لانچ ایڈیشن کے ساتھ کیلیبری فونٹ کی سہولت موجود تھی جس پر رابرٹ ریڈلی نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ ونڈو وسٹا بیٹا کیساتھ کیلیبری فونٹ کی سہولت موجود تھی تاہم یہ صرف آئی ٹی ایکسپرٹ اورآئی ٹی ڈویلپرکوٹیسٹ کرنیکیلییفراہم کیا گیا تھا۔

خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیایہ درست ہیکہ ونڈووسٹا بیٹا کا کیلیبری فونٹ ہزاروں لوگ استعمال کررہے تھی رابرٹ ریڈلینے کہاکہ یہ بات درست نہیں کہ ہزاروں لوگ استعمال کر رہے تھے بلکہ محدود پیمانے پرآئی ٹی ماہرین کولائسنس کیساتھ ٹیسٹ کیلئے فراہم کیاگیاتھا۔ شریف فیملی کے وکیل خواجہ حارث نے پوچھا کیا آپ نے اپنی رائے سے پہلے تمام دستاویزات کوپڑھاتھا جس پر رابرٹ ریڈلی نے بتایا کہ نہیں، میں نیدستاویزات کوتفصیل کیساتھ نہیں پڑھا۔

خواجہ حارث نے پوچھا کہ کیا آپ نیان سیاصل دستاویزات مانگی تھیں رابرٹ ریڈلی نے کہاکہ نہیں میں نے اصل دستاویزات نہیں مانگی ، مجھے اصل دستاویزات کی ضرورت نہیں تھی، نہ ہی میں نے اس کاذکرفارنزک رپورٹ میں کیا۔خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا آپ نیرپورٹ میں ذکرکیاتھاکہ آپ کواصل دستاویزات نہیں مہیا کی گئیں رابرٹ ریڈلی نے جواب دیا کہ نہیں، میں نے ان سے اصل دستاویزات سے متعلق سوال نہیں کیا خواجہ حارث نے کہا کہ کیا تمام دستاویزات کامواد ان کی اصلیت پرمبنی تھا،کیاآپ نے موادکاتفصیلی جائزہ لیا رابرٹ ریڈلی نے کہا کہ مجھے دستاویزات کے موادمیں دلچسپی نہیں تھی ،ْمیرا کام ان کافارنزک آڈٹ کرناتھا۔

خواجہ حارث نے کہاکہ کیا آپ نے رپورٹ کیساتھ منسلک علیحدہ سے شیڈول کامطالبہ کیا رابرٹ ریڈلی نے کہاکہ جودستاویزات مجھے جیسی موصول ہوئیں، انہیں اسی طرح واپس کرنا میراٹاسک تھا۔خواجہ حارث نے کہاکہ ابھی جودستاویزات آپ کے پاس ہیں ان کیساتھ شیڈول منسلک ہی جس پر رابرٹ ریڈلی نے کہاکہ جی جو دستاویزات میرے پاس موجود ہیں ان کے ساتھ شیڈول منسلک ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے ان سے منسلک شیڈول کانہیں پوچھا ،ْنہ ہی رپورٹ میں ذکرکیا رابرٹ ریڈلی نے کہاکہ نہیں میں نے ان سے شیڈول کامطالبہ نہیں کیا اور نا ہی یہ میرا کام تھا۔خواجہ حارث پوچھا کہ کیا کہ شیڈول ا ن کیساتھ منسلک ہے توآپ کاشیڈول ساتھ نہ ہونیکابیان صحیح نہیں رابرٹ ریڈلی نے کہاکہ شیڈول ان دستاویزات کیساتھ شیڈول منسلک ہے، اگر یہ شیڈول منسلک ہے تومیں تسلیم کرتاہوں کہ میرابیان غلط ہے۔

خواجہ حارث نے سوال کیا کیا یہ بات درست ہے آپ فونٹ کے حوالے سے نوٹس دیکھ کرجواب دے رہے ہیں رابرٹ ریڈلی نے کہاکہ یہ بات درست ہے کہ میں نوٹس دیکھ کر آپ کے سوالوں کا جواب دے رہا ہوں۔خواجہ حارث نے پوچھا کہ آپ نے نوٹس کب تیار کیے،کیا یہ نوٹس آپ نے جرح کے لیے تیار کیے ہیں رابرٹ ریڈلی نے جواب دیا یہ درست ہے نوٹس جرح کیلئے تیارکیے اورکل اس حوالے سے میٹنگ ہوئی ،ْ اس حوالے سے بحث بھی ہوئی۔

خواجہ حارث نے پوچھا کہ میٹنگ کس حوالے سے ہوئی ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے اس موقع پر کہا کہ یہ سوال متعلقہ نہیں ہے ،ْ میں یہاں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق آیا ہوں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ کل کی میٹنگ بھی پھرعدالت کے حکم پر ہی ہوئی ہوگی۔خواجہ حارث کے اس جملے پر احتساب عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔شریف خاندا ن کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز کیس میں استغاثہ کے غیر ملکی گواہ رابرٹ ریڈلی پر جرح مکمل نہ ہوسکی جس کے باعث سماعت (آج) دوپہر دو بجے تک ملتوی کر دی گئی۔

اس کے علاوہ شریف خاندان کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اورفلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنسزکی سماعت یکم مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے استغاثہ کے 4، 4 گواہان کو طلب کر لیا گیا۔العزیزیہ سٹیل ملزریفرنس میں عرفان ملک،محمدعلی رضا،سنیل اعجازاوراظہراکرم کو بطور گواہ طلب کیا گیا جبکہ فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنس میں نویدالرحمان، ذکی الدین، راؤعبدالحنان اور محمد رضوان خان کو طلب کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ نیب نے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو براہ راست ملزم قرار دیا ہے ۔یاد رہے کہ نیب کی جانب سے 14 فروری کو العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ سے متعلق 2 ضمنی ریفرنس دائر کیے گئے جن میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف تمام اثاثوں کے خود مالک تھے اور انہوں نے اثاثے اپنے بچوں کے نام بنا رکھے تھے اور ان کے بچے نواز شریف کے بے نامی دار تھے۔

ضمنی ریفرنسز میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف اپنے اثاثوں سے متعلق بے گناہی ثابت کرنے میں ناکام رہے جب کہ انہیں تحقیقات کے لیے بلایا گیا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔اس سے قبل نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت ان کے خاندان کے 5 افراد کے خلاف 22 جنوری 2018 کو احتساب عدالت میں ایون فیلڈ پراپرٹیز کے سلسلے میں بھی ایک ضمنی ریفرنس دائر کیا تھا۔یہ بھی یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق تھے۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا۔دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 ا?ف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 22/02/2018 - 23:01:55

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :