ایران کے ساتھ دیر پا سفارتی ، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے خواہاں ہیں، پرویز خٹک
تازہ ترین : 1

ایران کے ساتھ دیر پا سفارتی ، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے خواہاں ہیں، پرویز خٹک

باہمی تعلقات کے استحکام کیلئے وفود کا تبادلہ بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔خیبرپختونخوا تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کا مرکز بننے جارہا ہے چین ، ملائشیا ، روس اور دیگر بین الاقوامی ممالک کے سرمایہ کار خیبرپختونخو امیں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیںاور متعدد سرمایہ کار کمپنیوں کے ساتھ مختلف شعبوں میں معاہدوں پر دستخط کئے جا چکے ہیں،صوبائی حکومت ایرانی سرمایہ کار کمپنیوں کو بھی خیبرپختونخوا میں سرمایہ کار ی کیلئے خوش آمدید کہے گی، وزیر اعلی خیبر پختونخوا کا ایران کے قونصل جنرل محمد بی ،بیگی سے تبادلہ خیال

ایران کے ساتھ دیر پا سفارتی ، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے خواہاں ہیں، ..
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 فروری2018ء) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ایران ہمارا ہمسایہ دوست اور برادر ملک ہے جس کے ساتھ دیر پا سفارتی ، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے خواہاں ہیں۔باہمی تعلقات کے استحکام کیلئے وفود کا تبادلہ بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔۔خیبرپختونخوا تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کا مرکز بننے جارہا ہے ۔۔چین ، ملائشیا ، روس اور دیگر بین الاقوامی ممالک کے سرمایہ کار خیبرپختونخو امیں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیںاور متعدد سرمایہ کار کمپنیوں کے ساتھ مختلف شعبوں میں معاہدوں پر دستخط کئے جا چکے ہیں۔

صوبائی حکومت ایرانی سرمایہ کار کمپنیوں کو بھی خیبرپختونخوا میں سرمایہ کار ی کیلئے خوش آمدید کہے گی ۔گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ سرمایہ کاری کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔صوبائی حکومت نے صوبے میں سرمایہ کاروں کو پرکشش مراعات دے رکھی ہیں ۔صوبائی حکومت ایرانی کمپنیوںکو پاکستان میں سرمایہ کاری کے سلسلے میں بینک ٹرانزیکشن اور دیگر درپیش مسائل کے حل کیلئے بھی تعاون یقینی بنائے گی ۔

ان خیالات کا اظہار اُنہوںنے وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میں ایران کے قونصل جنرل محمد بی ،بیگی سے تبادلہ خیال کے دوران کیا۔ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری / کمشنر پشاور شہاب علی شاہ اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔اس موقع پر پاکستان ایران تعلقات اور صوبائی حکومت اور ایران کے درمیان باہمی دلچسپی کے اُمور پر تفصیلی تبادلہ خیالات کیا گیا۔

رہنمائوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات اساسی اور تاریخی نوعیت کے ہیںاور تعلقات کے مزید استحکام کیلئے اعلیٰ سطح پر وفود کے تبادلے جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔پاکستان میں ایرانی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل خصوصی طور پر زیر بحث لائے گئے جن میں بینکنگ ٹرانزیکشن کے سلسلے میں صوبائی حکومت سے تعاون کی درخواست کی گئی ۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ ایران سے دیر پا اقتصادی تعلقات کے خواہاں ہیں۔اس سلسلے میں زیادہ تر مسائل وفاقی حکومت سے وابستہ ہیں تاہم صوبائی حکومت مسائل کے حل کیلئے اپنی سطح پر بھر پور تعاون کرے گی ۔پرویز خٹک نے کہاکہ خیبرپختونخوا سی پیک کے تناظر میں مستقبل کیلئے تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کا حب بننے جارہا ہے دُنیا بھر سے سرمایہ کاریہاں کا رخ کر رہے ہیں۔

ایران کو بھی اس موقع سے فائدہ اُٹھانے کیلئے آگے آنا چاہیئے خیبرپختونخو اکے آئل اینڈ گیس ، توانائی ، پن بجلی ، سیاحت اور صنعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ سرمایہ کاری کے عمل کو آسان ترین بنانے کیلئے خیبرپختونخو ااکنامک زون ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی تشکیل دی گئی ہے جس کے تحت سرمایہ کاروں کو ون ونڈ و آپریشن کے تحت سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

صوبے بھر میں صنعتی بستیوں کے قیام پر کام جاری ہے ۔رشکئی میں 40 ہزار کنال اراضی پر محیط اکنامک زون پر کام جاری ہے۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ سی پیک کا مغربی روٹ 600 کلومیٹر مختصر ہے ۔ دوسری طرف گلگت چترال روٹ سے یہ علاقہ واخان تک اوپن ہو جائے گا۔ چین نے افغانستان کیلئے بھی ون بیلٹ ون روڈ کا پروگرام بنایا ہے ۔ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے خیبرپختونخوا نہ صرف پاکستان میں بلکہ پورے وسطی ایشیاء کیلئے تجارت کا مرکز ثابت ہو گا۔

ہم اس سلسلے میں پہلے سے منصوبہ بندی کرچکے ہیں۔ ایرانی قونصل جنرل نے سرمایہ کاری کے فروغ اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کیلئے صوبائی حکومت کی کاوشوں کو سراہا اور کہاکہ ایران کے سفیر ، تاجر برادری اور سرمایہ کار کمپنیاں پہلے سے سی پیک میں شامل ہونے کا اظہار کر چکے ہیں۔ ہم سی پیک کے تحت تمام پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں۔

خیبرپختونخو اکے سمال انڈسٹریز سمیت مختلف شعبوں میں معاہدے بھی کر چکے ہیں۔ قونصل جنرل نے صحت کے شعبے میں بھی طبی ٹیموں کے تبادلے کی تجویز پیش کی جس کو وزیراعلیٰ نے خوش آمدید کہا۔ قونصل جنرل نے ا س موقع پریونیورسٹی ٹائون میں ایرانی قونصلیٹ کو جانے والی سڑک کو کھولنے اور سکیورٹی کا متبادل بندوبست کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 19/02/2018 - 22:29:45

اس خبر پر آپ کی رائے‎