نواز شریف ایک ٹکٹ میں دو مزے لے رہے ہیں حکومت بھی ہے ، اپوزیشن بھی کرتے ہیں، آصف ..
تازہ ترین : 1

نواز شریف ایک ٹکٹ میں دو مزے لے رہے ہیں حکومت بھی ہے ، اپوزیشن بھی کرتے ہیں، آصف علی زرداری

بلاول کی سیاست پر کسی کا کنٹرول نہیں ہو سکتا، ملک اداروں سے بنتے ہیں اداروں کو اپنی اپنی حدود میں مضبوط ہونا چاہئے،پیپلزپارتی اپنے نظریے پر قائم ہے راؤ انوار مجرم ہے تو قانون کی گرفت میں آئے گا، اسے بہادر بچہ ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں کارکردگی پر کہا تھا، شریک چیئرمین پیپلز پارٹی ماورائے عدالت قتل کوئی حمائت نہیں کر سکتے آر او انتخابات کو جاگیر سمجھنے والے نواز شریف سے مفاہمت کے دروازے بند ہو چکے ، جمہوریت کی بقاء کیلئے لڑ رہے ہیں، وہ جموریت کو کمزور کر رہے ہیں، نواز شریف کی کسی رگ پر شیخ مجیب بننا لکھا ہے، انٹرویو

نواز شریف ایک ٹکٹ میں دو مزے لے رہے ہیں حکومت بھی ہے ، اپوزیشن بھی کرتے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 فروری2018ء) سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ نواز شریف ایک ٹکٹ میں دو مزے لے رہے ہیں حکومت بھی ہے اور اپوزیشن بھی کرتے ہیں، بلاول کی سیاست پر کسی کا کنٹرول نہیں ہو سکتا، ملک اداروں سے بنتے ہیں اداروں کو اپنی اپنی حدود میں مضبوط ہونا چاہئے، انواز شریف خود کو مضبوط اور اداروں کو کمزور کر رہے ہیں، پیپلزپارتی اپنے نظریے پر قائم ہے راؤ انوار مجرم ہے تو قانون کی گرفت میں آئے گا، اسے بہادر بچہ ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں کارکردگی پر کیا تھا، ماورائے عدالت قتل کیو کوئی حمائت نہیں کر سکتے آر او انتخابات کو جاگیر سمجھنے والے نواز شریف سے مفاہمت کے دروازے بند ہو چکے ہیں، جمہوریت کی بقاء کیلئے لڑ رہے ہیں، وہ جموریت کو کمزور کر رہے ہیں، نواز شریف کی کسی رگ پر شیخ مجیب بننا لکھا ہے، نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں آصف علی زرداری نے کہا کہ راؤ انوار سے متعلق میری بات کو غٖلط انداز میں لیا گیا اسے بہادر بچہ ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں کارکردگی پر کیا تھا، ماورائے عدالت قتل کی کوئی حمایت نہیں کر سکتا راؤ انوار اگر ملزم ہیں تو وہ قانون کی گرفت میں آئیں گے، اس میں کوئی دو راستے نہیںِ انہوں نے کہا کہ ماورائے عدالت قتل پاکستان یا دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو اہم اس کی مذمت کرتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہم سینیٹ کے انتخابات مین اکثریت لینے کی کوشش کریں گے، ہم نے پنجاب میں سیاسی خاندانوں کو ٹکٹ دیے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حکومت نواز شریف کے اپنے رویے کے باعث گری ڈاکٹر عاصم کی بیوی اسی سچ پر تھی جس پر آج کلثوم نواز ہے وہ بھی اس بستر پر تھی انہیں عدلیہ سے اجازت ملنے کے باوجود جانے سے روکا گیا، جب خود کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو دوسروں کی تکلیف کا احسان ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف ایک ٹکٹ میں دو مزے لے رہے ہیںِ وہ خود حکومت میں ہیں اور اپوزیشن بھی کر رہے ہیں، بلاول جلد پنجاب میں جلسے کریں گے، انہوں نے ککہا کہ پیپلزپارٹی اپنے نظریے پر قائم ہے محاذ بنتے ٹوٹتے رہتے ہیں، انتخابات کے وقت دیکھیں گے کس کو کس کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ آج بھی بھوک اور اخلاس ہے جو بھٹو کے دور میں تھی ضروریات زندگی کم نہیں ہوئی ہیں آبادی بھی بڑھی ہے اور ملک کے قرضے بھی بڑھ گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کی سوچ اور سیاست پر کس کا کنٹرول نہیں ہو سکتا وہ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں،ا نہوں نے کہا کہ جس ملک میں ادارے ٹوٹ جاتے ہیں وہ ملک نہیں رہتا، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور دوسرے اداروں کو اپنی اپنی حدود میں مضبوط ہونا چہائے، نواز شریف اداروں کو کمزور کرکے خود کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں وہ انتخابات کو اپنی جاگیر سمجھ کر مغل اعظم کی طرح چلنے گئے تھے، انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کو تھوڑی عاجزی کے ساتھ چلنا چاہئے، جب ہم ایک آمر سے لڑرہے تھے اس وقت وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے، آصف علی زرداری سے کہا کہ ہم پاکستان کی سلامتی چاہتے ہیں، (ن) لیگ سے راہیں جدا ہو چکی ہیں مفاھمت کا کوئی راستہ نہیں میں میاں صاحب کی وجہ سے اپنی کشتی کو نہیں ڈبو سکتا وہ جس طرف جارہے ہیں وہ جمہوریت کو ڈبو نے جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ فیصلہ آیا تو دونوں طرف مٹھائیاں بانٹی جارہی تھیں آج ٹکراؤ ہو رہا ہے جب نواز شریف کی سیاست کامیاب نہیں تو مریم کی کیسے ہو سکتی ہے، آصفہ بھٹو لیاری سے انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہے بے نظیر جیسی خاتون دنیا میں نہ تھی اور نہ ہو گی ان کے جیسی سیاسی سوچ کیلئے بہت وقت چاہئے، انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کو ہمیشہ سہارا دیں گے جمہوریت چلتی رہی تو پاکستان چلے گا، میاں صاحب نے خاندان کے مودی سے تعلقات ہیں پاکستان اور بھارت کے تعلقات نہیں،،نواز شریف گریٹر پنجاب کی سوچ رکھتے ہیں، ان کی کسی رگ پر لکھا ہے کہ وہ شیخ مجیب بن سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میاں صاحب اس سج پر آچکے ہیں کہ میں نہیں تو کچھ نہیں ان کی پالیسی طویل المدتی نہیں وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں وہ شیخ مجیب کے نام پر ہمیں ڈرانا چاہتے ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/02/2018 - 22:02:45

اس خبر پر آپ کی رائے‎