میئر کراچی نے سٹی قبرستان مانیٹرنگ کمیٹی اور ڈسٹرکٹ قبرستان مانیٹرنگ کمیٹی قائم ..
تازہ ترین : 1

میئر کراچی نے سٹی قبرستان مانیٹرنگ کمیٹی اور ڈسٹرکٹ قبرستان مانیٹرنگ کمیٹی قائم کردی

قبرستانوں میں کام کرنے والے گورکنوں، چوکیداروں اور مالیوں کی رجسٹریشن لازمی کردی گئی ہے ،وسیم اختر

میئر کراچی نے سٹی قبرستان مانیٹرنگ کمیٹی اور ڈسٹرکٹ قبرستان مانیٹرنگ ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 فروری2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ قبرستانوں کے معاملات کو درست اور شفاف بنانے کے لئے سٹی قبرستان مانیٹرنگ کمیٹی اور ڈسٹرکٹ قبرستان مانیٹرنگ کمیٹی قائم کردی ہے تاکہ قبرستانوں میں اپنے عزیز و اقارب کی تدفین کے سلسلے میں شہریوں کو درپیش مسائل حل کئے جاسکیں، قبرستانوں میں کام کرنے والے گورکنوں، چوکیداروں اور مالیوں کی رجسٹریشن لازمی کردی گئی ہے ، مقررہ شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی پر گورکنوں اور دیگر عملے کو فارغ کردیا جائے گا، قبرستانوں میں مردوں کی تدفین کے ریکارڈ کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جائے گا اور قبرستانوں کی حدود میں صفائی ستھرائی اور شجرکاری کی جائے گی، یہ بات انہوں نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام قبرستانوں کا نظام بہتر بنانے کے حوالے سے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہی،میئر کراچی کی ہدایت پر محکمہ ایچ آر ایم سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق میئر کراچی 7رکنی سٹی قبرستان مانیٹرنگ کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے ، ڈائریکٹر قبرستان کمیٹی کے سیکریٹری اور دیگر ممبران میں میٹروپپولیٹن کمشنر ، سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز ،متعلقہ ڈی ایم سی کے چیئرمین کمیٹی اور ایدھی ٹرسٹ کا نمائندہ شامل ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ قبرستان کمیٹی کی سربراہی میٹروپولیٹن کمشنر کریں گے جبکہ سیکریٹری ڈائریکٹر قبرستان ہوں گے اور کمیٹی کے دیگر ارکان میں میئر کراچی کا نمائندہ، متعلقہ ڈی ایم سی کا میونسپل کمشنر ، متعلقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ، ڈائریکٹر لینڈ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ڈپٹی ڈائریکٹر قبرستان بلدیہ عظمیٰ کراچی شامل ہیں، نوٹیفکیشن کے مطابق سٹی قبرستان مانیٹرنگ کمیٹی بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام موجودہ قبرستانوں کے لئے بنائی گئی پالیسیوں پر عملدرآمد کی نگرانی کرنے کے ساتھ ساتھ قبرستانوں کے لئے تیار کئے گئے ذیلی قواعد اور پالیسیوں میںوقتاً فوقتاً تبدیلیاں بھی تجویز کرے گی اور اس ضمن میں ڈسٹرکٹ قبرستان کمیٹی کی جانب سے پیش کی گئیں تجاویز کا بھی جائزہ لے گی اورمزید تدفین کی گنجائش نہ رکھنے والے قبرستانوں کو بند کرنے اور وہاں صفائی اور سبزہ کاری کے انتظامات بھی کرے گی، گورکنوں ، چوکیدار اور مالی کی رجسٹریشن بھی یہی کمیٹی کرے گی جس کے لئے کمیٹی کا سیکریٹری سفارشات پیش کرے گا اور شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی پر گورکنوں ،چوکیدار اور مالی کی رجسٹریشن منسوخ کردی جائے گی، میونسپل کمشنر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی سربراہی میں قائم کی گئی ڈسٹرکٹ قبرستان مانیٹرنگ کمیٹی کی ذمہ داریوں میں ڈسٹرکٹ کے اندر واقع قبرستانوں کے معاملات کی نگرانی ، قبرستانوں کی دیکھ بھال اور شجرکاری ، ڈسٹرکٹ کی حدود میں واقع قبرستانوں کے رکارڈ کی وقتاً فوقتاً چیکنگ ، مذہبی تہواروں کے موقع پر قبرستانوں میں پانی ، بجلی اور لیمپس کی دستیابی کے لئے تجاویز کی تیاری کے علاوہ ہر پندرہ روز بعد کمیٹی کا اجلاس بلانا شامل ہے۔

میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں موجودہ قبرستانوں کے بھر جانے کی وجہ سے شہریوں کو اپنے عزیز و اقارب کی تدفین میں مشکلات کا سامنا ہے گوکہ مزید قبرستان قائم کرنے کے پلان پر کام تیزی سے جاری ہے اور سرجانی ٹائون میںماڈل قبرستان بنایا جارہا ہے تاہم کراچی کے ہر ڈسٹرکٹس میں دو قبرستان بنانے کی ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ قبرستان شہر کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیںاور خاندان میں یا عزیز واقارب میں کسی کی بھی وفات کی صورت میں شہریوں کے لئے اپنے پیاروں کی تدفین ایک نہایت حساس اور اہم معاملہ بن جاتا ہے لہٰذا ہماری ہرممکن خواہش ہے کہ ان صبر آزما اور مشکل لمحات میں انہیں کسی بھی مشکل صورتحال سے محفوظ رکھا جائے اور تدفین کے حوالے سے ہرممکن بہتر سہولیات مہیا کی جائیں جس کے لئے مختلف سطحوں پر کام جاری ہے اور بہت جلد صورتحال میں بہتری آئے گی، انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی شہریوں اور مختلف انجمنوں اور اداروں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی اجازت کے بغیر کہیں بھی غیرقانونی طور پر قبرستان نہ بنائیں اور نہ ہی قبضہ مافیا کی باتوں میں آئیں، انہوں نے ماضی میں مختلف انجمنوں اور رفاعی اداروں کو قبرستان کے لئے مختص کی گئی اراضی کے کاغذات کی جانچ پڑتال اور شہر میں موجود تمام قبرستانوں کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی تاکہ اس حوالے سے مستقبل کے لئے منصوبہ بندی اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل بنایا جاسکے، میئرکراچی نے ہدایت کی کہ کراچی میں قائم تمام قبرستانوں کو کمپیوٹرائزڈ رجسٹریشن کے ذریعے مرکزی دفتر سے منسلک کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/02/2018 - 18:27:12

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :