نواز شریف اور (ن)لیگ کا مستقبل بھی بانی متحدہ اور ایم کیو ایم سے مختلف نہیں ہو گا‘فواد ..
تازہ ترین : 1

نواز شریف اور (ن)لیگ کا مستقبل بھی بانی متحدہ اور ایم کیو ایم سے مختلف نہیں ہو گا‘فواد چوہدری

نیب کا نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کرنا خوش آئند ہے موروثی سیاست یہ ہوتی کہ اگر جہانگیر ترین کی جگہ علی ترین کو تحریک انصاف کا سیکرٹری جنرل لگا دیا جاتا ،لودھراں کا نتیجہ ہماری توقعات کے برعکس ہے ‘پریس کانفرنس سے خطاب

نواز شریف اور (ن)لیگ کا مستقبل بھی بانی متحدہ اور ایم کیو ایم سے مختلف ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 فروری2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کا مستقبل بھی بانی متحدہ اور ایم کیو ایم سے مختلف نہیں ہو گا،نیب کا نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر)محمد صفدر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کرنا خوش آئند ہے، اسحاق ڈار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نہ ڈالنے پر احسن اقبال کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے،موروثی سیاست اور انتخابی سیاست میں فرق ہوتا ہے، موروثی سیاست یہ ہوتی کہ اگر جہانگیر ترین کی جگہ علی ترین کو تحریک انصاف کا سیکرٹری جنرل لگا دیا جاتا اور یہ بالکل غلط بات ہوتی،لودھراں کا نتیجہ ہماری توقعات کے برعکس ہے لیکن ہر ہار اپنے آپ کو بہتر کرنے کا موقع دیتی ۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے پارٹی رہنمائوں کے ہمراہ چیئرمین سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ فواد چوہدری نے کہا کہ جو ٹرینڈ چل رہا ہے اس کے مطابق جس صوبے میں جس سیاسی جماعت کی حکومت ہوتی ہے 90فیصد ضمنی انتخاب بھی وہی جماعت جیتتی ہے۔یہ بات طے ہے کہ پورے پنجاب میں مقابلہ صرف (ن)لیگ اور تحریک انصاف کا ہی ہے، کہیں پر (ن) لیگ تگڑی ہے اور کہیں تحریک انصاف کی پوزیشن بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح بانی متحدہ کے بعد ایم کیو ایم ٹکڑوں میں بٹ گئی ہے اسی طرح مسلم لیگ (ن)کے بھی اتنے ٹکڑے ہوں گے کہ یہ پہچاننا بھی مشکل ہو جائے گا کہ اصل (ن)لیگ کون سی ہے۔موروثی سیاست سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ موروثی سیاست اور انتخابی سیاست میں فرق ہوتا ہے، موروثی سیاست یہ ہوتی کہ اگر جہانگیر ترین کی جگہ علی ترین کو تحریک انصاف کا سیکرٹری جنرل لگا دیا جاتا اور یہ بالکل غلط بات ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ خود مسلم لیگ (ن)کے رہنما عبد الرحمان کانجو نے کہا کہ اگر علی ترین کی جگہ کوئی دوسرا امیدوار ہوتا تو ہم اسے ایک لاکھ ووٹوں سے ہراتے، ٹکٹ مقامی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے دینا ہوتا ہے۔انہوںنے الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ شاہد خاقان عباسی میانوالی میں عمران خان کے حلقے میں جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر گائوں میں گیس فراہم کی جائے گی۔

فواد چوہدری نے الزام عائد کیا کہ (ن) لیگ اپنے ایم این ایز کو اب تک 94 ارب روپے فراہم کر چکی ہے، الیکشن کمیشن کو یہ دھاندلی نظر نہیں آتی لیکن ایک اپوزیشن لیڈر جو نہ گیس دے سکتا ہے اور نا کسی منصوبے کا افتتاح کر سکتا ہے وہ جا کر تقریر کرتا ہے تو الیکشن کمیشن اسے نوٹس جاری کر دیتا ہے۔انہوںنے کہا کہ پچھلی مرتبہ جب راجہ پرویز اشرف نے الیکشن سے پانچ ماہ پہلے اپنے حلقے میں فنڈز بھیجے تھے تو سپریم کورٹ نے انہیں کالعدم قرار دیدیا تھا لیکن الیکشن کمیشن کے کان میں آپ بھونپو بجا لیں انہیں آواز نہیں آئے گی۔

انہوںنے کہا کہ نیب کا نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کرنا خوش آئند ہے۔اسحاق ڈار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نہ ڈالنے پر احسن اقبال کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ نیب کے احکامات پر عملدرآمد کرانے میں حکومت رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ نیب طاقتور لوگوں کا احتساب کرے گی تو کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت صرف خالی اکثریت کا نام نہیں، قانونی کی حکمرانی کے بغیر جمہوریت ادھوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان، پرویز خٹک یا کوئی دوسرا بھی قانون سے بالاتر نہیں ، اگر پی ٹی آئی غلط کرے تو وہ بھی جوابدہ ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/02/2018 - 19:20:45

اس خبر پر آپ کی رائے‎