انتہا پسندی اور عدم برداشت کے خاتمے کیلئے زیادہ سے زیادہ قومی ہم آہنگی کی ضرورت ..
تازہ ترین : 1

انتہا پسندی اور عدم برداشت کے خاتمے کیلئے زیادہ سے زیادہ قومی ہم آہنگی کی ضرورت ہے ،ْقومی اسمبلی نے قرار داد منظور کرلی

عالمی کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے، تمام مسالک اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے علماء اور دانشور شرکت کریں گے ،ْوزیر مذہبی امور عارف علوی کی جانب سے پیش کی گئی ترمیم مسترد ،ْ قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین بل 2018ء کی منظوری دیدی ْرواں سال بجٹ میں زرعی قرضوں کے اجراء کے لئے 1001 ارب روپے مختص کئے گئے تھے ،ْوز ار ت خزانہ بینکوں کو ٹیکسوں کی وجہ سے شرح سود کم کرنے میں مشکلات کا آ رہی ہیں ،ْحکومت معاملے پر بینکوں سے بات چیت کر رہی ہے ،ْ رانا افضل

انتہا پسندی اور عدم برداشت کے خاتمے کیلئے زیادہ سے زیادہ قومی ہم آہنگی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 فروری2018ء) قومی اسمبلی نے ملک میں انتہا پسندی اور عدم برداشت کے خاتمے کے لئے زیادہ سے زیادہ قومی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قرارداد کی منظوری دیدی ہے۔ منگل کو بیلم حسنین نے قرارداد ایوان میں پیش کی۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ حکومت پہلے ہی مذہبی ہم آہنگی کے لئے کام کر رہی ہے، اقلیتی کمیشن نے بنایا ہے ،ْ اس میں مسلم اور غیر مسم ہر ایک کی نمائندگی ہے۔

یہ مذہبی تہوار مذہبی عقیدت سے سرکاری طور پر منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عالمی کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے، تمام مسالک اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے علماء اور دانشور شرکت کریں گے۔ حکومت اس حوالے سے تجاویز کا خیر مقدم کرے گی۔ بیلم حسنین نے کہا کہ لوگوں کے دلوں میں وسعت پیدا ہونی چاہیے۔ انسان کو انسانیت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

مذہب کے نام پر تشدد سے گریز کرنا چاہیے۔ شیر اکبر خان نے کہا کہ ملک میں ایک دن روزہ اور عید نہیں ہوتی، اگر سعودی عرب کے ساتھ روزہ اور عید ہو تو یہ ملک و قوم کے لئے اچھا ہو۔ حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ ایک دوسرے کو کافر قرار دے کر قل کرنے سے گریز کرنا چاہیے، دنیا کے تمام مسلمان ممالک میں سوائے ایران پاکستان کے ایک ہی دن روزہ اور عید ہوتی ہے۔

اگر سعودی عرب کے ساتھ ہم بھی عید روزہ کر لیں تو یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ شازیہ مری نے کہا کہ صرف تقاریب کافی نہیں ہیں، مذہبی عدم برداشت آج بہت زیادہ ہے، ہم پاکستان سے دہشت گردی، عسکریت پسندی، نفرت آمیز تقاریر ختم نہیں کر سکے، حکومت اپوزیشن مل کر ایک لائحہ عمل بنائے تاکہ ان بیماریوں کا خاتمہ ہو۔ عائشہ گلالئی نے کہا کہ مسیحی برادری کا مطالبہ ہے کہ وہ اقلیتوں کے لئے مخصوص نشستیں براہ راست انتخاب سے پر کی جائیں، گوجرہ جیسے واقعات وقوع پذیر ہونے کی وجوہات پر غور کیا جائے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کا اس حوالے سے کردار کلیدی ہونا چاہیے۔ یہ قرارداد منظور ہونی چاہیے۔ ثریا اصغر نے کہا کہ اسلام حسن اخلاق کا درس دیتا ہے، ہمارے معاشرے میں عدم برداشت ہے، قرارداد کے حق میں سید عیسیٰ نوری نے بھی بات کی۔ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ یہ سن کو افسوس ہوتا ہے کہ جب یہ بات کی جاتی ہے کہ مذہب انسان کو لڑاتا ہے۔ اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین بل 2018ء کی منظوری دی گئی ۔

نگہت پروین میر نے قومی اسمبلی میں تحریک پیش کی کہ اس بل کو زیر غور لایا جائے۔ اس کی منظوری کے بعد انہوں نے بل ایوان میں پیش کیا۔ ڈپٹی سپیکر نے اس کی مرحلہ وار منظوری لی۔ ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے پیش کی گئی ترمیم ایوان نے کثرت رائے سے مسترد کر دی۔ گریڈ ایک سے پندرہ تک قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی محکمہ سلیکشن کمیٹی کرے گی، 16 سے 19 تک کے ملازمین کی بھرتی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہو گی۔

ڈاکٹر عذرا فضل، شفقت محمود اور خورشید شاہ کا موقف تھا کہ گریڈ ایک سے پندرہ تک کے ملازمین کی بھرتیاں بھی باقاعدہ مشتہر کر کے طریقہ کار کے تحت کی جائیں۔ سید نوید قمر نے کہا کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ملازمین کو سول سروس کا درجہ حاصل نہیں ہے، ہم اختیارات فرد واحد کو دینے کی حمایت نہیں کر سکتے، بل اتفاق رائے سے منظور ہونا چاہیے، اسے بلڈوز نہ کیا جائے۔

وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے اس کو موقف سے اتفاق کیا اور اپوزیشن کی ترمیم کی حمایت کردی۔ ڈاکٹر عارف علوی نے ترمیم پیش کی کہ گریڈ ایک سے پندرہ تک کے ملازمین کی بھرتیاں بھی مشتہر کرکے کی جائیں، اس کا اختیار محکمانہ سلیکشن کمیٹی کے پاس نہیں ہونا چاہیے۔ قومی اسمبلی نے اس ترمیم کی منظوری دیدی۔ ڈاکٹر عارف علوی کی درخواست گزار کے کردار اور قابلیت کے حامل ہونے کے حوالے سے بھی ترمیم منظور کر لی۔

ڈپٹی سپیکر نے یکے بعد دیگرے تمام شقوں کی ایوان سے منظوری حاصل کی۔ نگہت پروین میر نے تحریک پیش کی کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین بل 2018ء منظور کیا جائے۔ قومی اسمبلی نے بل کی منظوری دیدی۔ اجلاس کے دور ان پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر کے پنجاب اور ملک کے باقی حصوں کے درمیان فارم قرضہ جات کی تقسیم میں عدم مساوات کے حوالے سے توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل خان نے کہا کہ قرضوں کے فام ہر صوبے میں قابل کاشت زمین کو مدنظر رکھ کر فارمولا ترتیب دیا گیا، پنجاب میں زیر کاشت رقبہ 77 فیصد، سندھ میں 12 فیصد، کے پی کے میں 5 فیصد، بلوچستان میں 6 فیصد ہے اس لحاظ سے پنجاب کو 72500 ملین، سندھ کو 14092 ملین، کے پی کے کو 7300 ملین اور بلوچستان 6600 ملین روپے کا زرعی قرضہ فراہم کیا گیا۔

انہوں نے کہہا کہ پنجاب میں زرعی ترقیاتی بینک کی 253 برانچیں ہیں جبکہ سندھ میں 93، کے پی کے میں 62 اور بلوچستان میں 31 برانچیں ہیں۔ سندھ کی 77 فیصد، بلوچستان کی 100 فیصد، کے پی کے کی 51 فیصد برانچیں نقصان میں جا رہی ہیں۔ پنجاب میں ریکوری بہتر ہے۔ توجہ مبذول نوٹس پر سید نوید قمر، سید غلام مصطفی شاہ، عبدالستار بچانی اور ڈاکٹر عذرا فضل کے سوالات کے جواب میں وزیر مملکت نے کہا کہ ہم کسی کو چور نہیں کہتے، جن علاقوں سے ریکوری نہیں ہو رہی، بینک قرضہ انہی کو دیتے ہیں جو واپس کرتے ہیں۔

رواں سال ہم نے بینکوں کو 1001 ارب روپے کا ٹارگٹ دیا گیا، قرضوں کے اجراء میں تینوں چھوٹے صوبوں کی نسبت پنجاب میں گروتھ کی شرح کم ہے، فنڈنگ کا کوئی مسئلہ نہیں، فنڈز تو پورے استعمال ہی نہیں ہوتے۔ ایک اور سوال کے جواب میں زرعی قرضوں کے اجراء میں زرعی ترقیاتی بینک کا حصہ 30 فیصد ہے، باقی دیگر کمرشل بینک کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی قرضوں کے لئے دستیاب رقم بھی ابھی تک استعمال نہیں کی جا سکی، اس لئے فنڈز کی کمی کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ صوبوں کے پاس ہے، صوبوں کو چاہیے کہ وہ سبسڈی دیں، زرعی ترقیاتی بینک کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ اس نے سٹیٹ بینک سے 44 ارب قرضہ حاصل کر رکھا ہے جس پر وہ سود ادا کر رہے ہیں، جن لوگوں سے ریکوری نہیں ہوتی، بینک انہیں مزید قرضہ دینے سے گریز کرتے ہیں۔ سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ زرعی قرضوں پر شرح سود بہت زیادہ ہے، غریب کاشتکار یہ ادا کرنے سے قاصر ہے۔

اس پر وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل خان نے کہا کہ بینکوں کو ٹیکسوں کی وجہ سے شرح سود کم کرنے میں مشکلات کا آ رہی ہیں، تاہم حکومت اس معاملے پر بینکوں سے بات چیت کر رہی ہے۔ سید خورشید احمد شاہ اور حاجی غلام احمد بلور نے تجویز دی کہ زرعی قرضوں پر شرح سود اور اس کے اجراء کیلئے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے جو بینکوں کے سربراہان کو طلب کر کے بات چیت کرے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل خان نے کہا کہ جس طرح پنجاب نے زرعی قرضوں پر 100 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے، دیگر صوبوں کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہر صوبے کو چاہیے کہ وہ اپنا زرعی بینک قائم کرے۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس (آج) بدھ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/02/2018 - 16:12:15

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :