قومی اسمبلی کی مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس ایوان میں پیش کر دی گئیں
تازہ ترین : 1

قومی اسمبلی کی مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس ایوان میں پیش کر دی گئیں

قومی اسمبلی، قواعد و ضوابط کے قواعد 2007ء میں 8 ترامیم پیش، مزید غور کے لئے متعلقہ کمیٹی کے سپرد

قومی اسمبلی کی مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس ایوان میں پیش کر دی گئیں
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 فروری2018ء) قومی ا سمبلی کی مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس ایوان میں پیش کر دی گئیں ۔ منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی علاقہ دارالحکومت اسلام آباد امتناع ملازمت بچگان بل 2017ء پر رپورٹ پیش کردی گئی۔ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رانا شمیم احمد خان نے ایوان سے رپورٹ پیش کرنے میں تاخیر کے حوالے سے صرف نظر کی تحریک کی منظوری کے بعد قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔

قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کی چار رپورٹیں ایوان میں پیش کر دی گئیں۔ کمیٹی کی رپورٹ آسیہ ناز تنولی نے حق بلامعاوضہ و لازمی تعلیم (ترمیمی) بل 2017ء، قومی تصادم مفادات بل 2016ء، بیمہ صحت سکیم برائے معذوراں بل 2017ء اور حق بلامعاوضہ لازمی تعلیم (ترمیمی) بل 2017ء پر کمیٹی کی رپورٹیں ایوان میں پیش کیں۔اجلا س کے دور ان قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کی بچوں کی شادی کا امتناع (ترمیمی) بل 2017ء پر رپورٹ ایوان میں پیش کردی گئی۔

کمیٹی کی چیئرپرسن شگفتہ جمانی نے تاخیر کے حوالے سے صرف نظر کی تحریک کی منظوری کے بعد کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔اجلاس کے دوران قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی پانچ رپورٹیں پیش کر دی گئیں۔ رکن قومی اسمبلی آسیہ ناز تنولی نے دستور (ترمیمی) بل 2017ء کے آرٹیکل 37 میں ترمیم، دستور (ترمیمی) بل 2017ء کے آرٹیکل 160 میں ترمیم، دستور (ترمیمی) بل 2015ء کے آرٹیکل 63 میں ترمیم، دستور (ترمیمی) بل 2017ء کے آرٹیکل 5 میں ترمیم، دستور (ترمیمی) بل 2017ء کے آرٹیکل 158 میں ترمیم کے حوالے سے یکے بعد دیگر کمیٹی کی رپورٹیں ایوان میں پیش کیں۔

اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل 2017ء پر کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کردی گئی۔ عارفہ خالد پرویز نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002ء میں ترمیم کرنے کے بل پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل 2017ء پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔

اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و اقتصادی امور کی مائیکرو فنانس انسٹی ٹیوشنز (ترمیمی) بل 2017ء پر رپورٹ ایوان میں پیش کردی گئی۔ کمیٹی کے چیئرمین قیصر احمد شیخ نے مائیکرو فنانس انسٹی ٹیوشنز آرڈیننس 2001ء میں ترمیم کرنے کے بل پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی پاکستان پرائیویٹ کوریئر ریگولیٹری اتھارٹی بل 2015ء پر کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کردی گئی۔

نسیمہ حفیظ پانیزئی نے پاکستان پرائیویٹ کوریئر ریگولیٹری اتھارٹی بل 2015ء پر کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و استحقاقات کی دو رپورٹیں ایوان میں پیش کردی گئیں۔ رکن قومی اسمبلی کرن حیدر نے یکے بعد دیگرے قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط و طریقہ کار کے قاعدہ 122 میں ترمیم اور قومی اسمبلی کے قواعد 2007ء کے قاعدہ 118 میں ترمیم کے حوالے سے کمیٹی کی رپورٹیں ایوان میں پیش کیں۔

اجلاس کے دور ان قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے قواعد 2007ء میں 8 ترامیم پیش کر دی گئیں جو مزید غور کیلئے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردی گئیں۔ رکن اسمبلی شازیہ مری نے قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے قاعدہ 200، 206، 208، 210، 212، 244، 244 ب، 244 ج میں ترامیم پیش کیں۔ ان کا موقف تھا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ تعداد ہونی چاہیے جس پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ تمام قائمہ کمیٹیوں میں زیادہ سے زیادہ خواتین کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔ قائمہ کمیٹیوں کا ریکارڈ دیکھا جا سکتا ہے۔ وزیر پارلیمانی امور نے قواعد میں ترامیم کی مخالفت نہیں کی اس بناء پر ترامیم متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دی گئیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/02/2018 - 15:58:39

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :