پبلک اکائونٹس کمیٹی نے ملک کے تعلیمی نظام پر سوالات اٹھا دیئے ،
تازہ ترین : 1

پبلک اکائونٹس کمیٹی نے ملک کے تعلیمی نظام پر سوالات اٹھا دیئے ،

اکثریتی آبادی ناخواندہ ہے،کمیٹی ملک میں خواندہ افراد 20فیصد سے بھی کم ہیں‘ کمیٹی رکن محمود خان اچکزئی کمیٹی کا ایف آئی اے حکام کی جانب سے تیار کرکے نہ آنے پر بھی اظہار برہمی چیئرمین کمیٹی نے وزارت تعلیم کو بھی لاجواب کردیا‘ وزارت تعلیم والے غلط اعداد و شمار بتا رہے ہیں‘ کیا آئندہ ایف آئی اے سربراہ کو کمیٹی میں بٹھایا جائے،سید خورشید شاہ کمیٹی رکن شفقت محمود نے وزارت حکام سے خواندگی کی تعریف پوچھی تو وزارت حکام جواب نہ دے سکے‘ کمیٹی کا اظہاربرہمی ، وزارت حکام کے پاس معلومات نہیں تو کس کے پاس ہوں گی

پبلک اکائونٹس کمیٹی نے ملک کے تعلیمی نظام پر سوالات اٹھا دیئے ،
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 فروری2018ء) پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے ملک کے تعلیمی نظام پر سوالات اٹھا دیئے‘ کمیٹی نے کہا کہ ملک کی اکثریتی آبادی ناخواندہ ہے‘ کمیٹی رکن محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک میں خواندہ افراد 20فیصد سے بھی کم ہیں‘ کمیٹی چیئرمین سید خورشید شاہ نے وزارت تعلیم کے افسران کو بھی لاجواب کردیا‘ وزارت تعلیم والے غلط اعداد و شمار بتا رہے ہیں‘ کمیٹی رکن شفقت محمود نے وزارت حکام سے خواندگی کی تعریف پوچھی تو وزارت حکام جواب نہ دے سکے‘ کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت کے حکام کے پاس معلومات نہیں ہیں آخر کس کے پاس ہوں گی‘ کمیٹی نے ایف آئی اے حکام کی جانب سے تیار کرکے نہ آنے پر بھی برہمی کا اظہار کیا‘ کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ کیا آئندہ ایف آئی اے سربراہ کو کمیٹی میں بٹھایا جائے۔

پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں وزارت وفاقی تعلیم کے مالی سال 2016-17 پر آڈٹ اعتراضات سمیت بجٹ گرانٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری وزارت تعلیم نے وزارت کی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔ بنیادی کمیونٹی تعلیم کے ڈائریکٹوریٹ جنرل کی کارکردگی کے حوالے سے بھی اجلاس کو بریفنگ دی گئی۔

آڈٹ حکام نے کمیٹی میں انکشاف کیا کہ انڈومنٹ فنڈ کی سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے قومی خزانے کو پانچ کروڑ ستر لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ اس پر وزارت کو ذمہ داروں کا تعین کرنا چاہئے سیکرٹری وفاقی تعلیم نے کمیٹی کو بتایا کہ پیسہ کی سرمایہ کاری نیشنل بنک آف پاکستان میں کی گئی۔ گلگت بلتستان کی حکومت نے کہا کہ یہ سکول ہمیں دیئے جائیں مگر انڈومنٹ فنڈ جو کہ این بی پی میں تھا اس کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا۔

چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہا کہ حکومتی پیسہ اس میں بھول کرنے والوں کا تعین ہونا چاہئے پانچ کروڑ کا نقصان کسی کی نالائقی کی وجہ سے ہوا ہے اس کو سزا ملنی چاہئے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ دو آدمیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا ان کی تنخواہیں بھی شامل کرلیں تو بھی نقصان پورا نہیں ہوسکتا۔ سیکرٹری وزارت نے بتایا کہ کمرشل ریٹ پر یہ پیسہ بنک ممیں پڑا ہوا تھا جس پر آڈٹ حکام نے بتایا کہ یہ پیسہ پی ایل ایس اکائونٹ میکں تھا اس پر اتنا پیسہ تو نہیں ملتا کمیٹی نے معاملے پر تیس روز میں رپورٹ طلب کرلی۔

کمیٹی نے آڈٹ حکام کو بھی ہدایت کی کہ جو شرح سود نیشنل بنک سے حاصل کیا گیا اس کو بھی جمع کیا جائے۔ ڈائریکٹر جنرل بنیادی کمیونٹی تعلیم کے سکولوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ ہر بچہ سکول میں کس مقصد سے بی ای سی ایس کام کررہا ہے ہمارا مقصد ہے کہ پرائمری سطح کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے۔ پرائمری سطح 23فیصد بچے سکول سے باہر ہیں اور صوبوں میں سکول سے باہر بچے 30فیصد ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ میں اس وزارت کا تین دفعہ وزیر رہ چکا ہوں ڈراپ آئوٹ تناسب بتائیں ایک بچے کتنے گھنٹے پڑھتا ہی جس پر وزارت تعلیم کے حکام جواب نہیں دے سکے۔

جس پر وزارت حکام نے کہا کہ اس پر بریفنگ دیں گے کمیٹی نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنی ب جٹ کی طلب کو کلیئر کیا ہے اور ادارے کے لوگوں کو کچھ معلوم ہی نہیں خورشید شاہ نے کہا کہ اعداد و شمار مجھ سے پوچھیں بی اے تک صرف بارہ فیصد بچے جاتے ہیں میٹر کے بعد 38 فیصد بچے تعلیم چھوڑ دیتے ہیں سال میں 800 گھنٹے ایک بچے کے پڑھنے کا عالمی معیار ہے بدقسمتی سے ہمارے دیہاتوں کے بچے 150 گھنٹے پڑھتے ہیں کسی بھی حکومت نے تعلیم پر توجہ نہیں دی 1.58 فیصد تعلیم کے لیء ٹوٹل جی ڈی پی رکھا گیا سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ این سی ایچ ڈی کا بجٹ گرانٹ سے آتا تھا جس پر کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ این سی ایچ ڈی کے اساتذہ کو ترقیاتی بجٹ سے تنخواہ دی جاتی ہے اور آٹھ ہزار تنخواہ دی جارہی ہے حکومت نے خود کم سے کم اجرت پندرہ ہزار رکھی ہے۔

سیکرٹری تعلیم نے کہا کہ این سی ایچ ڈی سٹاف کے کیس عدالتوں میں بھی ہیں اور اب ان کا کیس خزانہ اور اسٹیبلشمنٹ کو بھجوایا گیا گیا کمیٹی رکن رجاہ جاوید اخلاص نے کہا کہ 1985 میں ورلڈ بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے دو کمرے کے سکولوں نے ایجوکیشن کے معیار کو نقصان پہنچایا۔ چیئرمین کمیٹی نے ایک ٹیچر 90 بچوں کیلئے ہے سیکرٹری تعلیم نے کہا کہ 39 بچوں پر ایک ٹیچر ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ حکومت سے اگر یہی غلط بیانی کی جائے گی تو بجٹ کیسے ملے گا ڈی جی بی ای سی ایس نے بتایا کہ چتائیوں پر بچوں کو بٹھا کر پڑھاتے ہیں جن کو ہم پڑھاتے ہیں وہ غریب ہیں جہاں بجلی اور پانی نہیں ہوتا ہمیں کتابوں کے لئے بجٹ ہی نہیں ملا ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا اس سال بچوں کو کتابیں ابھی تک نہیں پہنچیں وزارت حکام نے بتایا کہ منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے وقت پر فنڈز کیسے ملتے جو فنڈز ہمیں ملتے تھے وہ بھی کاٹ لئے گئے ہیں۔

سردار عاشق گوپانگ نے کہا کہ ادارے کے پاس مانیٹرنگ سسٹم نہیں تو کیسے چلے گا ہمیں مانیٹرنگ فنڈ نہیں دیا جاتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہا کہ ہم نے ستمبر 2016 میں ادارے کے حوالے سے رپورٹ مانگی تھی وہ ابھی تک نہیں ہے ڈی جی بی ای سی ایس نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس کیس ہے۔ دو ماہ میں رپورٹ مانگی تھی ان کو تمام دستاویزات دی گئی ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے ایف آئی اے حکام سے پوچھا ایف آئی اے حکام نے کہا کہ میرے علم میں نہیں ہے۔

جس پر کمیٹی چیئرمین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پھر آپ کیا لینے آتے ہیں اب بریفنگ کے لئے ایف بی آئی سربراہ کو بلائوں کہ وہ خود آکر پی اے سی میں بیٹھیں۔ کمیٹی نے تمام صوبوں بشمول آزاد کشمیر‘ فاٹا‘ گلگت بلتستان میں موجود سکولوں کی فہرست پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/02/2018 - 15:52:05

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :