میری والدہ کہتی تھیں کہ میں چلی جاؤں گی تو تم لوگوں کو پتہ چلے گا ۔ منیزے جہانگیر ..
تازہ ترین : 1

میری والدہ کہتی تھیں کہ میں چلی جاؤں گی تو تم لوگوں کو پتہ چلے گا ۔ منیزے جہانگیر

میری والدہ کہتی تھیں کہ میں چلی جاؤں گی تو تم لوگوں کو پتہ چلے گا ۔ منیزے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 13 فروری 2018ء): نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر کی بیٹی منیزے جہانگیر نے کہا کہ میں اپنی والدہ کو آرام کا مشورہ دیتی تھی لیکن وہ منع کر دیتی تھیں اور کہتی تھیں کہ مجھے اپنا مشن پورا کرنا ہے ، انہو ں نے کہا کہ میری والدہ مجھے ہمیشہ کہتی تھیں کہ جب میں چلی جاﺅں گی تو پھر تم لوگوں کو پتہ چلے گا ۔

اور اب واقعہ ہمیں پتہ چل جائے گا۔ انہوں نے ہمیشہ اصولوں کے لیے لڑائی کی ۔وہ کہا کرتی تھیں کہ انسان تو آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اصول ہمیشہ قائم رہتے ہیں ان پر ڈٹے رہنا چاہئیے۔ منیزے جہانگیر نے کہا کہ میری والدہ کی عمر محض 65 برس تھی وہ بہت جلدی چلی گئی ہیں ابھی تو انہوں نے کتاب بھی لکھنی تھی۔ منیزے نے بتایا کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کو لے کر پریشان تھیں۔

وہ مجھے ہمیشہ کہتی تھیں کہ ہمارے پاکستانی وہ ہیرہ ہیں جس کو کسی نے تراشا نہیں ہے۔ ان میں بہت ہمت ہے۔ منیزے نے بتایا کہ میری والدہ کینسر جیسے موذی مرض سے صحتیاب ہو گئی تھیں ان کو دل کی تکلیف تھی لیکن پھر وہ ٹھیک ہو گئی تھیں، ان کے پاس بہت زیادہ کیسز تھے جب میں آرام کا مشورہ دیتی تھی تو وہ کہتی تھیں کہ جن لوگوں سے فیس لی ہوئی ہے ان کا کام کرنا ہے آرام نہیں کر سکتی ۔ عاصمہ جہانگیر کی بیٹی نے مزید کیا بتایا آپ بھی دیکھیں:
وقت اشاعت : 13/02/2018 - 11:39:32

اس خبر پر آپ کی رائے‎