پرویز مشرف کو خاموش این آر او کے ذریعے ملک سے باہر بھیجا گیا
تازہ ترین : 1

پرویز مشرف کو خاموش این آر او کے ذریعے ملک سے باہر بھیجا گیا

نواز شریف نے یہ تاثر دیا کہ انہیں اس سے متعلق کوئی علم نہیں تھا ، ان کو اب غصہ اس لیے ہیں کیونکہ عدلیہ نے ان کے اپنے خلاف فیصلہ دے دیا ہے۔ حامد میر

پرویز مشرف کو خاموش این آر او کے ذریعے ملک سے باہر بھیجا گیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 جنوری 2018ء) : نجی ٹی وی چینل پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی حامد میر نے کہا کہ آج کل نواز شریف جن خیالات کا اظہار کر رہے ہیں ان کے یہ خیالات نئے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی بہت سی باتیں درست ہیں لیکن ان کی ٹائمنگ غلط ہے۔جب نواز شریف وزیرا عظم تھے اور پرویز مشرف کے بارے میں فیصلہ آیا تھا تب میں نے اپنے پروگرام میں کہا کہ مشرف کو ایک خاموش این آر او کے تحت پاکستان سے باہر بھگایا ہے ، تب نواز شریف نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا اور کہا کہ میں آپ سے اتفاق نہیں کرتا ،میں نے ان سے درخواست کی کہ آپ سپریم کورٹ کا فیصلہ منگوا لیں ۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ منگوایا گیا تو معلوم ہوا کہ اس میں ایسی کوئی بات نہیں تھی ۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ مشرف کے بیرون ملک جانے سے متعلق وفاقی حکومت فیصلہ کرے گی۔اس پر نواز شریف نے یہ تاثر دیا کہ انہیں کسی بات کا علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے غلط کیا ، اٹارنی جنرل اچھا آدمی نہیں ہے اور پھر اٹارنی جنرل بدل کیا ۔ اگر اس وقت نواز شریف کو اس بات علم نہیں تھا تو انہیں چاہئیے تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں اس کے خلاف ایک ریویو پٹیشن فائل کرتے ، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

اب آ کر انہوں نے عدلیہ پر تنقید شروع کر دی ہے۔ کیونکہ اب ان کے اپنے خلاف فیصلہ آیا ہے ۔سپریم کورٹ نے اس سے قبل ایک اور فیصلے میں کہا تھا کہ وزیراعظم اپنی کابینہ کو بائی پاس کرتے ہیں ، کسی ایک شخص کے فیصلے کو حکومت کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ تب بھی انہون نے اس کے خلاف ریویو فائل نہیں کیا۔تب وہ کیوں خاموش تھے ؟ جب چودھری نثار علی خان سے متعلق کوئٹہ کمیشن نے فیصلہ دیا تو وہ ریویو میں چلے گئے تھے لیکن نواز شریف نے کبھی ریویو پٹیشن دائر نہیں کی۔

نوازشریف کی پالیسی کے بارے میں کہنا درست ہے کہ وہ غصے کا شکار ہیں لیکن آج کل جو باتیں کر رہے ہیں وہ نئی باتیں نہیں ہے، وہ اس سے بھی زیادہ سخت باتیں کرتے تھے۔ان کے آس پاس کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ان سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ باتیں کرنی چاہئیں۔ لیکن بہت سے لوگ ایسے ہیں کو سوچتے ہیں کہ ہم خود تباہی کے راستے پر چل رہے ہیں۔ تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتیں کو پریشانی ہے کہ اب تک شہباز شریف نے کیوں عدلیہ اور فوج کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا۔ وہ چاہتے ہیں کہ شہباز شریف بھی ایسی بیان بازی کریں تاکہ مسلم لیگ ن کی بچت بھی نہ ہو، اور ملک میں حالات خراب ہو جائیں ۔ حامد میر نے مزید کیا کہا آپ بھی ملاحظہ کیجئیے:

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 20/01/2018 - 14:37:25

اس خبر پر آپ کی رائے‎