ملک کو انتشار اور دھرنوںکی نہیں یکجہتی اور استحکام کی ضرورت ہے ،
تازہ ترین : 1

ملک کو انتشار اور دھرنوںکی نہیں یکجہتی اور استحکام کی ضرورت ہے ،

پیک کے منصوبے کی کامیابی سے مخالفین پریشان ہیں پوری دنیا کے سرمایہ کار وں کا رخ اب پاکستان کی طرف ہے، کوئی بھی ملک تعلیم کے بغیر ترقی کی منازل تہ نہیں کرسکتا، حکومت تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سر توڑ کوشش کررہی ہے ،یہی وجہ ہے کہ ملک کے ہر کونے میں یونیورسٹی کے جال بچھائے جارہے ہیں،تعلیم کے میدان میں جن قوموں نے ترقی کی ان کی معیشت مضبوط ہے،اگرہم نے خود دار قوم بننا ہے توہمیں اپنی معیشت کو مضبو ط کرناہوگا وفاقی وزیر داخلہ، منصوبہ بند ی و ترقی احسن اقبال کا نارووال میں تقریبات سے خطاب

ملک  کو انتشار اور دھرنوںکی نہیں یکجہتی اور استحکام کی ضرورت ہے ،
نارووال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جنوری2018ء) وفاقی وزیر داخلہ، منصوبہ بند ی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو انتشار اور دھرنوںکی نہیں بلکہ یکجہتی اور استحکام کی ضرورت ہے تعلیم کے میدان میں جن قوموں نے ترقی کی ان کی معیشت مضبوط ہے،اگرہم نے خود دار قوم بننا ہے توہمیں اپنی معیشت کو مضبو ط کرناہوگا، پیک کے منصوبے کی کامیابی سے مخالفین پریشان ہیں ،پوری دنیا کے سرمایہ کار وں کا رخ اب پاکستان کی طرف ہے، کوئی بھی ملک تعلیم کے بغیر ترقی کی منازل تہ نہیں کرسکتا۔

ہماری حکومت تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سر توڑ کوشش کررہی ہے اوریہی وجہ ہے کہ ملک کے ہر کونے میں یونیورسٹی کے جال بچھائے جارہے ہیں۔ وہ ہفتہ کو یہاں گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج بدوملہی اور گورنمنٹ کالج برائے خواتین بدوملہی میں طلباء اور طالبات کی تقریبات سے خطا ب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک تعلیم کے بغیر ترقی کی منازل تہ نہیں کرسکتا۔

ہماری حکومت تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سر توڑ کوشش کررہی ہے ۔ اورہی وجہ ہے کہ ملک کے ہر کونے میں یونیورسٹی کے جال بچھائے جارہے ہیں۔ یونیورسٹی آف نارووال کیمپس کو جلد ہی یونیورسٹی آف نارووال کردیا جائے گا۔سی پیک کے منصوبے کی کامیابی سے مخالفین پریشان ہیں ۔ پوری دنیا کے سرمایہ کار وں کا رخ اب پاکستان کی طرف ہے۔ اس وقت خودکونام نہاد بڑے لیڈر کہلوانے والے جو یورپ کی مثالیں دیتے ہیں۔

ان ممالک میں ترقی کیا دھرنوں کی وجہ سے آئی ۔ 2025؁ء تک پاکستان 25ترقیاتی ممالک میں شامل ہوجائے گا۔ 2013میں جب ہم کو حکومت ملی تو ملک معاشی اور معاشرتی بدحالی کا شکارتھا۔ ہر طر ف خوف کے سائے تھے ملک دہشت گردی اور اندھروں ڈوبا ہوا تھا۔ 20,20گھنٹے بجلی کی لوڈ شیدنگ ہوتی تھی۔ اب 20,20گھنٹے بجلی مہیا ہورہی ہے۔ اب دوسرے ممالک پاکستان کے امن کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔

اس لیے اب گاہے بگاہے کہی نہ کہی دہشت گردی کا واقعہ روح نما ہوجاتا ہے۔ پاکستان فورسز نے ملک سے دہشت گردوں کا خاتمہ کردیا ۔ جس سے دہشت گردی کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ پاکستان تھر میں چائنہ کے ساتھ مل کرکے بجلی کے بڑے منصوبے پر کام کر رہے ہیں ۔ جس سے آنے والے چارسوسال تک وافر مقدار میں بجلی مہیا ہوگی۔کسی بھی نا تجربہ کار افراد کو ملک کی بھاگ دوڑ نہیں دی جاسکتی ۔

جن افراد کو یونین کونسل چلانی نہیں آتی انہیں سیاست کا کچھ علم نہیں ہوسکتا۔ آنے والے عام انتخابات میں نوجوان اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں ۔ ہم پورے ملک میں سڑکوں کا جھال بچھا رہے ہیں لاہور ناررووال نیو روڈ کو ڈبل کرنے کامنصوبہ بہت جلد شروع کردیا جائے گا جس کے لیے 14ارب روپے کی رقم مختص کردی گئی ہے۔ انہوںنے گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج بدوملہی میں چالیس لاکھ روپے کے فنڈز کابھی اعلان کردیا جو اسسٹنٹ ڈائریکٹر کالجز پروفیسر محمد ارشد کو حکم دیا کہ وہ ایک ہفتہ کو فنڈز کو ریلیز کردیے۔

گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین بدوملہی میں آنے والی نئی کلاسز کے آغاز پر ایم اے کی کلاسز کا بھی اجراء کردیا جائے گا۔ آئندہ ہفتے بدوملہی کو سوئی گیس کی فراہمی کے لیے پائپ لائن بچھانے کے کام کا افتتاح کردیا جائیگا۔اور آنے والے چار ماہ میں بدوملہی کو سوئی گیس فراہم کردی جائے گی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/01/2018 - 22:39:24

اس خبر پر آپ کی رائے‎