انصاف بک نہیں سکتا،مجھےاورججزکوکوئی معافی نہیں،چیف جسٹس سپریم کورٹ
تازہ ترین : 1

انصاف بک نہیں سکتا،مجھےاورججزکوکوئی معافی نہیں،چیف جسٹس سپریم کورٹ

بدقسمتی سےاس وقت جوفیصلےآرہےہیں قانون کی بجائےمرضی پرمحیط ہیں،ججز کی دیانتداری پرشک نہیں ہوناچاہیے،ایک سال سےزیادہ ٹرائل نہیں چلناچاہیے،انصاف میں تاخیر کی ذمہ داری عدلیہ پرنہیں ڈالی جاسکتی،قانون بناناپارلیمنٹ کی ذمہ داری ہماراکام قانون کولاگوکروانا ہے۔جسٹس ثاقب نثار کاکراچی میں جوڈیشل کانفرنس سے خطاب

انصاف بک نہیں سکتا،مجھےاورججزکوکوئی معافی نہیں،چیف جسٹس سپریم کورٹ
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 جنوری 2018ء): چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ انصاف بک نہیں سکتا،مجھے اور ججز کوکوئی معافی نہیں، بدقسمتی سے جوفیصلے آرہے ہیں قانون کی بجائے مرضی پرمحیط ہیں، ججز کی دیانتداری پرشک نہیں ہوناچاہیے،ایک سال سے زیادہ ٹرائل نہیں چلناچاہیے،انصاف میں تاخیر کی ذمہ داری صرف عدلیہ پرنہیں ڈالی جاسکتی،قانون بناناپارلیمنٹ کی ذمہ داری جبکہ ہماری ذمہ داری قانون کو لاگو کروانا ہے۔

کراچی میں جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بروقت انصاف کی فراہمی عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔سول جج اور سپریم کورٹ کے جج میں کوئی فرق نہیں ہے۔تمام ججز کی ذمہ داریاں یکساں ہیں۔انہوں نے کہاکہ انصاف میں تاخیر کی ذمہ داری صرف عدلیہ پرنہیں ڈالی جاسکتی۔فیصلوں میں تاخیرکے ذمہ دارصرف ہم نہیں ہیں۔ججز کی 6گھنٹے کی ڈیوٹی ہے اور ایک کیس کیلئے صرف ایک منٹ ہوتاہے۔

انصاف کی فراہمی میں سب کوحصہ ڈالناہوگا۔آئین کے آرٹیکل 4کے تحت انصاف کی فراہمی ہرشہری کابنیادی حق ہے۔تمام شہری قانون کی پاسداری کے پابند ہیں۔انہوں نے کہاکہ لوگوں کوشکایت ہے کہ انصاف وقت پرنہیں ملتا۔قانون میں سقم کی وجہ سے فیصلوں میں تاخیرہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ کیس کے فیصلے کیلئے 90روز کافی ہوتے ہیں۔کوڈ آف کنڈکٹ میں اگرترامیم کرناپڑیں توکریں۔

ہائیکورٹ کے ججز تین ماہ سے پرانے کیسزکوایک ماہ میں نمٹائیں ۔ری ہیئرنگ میں کوئی کیس نہ ڈالا جائے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک سال سے زیادہ ٹرائل نہیں چلناچاہیے۔ہاتھ جوڑ کرکہتاہوں کہ سماعت کیلئے دوبارہ کیس نہیں آناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ قانون کے مطابق انصاف فراہم کرناہے من مرضی کے فیصلے نہیں کرنے ہیں۔بدقسمتی سے اس وقت جوفیصلے آرہے ہیں وہ قانون کی بجائے مرضی پرمحیط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ججز کی دیانتداری پرکسی کوشک نہیں ہوناچاہیے۔انصاف بک نہیں سکتا،مجھے اور ججز کوکوئی معافی نہیں۔انہوں نے کہاکہ قانون میں اصلاحات کس نے کرنی ہیں؟ قانون بناناہماری ذمہ داری نہیں ہمارا کام قانون کوسیکھنا اور لاگو کرنا ہے۔عدلیہ نے قانون پرعملدرآمد کروانا ہے۔انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ سپریم ہے قانون بنانااسی کی ذمہ داری ہے۔

آئین کے آرٹیکل 212میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ نئے قوانین نہ بنے تواصلاحات کابھی کوئی فائدنہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں قانون بنادیں پھر ججز کوتاہی کریں تومیں ذمہ دارہوں گا۔ہم مختلف افسران کوبلاتے ہیں اور ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتے ہیں۔لیکن ججز کوعدالت میں طلب نہیں کرسکتا۔لہذا آپ پرزیادہ ذمہ داری ہوتی ہے۔کہ آپ قانون کے نفاذ کیلئے محتاط رہناچاہیے۔انصاف بک نہیں سکتا اللہ نے اپنی صفت آپ کوتفویض کی ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/01/2018 - 19:04:27

اس خبر پر آپ کی رائے‎

Justice can not be booked, and I do not have any excuse, Chief Justice Supreme Court Unfortunately, this time, what is the process, there are other conditions for the law, not to be a guardian of judges, do not have to run trial for a year, the responsibility for delay in justice can not be judged, the law of making the law is the responsibility of the legislation. Addressing a Judicial Conference

Chief Justice of Supreme Court Justice Saqib Nisar has said that justice can not be booked, I do not forgive judges and unfortunately, unfortunately, people are optimistic instead of the law; the duty of judges should not be a guardian, not a trial over a year. To execute, the responsibility of delay in justice can not only be judged as judiciary, the responsibility of making a law, and our responsibility to enforce the law.

Related : Chief Justice, Supreme Court

متعلقہ عنوان :