مکلی ایک تاریخی قبرستان ہی نہیں بلکہ ہزاروں مدفن افراد کی شاہکار تاریخ بھی ہے ..
تازہ ترین : 1

مکلی ایک تاریخی قبرستان ہی نہیں بلکہ ہزاروں مدفن افراد کی شاہکار تاریخ بھی ہے ،وزیراعلیٰ سندھ

پہلی عالمی کانفرنس کے نتیجے میں تحقیق دانوں اور ماہرین سے مکلی کی بہتری و ترقی کیلئے ملنے والی سفارشات کو ہم اپنائیں گے،تقریب سے خطاب

مکلی ایک تاریخی قبرستان ہی نہیں بلکہ ہزاروں مدفن افراد کی شاہکار تاریخ ..
ٹھٹھہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جنوری2018ء) وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ تاریخی ورثہ مکلی ایک تاریخی قبرستان ہی نہیں بلکہ ہزاروں مدفن افراد کی شاہکار تاریخ بھی ہے اور مکلی پر منعقدہ پہلی عالمی کانفرنس کے نتیجے میں تحقیق دانوں اور ماہرین سے مکلی کی بہتری و ترقی کیلئے ملنے والی سفارشات کو ہم اپنائیں گے اور اس پر عملدرآمد بھی کروائیں گے۔

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ عالمی ورثہ مکلی قبرستان کو لاحق خطروں کو دور کرنے اور درپیش تمام مسائل کو بھی دور کیا جائے گا۔ ان باتوں کا اظہار آج انہوں نے مکلی میں محکمہ سیاحت، ثقافت اور نوادرات کی جانب سے منعقدہ دو روزہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت اور نوادرات سید سردار علی شاہ، صوبائی وزیر فشریز و لائیواسٹاک محمد علی ملکانی، سینیٹر سسئی پلیجو، ایم پی اے رخسانہ شاہ، ایم پی اے سید سردار احمد، اینڈومینٹ فنڈ ٹرسٹ کے سیکیرٹیر حمید آخوند، ڈاکٹر رفیق مغل، یونیسکو کے نمائنرے قاضی ایاز مہیسر، ضلعی صدر پ پ صادق علی میمن، جنرل سیکیرٹری پ پ ضلع ٹھٹھہ امتیاز احمد قریشی، پ پ رہنما ڈاکٹر عبدالواحد سومرو، مکلی و غیر ملکی تاریخدانوں، محققین، آثار قدیمہ کے ماہرین، صحافیوں، ادیبوں اور دانشوروں کے علاوہ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک ہوئے، وزیر اعلی سندھ نے تقریب کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت اور نوادرات سید سردار علی شاہ اور ان کی ٹیم کو مکلی پر منعقدہ پہلی عالمی کانفرنس پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ تاریخی مکامات کی بہتری کیلئے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں وہ محکمہ ثقافت، سیاحت اور نوادرات کے ساتھ بھرپور تعاون اور مدد فراہم کریں گے۔ انہوں نے کانفرنس میں شریک لوگوں کو مکلی قبرستان کے تحفظ کے حوالے سے زور دیتے ہوئے کہا کہ مکلی کا تاریخی قبرستان آپ کا اپنا تاریخی سرمایہ ہے اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس تاریخی مقام کی ترقی و فروغ کیلئے حکومت سندھ سے تعاون کریں اور غیر ملکی ماہرین سے تعاون کرکے اس تاریخی مقام کو اپنائیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ٹھٹھہ کے عوام کے ساتھ ہے اور اس عظیم تاریخی سرمائے کی دیکھ بھال کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ کے ہر خطے کی ثقافت و تہذیب شاہوکار ہے اور موہن جو دڑو کی بھی اپنی ایک اہمیت ہے۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے عوام پر زور دیا کہ ہم سب کو صوبہ سندھ میں موجود آثار قدیمہ اور تاریخی مقامات کو آنے والی نسل کیلئے محفوظ کرنے کیلئے کوشیں کرنی چاہییں تاکہ آئندہ نسل ہم کو اچھے الفاظ میں یاد رکھے۔

وزیر اعلی سندھ نے مزید کہا کہ پ پ کی اعلی قیادت اور سندھ حکومت عوام کی خدمت میں بھرپور یقین رکھتی ہے اور اس سلسلے میں چند روز قبل سیہون شریف میں امراض قلب کے متعلق جدید اسپتال کا افتتاح بھی کیا گیا ہے اور ضلع ٹھٹھہ میں بھی اس قسم کی جدید اسپتال کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ قبل ازیں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے مکلی پر منعقدہ دو روزہ عالمی کانفرنس کا باقاغدہ آغاز کرکے افتتاح کیا گیا۔

اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت اور نوادرات سید سردار علی شاہ، سینیٹر سسئی پلیجو اور صوبائی وزیر محمد علی ملکانی کی جانب سے وزیر اعلی سندھ کا ہیلی پیڈ پر بھرپور استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت اور نوادرات سید سردار علی شاہ نے کانفرنس کے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ مکلی قبرستان کی اہم بات یہاں پر بادشاہ اور عام آدمی ایک ساتھ مدفون ہے اور یہاں کے لوگ زندگی سے زیادہ موت سے پیار کرتے تھے وہ زندگی میں ہی اپنی قبر خود بنا لیتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مکلی انسانی تاریخ کا عظیم ورثا ہے، یونیسکو میں اس کا کیس مضبوطی سے پیش کیا اور مکلی کو عالمی ورثے سے ڈی لسٹ ہونے سے بچایا، یونیسکو کے تعاون کے شکر گذار ہیں جنہوں نے ورلڈ ہیریٹیج لسٹ میں مکلی کو برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مکلی کے ورثہ کی بحالی، صفائی ستھرائی، سیاحوں کیلئے شٹلز اور دیگر مطلوبہ سہولیات مہیا کیں اور ہم اسی ہی طرح جوش و چذبہ سے سندھ کے تمام تاریخی مقامات کو محفوظ اور بہتر بنائیں گے اور مکلی قبرستان کے متعلق یونیسکو کی جانب سے سفارشات پرعملدرآمد کروائیں گے۔

اس موقع پر سینیٹر سسئی پلیجو نے کانفرنس سے خطاب کرتے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد کئی محکمے صوبوں کو منتقل ہوئے جس کے تحت آرکیالاجی کے 29 میوزیم اور دیگر تاریخی مقامات صوبہ سندھ کے حصے میں آئے مگر بدقسمتی سے سندھ کے تاریخی مقامات بدحالی کا شکار تھے جن کو موجودہ سندھ حکومت نے بہتر بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اپنے محدود وسائل سے تاریخی مقامات کی بحالی کیلئے کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکلی پر محکمہ ثقافت، سیاحت و نوادرات کی جانب سے عالمی کانفرنس کا انعقاد مثبت اور کامیابی کی طرف پہلا قدم ہے اور محکمہ ثقافت کے وزیر اور اس کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ دو روزہ مکلی پر عالمی کانفرنس کے پہلے روز کے اختتام پر تمام سیشنز پورے کئے گئے اور شریک مہمانوں کو مکلی قبرستان پر سینیئر صحافی وسعت اللہ خان کی جانب سے بنائی گئی ڈاکیومینٹری فلم بھی دکھائی گئی اس کے علاوہ ایندومنٹ فنڈ ٹرسٹ کے سیکریٹری حمید آخوند، ڈاکٹر رفیق مغل و دیگر مححققین کی جانب سے مکلی قبرستان کی مختلف تاریخی، ثقافتی اور علمی و ادبی پہلوں پر جامع تقرریں اور مقالمے بھی پیش کئے گئے۔

علاوہ ازیں مکلی عالمی کانفرنس کے سلسلے میں مختلف تاریخی اشیا کے اسٹالز بھی لگائے گئے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/01/2018 - 20:26:18

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :