انقلاب باتوں یا دعویٰ سے نہیں کام سے آئیگا‘ وزیر اعظم
تازہ ترین : 1

انقلاب باتوں یا دعویٰ سے نہیں کام سے آئیگا‘ وزیر اعظم

انقلاب باتوں یا دعویٰ سے نہیں کام سے آئیگا‘  وزیر اعظم
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جنوری2018ء) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ عوام کا جمہوریت کے سفر میں جو فیصلہ ہو گا قبول کریں گے ‘ انقلاب باتوں یا دعویٰ سے نہیں بلکہ کام کرنے سے آئیگا‘ آج پوری دنیا موبائل فون کے ذریعے ہماری جیب میں ہے‘ دنیا بدل چکی ہے آنے والا وقت ای کامرس کا ہے ‘ امیدہے نوجوان روزگار حاصل کر کے دہشتگردی کو شکست دیں گے ‘ ہماری حکومت نے تھری جی اور فور جی کے لائسنس شفاف طریقے سے دئیے ‘ ملک میں روزگار کی فراہمی کا کام آئی ٹی انقلاب سے ہو گا۔

ہفتہ کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نیشنل انکیوبیشن سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے یہ ادارہ سنگ میل ثابت ہو گا۔ یہ ادارہ ایک پائلٹ پروجیکٹ ہے (ن) لیگ کی حکومت نے اربوں کی گیس ‘ روڈ اور بجلی پیدا کی ہے۔ یہ پروجیکٹ سب سے اہم ہے کیونکہ یہ نوجوانوں کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ مستقبل کی پیش گوئی کرنا ناممکن ہے لیکن ہم کوشش کر رہے ہیں یہ وہ ادارے ہیں جو دیگر اداروں کو راستہ دکھاتے ہیں کہ کس طرح آئی ٹی ریولوشن لائے گی۔

حکومت صرف اکیلے تمام مسائل حل نہیں کر سکتی۔ یہ ممکن نہیں کہ حکومت تمام نوجوانوں کو نوکریاں دے۔ یہ پرائیویٹ سیکٹر کا بھی کام ہے۔ ہم نے انٹرنیٹ کی سہولت فاٹا کے علاقوں تک پہنچا دی ہے۔ براڈ بینڈ سہولت پورے ملک میں پہنچانا حکومت کا کام ہے اور حکومت اپنا کام کر رہی ہے۔ نوجوانو ں کو روزگار ملنے سے آئی ٹی کے شعبے میں انقلاب آئے گا۔ انٹرنیٹ عوام کی بنیادی ضرورت ہے۔

اس سے دنی اآپ کے گھر میں آ جاتی ہے۔ ہر بچے کو علم کے ذرائع انٹرنیٹ کے ذریعے مل رہے ہیں۔ ہم تنقید کرنا جانتے ہیں لیکن کام کرنا مشکل کام ہے۔ آئی ٹی کے شعبے نے کام کر کے دکھایا ہے۔ ان کی ساری ٹیم میرٹ پر لی گئی اور کام نہیں کریں گے تو گھر جائیں گے۔ ان لوگوں نے کام کر کے دکھایاہے۔ اس حکومت نے عوام کے کام کئے اور فیصلے بھی عوام نے کر نے ہیں۔

جمہوریت پر ہی ہم نے چلنا ہے۔ اس طرح کے ادارے مشعل راہ ہیں تاکہ لوگ دیکھ سکیں کہ یہ چیز ممک ہے یہ سفر چلتا رہہے گا۔ ہمارے بچوں میں بے پناہ مہارتیں موجود ہیں۔ کے پی میں میں خود پڑھا ہوں۔ اس علاقے کے لوگوں بہت محنت کش اورہنر مند ہیں۔ پشاور کے لوگ 19 ویں صدی میں روس تک تجارت کرتے تھے ہم نے موقع دینا ہے کہ کس طرح آگے بڑھا جائے۔ وزارت آئی ٹی اس کام کو آگے بڑھائے گی۔

یہ پہلی حکومت ہے جس نے اس شعبے پر توجہ دی۔ اس سے قبل پیچھے رہنے کی وجہ سے کرپشن تھی ہم نے شفاف طریقے سے تھری جی اور فور جی لائسنس دئیے ۔ شفاف طریقے سے مستقبل میں کاروبار انٹرنیٹ کے ذریعے ہو گا۔ ای کامرس دنیاکا مستقبل ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو مواقع دینے ہیں کہ ان مواقعوں سے فائدہ اتھائیں تاکہ وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہو سکیں۔ کراچی اور کوئٹہ اس پروجیکٹ کا اگلا پڑائو ہو گا۔ ہم نے اس گھر کو آگے لے کر جانا ہے۔ انوشہ رحمن صاحبہ اپنی سربراہی میں آئی ٹی میں منصوبوں کو مکمل کر رہی ہیں۔ اسلامیہ کالج ایک تاریخی ادار ہے۔ اس ادار ے کو جدید تقاضوں سے منسلک کریں گے اور رقم مختص کی جائے گی ۔ اس ضمن میں سرکاری اور نجی شراکت داری سے ہم مزید منصوبے بھی مکمل کریں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/01/2018 - 15:24:08

اس خبر پر آپ کی رائے‎