سندھ میں 2017کے دوران 1894 بچے لاپتہ ہوئے ۔ رکن سندھ اسمبلی
تازہ ترین : 1

سندھ میں 2017کے دوران 1894 بچے لاپتہ ہوئے ۔ رکن سندھ اسمبلی

سندھ میں 2017کے دوران 1894 بچے لاپتہ ہوئے ۔ رکن سندھ اسمبلی
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔13 جنوری۔2018ء)سندھ میں 2017کے دوران 1894 بچے لاپتہ ہوئے۔ اس بات کا انکشاف سندھ اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے اپنے توجہ دلاﺅ نوٹس پر کیا۔انہوں نے کہاکہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کے لاپتہ ہونے کا معاملہ انتہائی تشویشناک ہے۔ حکومت سندھ کو اس کا نوٹس لینا چاہئے اور ان بچوں کی بازیابی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

انہوں نے لاپتہ بچوں کی تفصیلات پیش کرنے کے لیے بھی حکومت سندھ پر زور دیا۔حکومت سندھ کی طرف سے وزیر اعلیٰ سندھ کی مشیر برائے سماجی بہبود شمیم ممتاز نے لاپتہ بچوں کے ان اعدادو شمار کی تصدیق نہیں کی لیکن ایوان کو بتایا کہ حکومت لاپتہ بچوں کی بازیابی کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر قانون سازی کی بھی ضرورت ہے۔کراچی کے علاقے ناظم آباد میں پانی کی لائنیں ٹوٹ جانے سے متعلق ایم کیو ایم کے رکن جمال احمد کے توجہ دلاﺅنوٹس پر وزیر بلدیات جام خان شورو نے کہا کہ انہیں ان لائنوں کے بارے میں تفصیلات دی جائیں۔ ان کی مرمت کے لیے کارروائی کی جائے گی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/01/2018 - 13:24:52

اس خبر پر آپ کی رائے‎

In the year 2017, 1894 children were missing. Member Sindh Assembly

In the year 2017, 1894 children were missing. In this Sindh Assembly, in the Sindh Assembly, Naseer Sahar Abbasi, female member of PML-N, did not pay attention to his attention. He said that the case of such a large number of children is missing. The Sindh government should take its notice and take measures to recover these children

Related : Assembly, Sindh

متعلقہ عنوان :