قومی اسمبلی اجلاس: خطاب کی اجازت نہ ملنے پر عائشہ گل لئی نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ ..
تازہ ترین : 1

قومی اسمبلی اجلاس: خطاب کی اجازت نہ ملنے پر عائشہ گل لئی نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

قومی اسمبلی اجلاس: خطاب کی اجازت نہ ملنے پر عائشہ گل لئی نے ایجنڈے کی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جنوری2018ء) سپیکر کی جانب سے نو لفٹ ۔ پی ٹی آئی کی منحرف رکن اسمبلی عائشہ گلالئی نے احتجاجاً ایجنڈے کی کاپیاں ہوا میں اڑا کر ایوان سے واک آئوٹ کیا ۔ جمعہ کے روز قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب پی ٹی آئی کی منحرف رکن اسمبلی عائشہ گلالئی نے اپنی نشست پر کھڑے ہوکر بات کرنے کی اجازت چاہی مگر اسے اجازت نہ مل سکی جس پرعائشہ گلالئی سپیکر ڈائس کے قریب پہنچ گئی اور وہاںپر اسمبلی سیکرٹریٹ کے افسران سمیت سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج کیا مگر سپیکر قومی اسمبلی نے اسے بولنے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد عائشہ گلالئی شدید غصے میں اپنی نشست پر جاتے ہوئے سپیکر کے رویئے کیخلاف احتجاجاً واک آئوٹ کرکے چلی گئی اس دوران ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا واضح رہے کہ عائشہ گلالئی کے احتجاج کے دوران تحریک انصاف کے اراکین نے اس کی جانب کوئی توجہ نہیں دی اور جب عائشہ گلالئی اپنی سیٹ پر پہنچی تو کھڑے ہوکر شدید احتجاج کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں ہوا میں اڑادی اور ایوان سے واک آئوٹ کرگئیں ۔

اس خبر نوں پنجابی وچ پڑھو
وقت اشاعت : 12/01/2018 - 19:28:40
National Assembly meeting: Aisha Guli should take copies of the agenda if she did not get permission

Nine lift from the speaker. Aptia Gulali, the PTI member of the Tehreek-e-Insaf (PTI), copied copies of the protest agenda by blowing the air in the house. During the National Assembly session on Friday, interesting situation arose when the PTI's powerful member Aishwarya Gullai wanted to stand on her seat and allowed permission to talk, but she could not get permission, which reached near Gulalai Speaker Dias. And there, protesters were not allowed to talk to Speaker National Assembly Sardar Ayaz Sadiq, including the officers of the Assembly Secretariat but the Speaker did not allow the Speaker to speak it after which Aisha Gulalai went on his seat in the anger of behavior. During the protests, the protest was carried out and MQM members of the assembly were b It is clear that the situation is clear that during the protest of Aishan Gulali, during the protest of Aishwarya Gulalai, the members of the TTP did not pay attention to it and when Aisha Gulalai arrived at her seat, standing up and protesting with a severe protest, the agenda of Agadhi flew into the air. Come on