دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں بڑی قربانیوں سے حاصل کی ہیں انہیں ضائع نہیں ..
تازہ ترین : 1

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں بڑی قربانیوں سے حاصل کی ہیں انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے-ڈی جی ‘آئی ایس پی آر

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں بڑی قربانیوں سے حاصل کی ہیں انہیں ..
راولپنڈی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 جنوری۔2018ء) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مشکل مرحلہ تھا لیکن مربوط منصوبے کے تحت ملک میں امن قائم کرلیا جو اب خراب نہیں ہونے دیں گے ہم چاہتے ہیں افغانستان میں امن قائم ہو۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک انٹرویو میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف تمام آپریشن مختلف تھے لیکن پاکستانی قوم نے ثابت کیا ہم پرعزم قوم ہیں پاکستان نے اس جنگ میں 100 فیصد نتائج دیے اور ملک میں امن قائم کرتے ہوئے ہدف حاصل کرلیا لیکن افغانستان کچھ نہ کرسکا جبکہ چاہتے ہیں کہ افغانستان سے کوئی ادھر ادھر نہ آجاسکے۔

انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈرمینجمنٹ امن کے لئے ضروری ہے جبکہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ جڑی اپنی 2600 کلومیٹر سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر دیا ہے، بارڈرمینجمنٹ سے متعلق مکینزم پر افغانستان کو دستاویزات بھی بھیجے ہیں اور اگر بارڈر مکینزم طے پا گیا تو سرحد کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں۔ڈی جی‘ آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان جنگ سے پہلے پاکستان میں دہشت گردی نہیں تھی اور اب پاکستان کو افغان جنگ سے پہلے والی پر امن صورتحال پر لے جانا چاہتے ہیں جبکہ پاکستان نے بہت سی معلومات افغانستان سے شیئر کی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دارپاکستان کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا، افغانستان جنگ میں پاک فوج کے تمام چیفس نے بہترین کام لیا، جنرل کیانی نے انسداد دہشت گردی جنگ کی منصوبہ بندی کی۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے اور بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری سے ظاہر ہوگیا کہ بھارت دہشت گردی میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تناظر میں بلوچستان بہت اہم ہے، پاک فوج کی پوری توجہ بلوچستان کی طرف ہے اور پاکستان کا بارڈر ایران کے ساتھ بھی لگتا ہے، ایران سے بارڈر کمیونی کیشن بہتر ہورہی ہے۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ عمومی امن کو پائیدار امن میں بدلنا آرمی چیف جنرل باجوہ کا مشن ہے ہم نے اپنی طرف امن قائم کرلیا اب افغانستان کو بھی امن قائم کرنا ہوگا، قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا امن خراب نہیں ہونے دیں گے۔

ڈی جی ‘آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ دہشت گردی کےخلاف جنگ مشکل مرحلہ تھا ہم نے پاکستان میں امن قائم کرلیا افغانستان کو بھی امن قائم کرنا ہوگا۔ڈی جی ‘آئی ایس پی آر نے کہا کہ جسمانی طور پر جنگ ختم ہو گئی ہے ، موجودہ مرحلہ مشکل ہے پائیدار امن کے لیے پاکستان اور افغانستان کو اقدامات کرنے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ 2017 میں بھارت کی سیز فائرکی خلاف ورزیاں بقیہ تمام سالوں سے زیادہ ہیں، کلبھوشن کا کیس بھی سامنے ہے کہ کیسے اس نے عدم استحکام کی کوشش کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دارپاکستان کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا، افغانستان جنگ میں پاک فوج کے تمام چیفس نے بہترین کام لیا، جنرل کیانی نے انسداد دہشتگردی جنگ کی منصوبہ بندی کی۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے اور بھارتی خفیہ ایجنسی’ ’را“ کے جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری سے ظاہر ہوگیا کہ بھارت دہشت گردی میں ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تناظر میں بلوچستان بہت اہم ہے، پاک فوج کی پوری توجہ بلوچستان کی طرف ہے اور پاکستان کا بارڈر ایران کے ساتھ بھی لگتا ہے، ایران سے بارڈر کمیونی کیشن بہتر ہورہی ہے۔
وقت اشاعت : 12/01/2018 - 11:02:58

اس خبر پر آپ کی رائے‎

The successes of the war against terrorism have been derived from great sacrifices, they will not let them go waste. DG 'ISPR

DG ISPR Major General Asif Ghafoor said that the fight against terrorism was a difficult phase but established a peaceful peace process in the country, which would not let us go down. We want peace in Afghanistan. Major General Asif Ghafoor's spokesman said in an interview that all the operations against terrorism were different, but the Pakistani nation proved that we are a people belonging to Pakistan, giving 100 percent results in the war and achieving the target by establishing peace in the country. Afghanistan could not do anything but wanted to do nothing from Afghanistan