عدالت عالیہ میں میرپور ماتھیلو سی( ہندو ) نو مسلم لڑکی کے مبینہ اغوا کا معاملہ

سندھ ہائیکورٹ کے نوٹس پر ڈی آئی جی سکھر ،ایس ایس پی گھوٹکی ،تفتیشی افسر چیف جسٹس کے روبرو چیمبر میں پیش، چیف جسٹس کو رپورٹ پیش کر دی گئی لڑکی کو اغوا نہیں کیا گیا ،لڑکی نے مسلمان ہو کر اسلام قبول کیااور عبدالغفار کوری سے شادی کر لی

جمعرات 11 جنوری 2018 22:54

میرپور ماتھیلو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 جنوری2018ء) عدالت عالیہ میں میرپور ماتھیلو سی( ہندو ) نو مسلم لڑکی کے مبینہ اغوا کا معاملہ ۔سندھ ہائی کورٹ کے نوٹس پر ڈی آئی جی سکھر ،ایس ایس پی گھوٹکی اور تفتیشی افسر چیف جسٹس کے روبرو چیمبر میں پیش۔ چیف جسٹس کو رپورٹ پیش کر دی گئی ۔لڑکی کو اغوا نہیں کیا گیا لڑکی نے مسلمان ہو کر اسلام قبول کیا ۔

اسلام قبول کرنے کے بعد لڑکی نے عبدالغفار کوری سے شادی کر لی ۔نو مسلم لڑکی خدیجہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ میرپور ماتھیلو کی عدالت میں پیش ہو کر 164کا بیان ریکارڈ کروایا ۔مبینہ اغواکا مقدمہ بھی درج کیا گیا اور مشکوک افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ۔ ایس ایس پی گھوٹکی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کا متن ۔ تفصیلات کے مطابق عدالتِ عالیہ میں میرپور ماتھیلو سے سابقہ ہندو لڑکی لچھمی پوجا کے مبینہ اغوا کا نوٹس لیے جانے کے معاملے پر ڈی آئی جی سکھر خادم حسین رند ،ایس ایس پی گھوٹکی مسعود احمد بنگش اور تفتیشی افسرعدالتِ عالیہ کے حکم پر ذاتی حیثیت سے طلب کیے جانے پر چیف جسٹس کے سامنے چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش ہو ئے ۔

(جاری ہے)

ایس ایس پی گھوٹکی مسعود احمد بنگش کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ چیف جسٹس کے سامنے پیش کی گئی ۔ پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مبینہ اغوا ہونے والی سابقہ ہندو لڑکی پوجا کو اغوا نہیں کیا گیا بلکہ لڑکی نے اسلام قبول کرنے کے بعدعبدالغفار نامی شخص سے شادی کر کے اپنا گھر بسا لیا ہے جبکہ نو مسلم لڑکی نے جوڈیشل مجسٹریٹ میرپور ماتھیلو کی عدالت میں پیش ہو کر 164کے تحت بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اقرار کیا کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ وہ اپنی رضا خوشی سے مسلمان ہو ئی اور عبدالغفار سے شادی کی اب اس کا اسلامی نام خدیجہ بی بی ہے ۔

رپورٹ میں یہبھی واضح کیا گیا ہے کہ لڑکی کے مبینہ اغوا کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا اور شک کی بنیاد پر کچھ گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں تھیں ۔ واضح رہے کہ تین روز قبل مذکورہ واقعہ کے حوالے سے عدالت عالیہ کی جانب سے نوٹس لیا گیا تھا اور پیش ہونے والے پولیس افسران کو ذاتی حیثیت سے طلب کیا گیا تھا جبکہ لڑکی کے مبینہ اغوا ، لڑکی کی بازیابی، اغوا کا مقدمہ درج کیے جانے اور ملزمان کو گرفتاری کیے جانے سے متعلق رپورٹ طلب کر رکھی تھی ۔

متعلقہ عنوان :