سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ضلع ناظم اور نائب ناظم سمیت ضلع کونسل کے 21 ارکان کو ڈی سیٹ کردیا

muhammad ali محمد علی ہفتہ 23 دسمبر 2017 22:28

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ضلع ناظم اور ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 دسمبر2017ء) سپریم کورٹ آف پاکستان کے تحریک انصاف کے ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ضلع ناظم اور نائب ناظم سمیت ضلع کونسل کے 21 ارکان کو ڈی سیٹ کردیا ۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس عمر عطا بندیال نے تقریبا ڈھائی سال سے جاری مقدمے کا فیصلہ سنایا اور ضلع ناظم ایبٹ آباد شیر بہادر اور نائب ناظم شوکت تنولی سمیت ضلع کونسل کے 21 ارکان کو ڈی سیٹ کردیا۔

ضلع کونسل کے ارکان کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد دوبارہ الیکشن کراکے نئے ارکان اور ناظم و نائب ناظم منتخب کیے جائیں گے خیال رہے کہ 30 مئی 2015 کو خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے اور صوبائی حکمران جماعت پی ٹی آئی اکثر ضلعوں میں حکومتیں بنانے میں کامیاب ہوئی تھی پی ٹی آئی کی جانب سے ضلع ناظم ایبٹ آباد کی نشست کیلئے علی جدون کو نامزد کیا گیا تھا لیکن پی ٹی آئی کے ہی شیر بہادر نے اپنے ساتھیوں سمیت بغاوت کرتے ہوئے ن لیگ سے اتحاد کرلیا۔

(جاری ہے)

بلدیاتی انتخابات میں شیر بہادر اور شوکت تنولی مسلم لیگ ن کی حمایت کے ساتھ بالترتیب ضلع ناظم اور نائب ناظم منتخب ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے علی جدون انتخاب ہار گئے۔فلور کراسنگ پر تحریک انصاف کے نامزد امیدوار علی جدون نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا جہاں اس کیس کا تقریبا ڈھائی سال بعد فیصلہ سنایا گیا ہے۔

متعلقہ عنوان :